حدیث نمبر: 6550
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ فَبِعْتُهُ فِي السُّوقِ بِتَمْرٍ أَجْوَدَ مِنْهُ بِنِصْفِ كَيْلِهِ فَقَدَّمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا رَأَيْتُ الْيَوْمَ تَمْرًا أَجْوَدَ مِنْهُ . مِنْ أَيْنَ هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " . فَحَدَّثْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فَقَالَ : " انْطَلِقْ ، فَرُدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ ، وَخُذْ تَمْرَكَ ، فَبِعْهُ بِحِنْطَةٍ ، أَوْ شَعِيرٍ ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مِنْ هَذَا التَّمْرِ " . فَفَعَلْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ . وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ . وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ . وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ . وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ . فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَهُوَ رِبًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : " فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلَا بَأْسَ ، وَاحِدٌ بِعَشَرَةٍ " . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ بِلَالٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْ سَعِيدٌ مِنْ بِلَالٍ . وَلَهُ فِي الطَّبَرَانِيُّ أَسَانِيدُ بَعْضُهَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ بِلَالٍ بِاخْتِصَارٍ ، عَنْ هَذَا ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ ، وَبَعْضُهَا مِنْ رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ بِلَالٍ بِنَحْوِ الْأَوَّلِ ، وَإِسْنَادُهَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس کھجوریں موجود تھیں میں نے انہیں بازار میں ان سے زیادہ عمدہ کھجوروں کے عوض میں فروخت کر دیا اور ان سے آدھی کھجوریں حاصل کیں ، پھر میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے فرمایا : میں نے آج جتنی عمدہ کھجوریں نہیں دیکھیں ، اے بلال ! یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ میں نے جو کیا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! یہ کھجوریں اس کے مالک کو واپس کر دو ، اور اپنی کھجوریں واپس لے لو ، پھر ان کھجوروں کو گندم ، یا جو کے عوض میں فروخت کرو اور پھر ان کے عوض میں یہ کھجوریں خرید لو ، میں نے ایسا ہی کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین برابر برابر ہو گا ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین برابر برابر ہو گا ، جو کے عوض - میں جو کا لین دین برابر برابر ہو گا ، نمک کے عوض میں نمک کا لین دین برابر برابر ہو گا ، چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر کے وزن کے ساتھ ہو گا ، جو اضافی ادائیگی ہو گی ، وہ سود شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” جب دونوں طرف دو مختلف چیزیں ہوں ، تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ، خواہ دس کے عوض میں ایک ہو “ ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم انہوں نے اسے سعید بن مسیب کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور سعید نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کی طبرانی میں بھی کچھ اسانید ہیں ، جن میں سے بعض میں یہ مذکور ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، یہ روایات اس روایت سے مختصر ہیں اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، جبکہ بعض راویات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں اور یہ پہلی روایت کی مانند ہیں ، لیکن ان کی سند ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6550
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1314) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 1017»