مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ بِالطَّعَامِ . باب: اناج کے عوض میں ، اناج فروخت کرنا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ " . - وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا - فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ ؟ قَالَ : " لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو دینار کے عوض میں ، ایک دینار فروخت نہ کرو ، دو درہم کے عوض میں ایک درہم فروخت نہ کرو ، دو صاع کے عوض میں ایک صاع فروخت نہ کرو ، مجھے تمہارے بارے میں رماء کا اندیشہ ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ” رماء “ سے مراد سود ہے ، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو کچھ گھوڑوں کے عوض میں ایک گھوڑا فروخت کرتا ہے یا اونٹ کے عوض میں اونٹنی فروخت کر دیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ دست بدست لین دین ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت کی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناد ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔