مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ بِالطَّعَامِ . باب: اناج کے عوض میں ، اناج فروخت کرنا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ ، وَازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّ صَاحِبَ تَمْرِكَ يَشْتَرِي صَاعًا بِصَاعَيْنِ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَمْرِي كَذَا وَكَذَا لَا يَأْخُذُوهُ إِلَّا أَنْ أَزِيدَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْعَلْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سونے کے عوض میں سونے کا لین دین ، چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین ، جو کے عوض میں جو کا لین دین ، نمک کے عوض میں نمک کا لین دین برابر ، برابر ہو گا ، جو شخص اضافی ادائیگی کرے ، یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو تو وہ سود کا کام کرے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ کی کھجوروں کے نگران صاحب تو دو صاع کے عوض میں ، ایک صاع فروخت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو پیغام بھیج کر بلایا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری کھجوریں ایسی ، ایسی ہیں ، لوگ صرف اس وقت ہی انہیں لیتے ہیں ، جب میں انہیں اضافی ادائیگی کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔