کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اناج کے عوض میں ، اناج فروخت کرنا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُنَاسٌ ، فَقَالَ لِبِلَالٍ : " ائْتِنَا بِطَعَامٍ " . فَذَهَبَ بِلَالٌ ، فَأَبْدَلَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ [ مِنْ تَمْرٍ ] جَيِّدٍ ، وَكَانَ تَمْرُهُمْ دُونًا ، فَأَعْجَبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ أَيْنَ هَذَا التَّمْرُ ؟ " فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَبْدَلَ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ہمارے پاس کچھ کھانے کے لئے کچھ لے آؤ ! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گئے ۔ انہوں نے کھجوروں کے دو صاع کے عوض میں عمدہ قسم کی کھجوروں کا ایک صاع لیا ان حضرات کی کھجوریں ہلکی قسم کی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کھجوریں پسند آئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : یہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں ؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ انہوں نے ایک صاع کے عوض میں دو صاع کھجوریں دی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہماری کھجوریں ہمارے پاس واپس لے آؤ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6549
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5710) اخرجه احمد فى المسند (21/2)»
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ فَبِعْتُهُ فِي السُّوقِ بِتَمْرٍ أَجْوَدَ مِنْهُ بِنِصْفِ كَيْلِهِ فَقَدَّمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا رَأَيْتُ الْيَوْمَ تَمْرًا أَجْوَدَ مِنْهُ . مِنْ أَيْنَ هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " . فَحَدَّثْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فَقَالَ : " انْطَلِقْ ، فَرُدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ ، وَخُذْ تَمْرَكَ ، فَبِعْهُ بِحِنْطَةٍ ، أَوْ شَعِيرٍ ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مِنْ هَذَا التَّمْرِ " . فَفَعَلْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ . وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ . وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ . وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ . وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ . فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَهُوَ رِبًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : " فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلَا بَأْسَ ، وَاحِدٌ بِعَشَرَةٍ " . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ بِلَالٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْ سَعِيدٌ مِنْ بِلَالٍ . وَلَهُ فِي الطَّبَرَانِيُّ أَسَانِيدُ بَعْضُهَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ بِلَالٍ بِاخْتِصَارٍ ، عَنْ هَذَا ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ ، وَبَعْضُهَا مِنْ رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ بِلَالٍ بِنَحْوِ الْأَوَّلِ ، وَإِسْنَادُهَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس کھجوریں موجود تھیں میں نے انہیں بازار میں ان سے زیادہ عمدہ کھجوروں کے عوض میں فروخت کر دیا اور ان سے آدھی کھجوریں حاصل کیں ، پھر میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے فرمایا : میں نے آج جتنی عمدہ کھجوریں نہیں دیکھیں ، اے بلال ! یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ میں نے جو کیا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! یہ کھجوریں اس کے مالک کو واپس کر دو ، اور اپنی کھجوریں واپس لے لو ، پھر ان کھجوروں کو گندم ، یا جو کے عوض میں فروخت کرو اور پھر ان کے عوض میں یہ کھجوریں خرید لو ، میں نے ایسا ہی کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین برابر برابر ہو گا ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین برابر برابر ہو گا ، جو کے عوض - میں جو کا لین دین برابر برابر ہو گا ، نمک کے عوض میں نمک کا لین دین برابر برابر ہو گا ، چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر کے وزن کے ساتھ ہو گا ، جو اضافی ادائیگی ہو گی ، وہ سود شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” جب دونوں طرف دو مختلف چیزیں ہوں ، تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ، خواہ دس کے عوض میں ایک ہو “ ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم انہوں نے اسے سعید بن مسیب کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور سعید نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کی طبرانی میں بھی کچھ اسانید ہیں ، جن میں سے بعض میں یہ مذکور ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، یہ روایات اس روایت سے مختصر ہیں اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، جبکہ بعض راویات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں اور یہ پہلی روایت کی مانند ہیں ، لیکن ان کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6550
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1314) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 1017»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَمْرِ الرَّيَّانِ ، فَقَالَ : " أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ ؟ " . قَالُوا : كَانَ عِنْدَنَا تَمْرُ بَعْلٍ ، فَبِعْنَاهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " رُدُّوهُ عَلَى صَاحِبِهِ ، فَبِيعُوهُ بِعَيْنٍ ، ثُمَّ ابْتَاعُوا التَّمْرَ " . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” ریان “ نامی کھجوریں لائی گئیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہیں ؟ لوگوں نے بتایا ہمارے پاس ” بعل “ کھجوریں تھیں ، تو ہم نے ایک صاع کے عوض میں ان کے دو صاع فروخت کر دیئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس کے مالک کو واپس کر دو ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم یہ اس کے مالک کو واپس کر دو ، پھر اس کو ( یعنی اپنی کھجوروں کو ) عین ( یعنی سونا یا چاندی ) کے عوض میں فروخت کرو اور پھر ( اس سونا یا چاندی کے عوض میں ) یہ کھجوریں خرید لو “ ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6551
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1317)»
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : اشْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرًا ، فَأُتِيَ بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَةٍ ، فَلَمَّا جَاءُوا بِهِ أَنْكَرَهُ ، وَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ " . قَالُوا : بِعْنَا بِصَاعَيْنِ ، فَأَتَيْنَا بِصَاعٍ . فَقَالَ : " رُدُّوهُ رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی خواہش کا اظہار کیا ، تو آپ کے پاس عجوہ کھجوروں کا ایک صاع لایا گیا جب وہ آپ کے پاس آیا ، تو آپ کو اس پر حیرانگی ہوئی آپ نے دریافت کیا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نے دو صاع کھجوریں فروخت کیں تو پھر ( ان کا ) ایک صاع لے کر آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے واپس کر دو ! اسے واپس کر دو ، ہمیں اس کی حاجت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبان بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6552
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (751)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ " . - وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا - فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ ؟ قَالَ : " لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو دینار کے عوض میں ، ایک دینار فروخت نہ کرو ، دو درہم کے عوض میں ایک درہم فروخت نہ کرو ، دو صاع کے عوض میں ایک صاع فروخت نہ کرو ، مجھے تمہارے بارے میں رماء کا اندیشہ ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ” رماء “ سے مراد سود ہے ، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو کچھ گھوڑوں کے عوض میں ایک گھوڑا فروخت کرتا ہے یا اونٹ کے عوض میں اونٹنی فروخت کر دیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ دست بدست لین دین ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت کی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناد ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6553
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ حَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ ، مَنْ زَادَ ، أَوِ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . وَالْجُمْهُورُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر برابر ہو گا ، چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر ہو گا اور نقد ہو گا جو شخص زیادہ دے ، یا زیادہ کا مطالبہ کرے ، تو وہ سود کا کام کرے گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6554
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1016) اخرجه احمد (11556)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ كَيْلًا بِكَيْلٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ أَعْرِفْ عَبْدَ الْمُؤْمِنِ هَذَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سونے کے عوض میں سونے کا لین دین ، چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین ، جو کے عوض میں جو کا لین دین ، نمک کے عوض میں نمک کا لین دین اور کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین برابر ، برابر ماپ کے مطابق ہو گا ، جو شخص زیادہ دے ، یا زیادتی کا طلبگار ہو ، وہ سود کا مرتکب ہو گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبدالمؤمن کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدالمؤمن نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6555
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5716)»
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحِنْطَةِ بِالتَّمْرِ بِفَضْلٍ يَدًا بِيَدٍ ؟ فَقَالَ : قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَشْتَرِي الصَّاعَ الْحِنْطَةَ بِسِتِّ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ يَدًا بِيَدٍ . فَإِنْ كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا فَلَا خَيْرَ فِيهِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کھجور کے عوض میں گندم کے نقد ، اضافی لین دین کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم گندم کا ایک صاع ، کھجور کے چھ صاع کے عوض میں نقد لین دین میں فروخت کرتے تھے ، لیکن اگر دونوں طرف ( اناج کی ) ایک ہی قسم ہو ، تو پھر اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے البته اگر دونوں طرف برابر ہو ، تو حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6556
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2207)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ ، وَازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّ صَاحِبَ تَمْرِكَ يَشْتَرِي صَاعًا بِصَاعَيْنِ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَمْرِي كَذَا وَكَذَا لَا يَأْخُذُوهُ إِلَّا أَنْ أَزِيدَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْعَلْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سونے کے عوض میں سونے کا لین دین ، چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین ، جو کے عوض میں جو کا لین دین ، نمک کے عوض میں نمک کا لین دین برابر ، برابر ہو گا ، جو شخص اضافی ادائیگی کرے ، یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو تو وہ سود کا کام کرے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ کی کھجوروں کے نگران صاحب تو دو صاع کے عوض میں ، ایک صاع فروخت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو پیغام بھیج کر بلایا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری کھجوریں ایسی ، ایسی ہیں ، لوگ صرف اس وقت ہی انہیں لیتے ہیں ، جب میں انہیں اضافی ادائیگی کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6557
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعَدِيَّ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي بِالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ ، وَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا يَعْرِفُ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا يَا أَبَا أُسَيْدٍ ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ ، وَصَاعُ حِنْطَةٍ بِصَاعِ حِنْطَةٍ ، وَصَاعُ شَعِيرٍ بِصَاعِ شَعِيرٍ ، وَصَاعُ مِلْحٍ بِصَاعِ مِلْحٍ ، لَا فَضْلَ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ " . ¤ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَقُولُهُ بِرَأْيِي ، وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما دو دینار کے عوض میں ایک دینار کے ( کے لین دین جائز ہونے کا ) فتویٰ دیتے تھے ، سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سخت کلمات استعمال کیے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابواسید ! میں یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرے رشتے کو جانتے ہوئے میرے بارے میں اس طرح کے کلمات کہے گا ، تو سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دینار کے عوض میں دینار کا لین دین ، درہم کے عوض میں درہم کا لین دین ، گندم کے ایک صاع کے عوض میں گندم کا ایک صاع ، جو کے ایک صاع کے عوض میں جو کا ایک صاع ، نمک کے ایک صاع کے عوض میں نمک کا ایک صاع ( لین دین کیا جائے گا ) ان دونوں کے درمیان کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہو گی “ ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ فتوی میں اپنی رائے کے حوالے سے دیا کرتا تھا ، میں نے اس بارے میں کوئی روایت نہیں سنی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6558
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (268/19)»