مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ بِالطَّعَامِ . باب: اناج کے عوض میں ، اناج فروخت کرنا
حدیث نمبر: 6552
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : اشْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرًا ، فَأُتِيَ بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَةٍ ، فَلَمَّا جَاءُوا بِهِ أَنْكَرَهُ ، وَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ " . قَالُوا : بِعْنَا بِصَاعَيْنِ ، فَأَتَيْنَا بِصَاعٍ . فَقَالَ : " رُدُّوهُ رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی خواہش کا اظہار کیا ، تو آپ کے پاس عجوہ کھجوروں کا ایک صاع لایا گیا جب وہ آپ کے پاس آیا ، تو آپ کو اس پر حیرانگی ہوئی آپ نے دریافت کیا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نے دو صاع کھجوریں فروخت کیں تو پھر ( ان کا ) ایک صاع لے کر آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے واپس کر دو ! اسے واپس کر دو ، ہمیں اس کی حاجت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبان بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔