کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ’’ صرف “ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نَهَوْا عَنِ الصَّرْفِ . رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ” بیع صرف “ سے منع کیا کرتے تھے ، ان میں سے دو افراد نے اس بات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6559
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1285) اخرجه احمد فى المسند (381,437/2 و 297 و (298)»
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَشْتَرُونَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقَ نَسِيئَةً إِلَى الْعَطَاءِ فَأَتَى عَلَيْهِمْ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ ، فَنَهَاهُمْ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً ، وَأَنْبَأَنَا أَوْ أَخْبَرَنَا : " أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ چاندی کے عوض میں سونا خرید لیا کرتے تھے ، جو اس وقت تک ادھار ہوتا تھا ، جب انہیں تنخواہ ملتی تھی ، ہشام بن عامر ان لوگوں کے پاس آئے اور انہوں نے ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کر دیا اور یہ بات بیان کی : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم چاندی کو سونے کے عوض میں ادھار فروخت کریں ، انہوں نے ہمیں یہ بات بھی بتائی کہ یہ چیز سود ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6560
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «آخرجه ابو يعلى فى المسند (1554) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (176/22) اخرجه احمد فى المسند (19/4 و21)»
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : خَرَجْتُ بِخَلْخَالَيْنِ أَبِيعُهُمَا ، وَكَانَ أَهْلُنَا قَدِ احْتَاجُوا إِلَى نَفَقَةٍ فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : احْتَاجَ أَهْلُنَا إِلَى نَفَقَةٍ فَأَرَدْتُ بَيْعَ هَذَيْنِ الْخَلْخَالَيْنِ . قَالَ : وَأَنَا قَدْ خَرَجْتُ بِدُرَيْهِمَاتٍ أُرِيدَ بِهَا فِضَّةً أَجْوَدَ مِنْهَا . قَالَ : فَوَضَعَ الْخَلْخَالَيْنِ فِي كِفَّةٍ وَوَضَعَ الدَّرَاهِمَ فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَ الْخَلْخَالَانِ عَلَى الدَّرَاهِمِ شَيْئًا ، فَدَعَا بِمِقْرَاضٍ . قَالَ : قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! هُوَ لَكَ . قَالَ : إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْهُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتْرُكُهُ ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، الزَّائِدُ وَالْمُزْدَادُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ حَفْصُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ؛ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنَ الْقَبَائِحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں پازیبیں لے کر نکلا ، میں انہیں فروخت کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ میرے گھر والوں کو خرچ کی ضرورت تھی ، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے دریافت کیا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ میں نے کہا: میرے گھر والوں کو خرچ کی ضرورت ہے ، تو میں ان دو پازیبوں کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : میں بھی کچھ درہم لے کر نکلا ہوں اور میں ان کے عوض میں ان سے زیادہ عمدہ چاندی حاصل کرنا چاہتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے پازیبیں ایک پلڑے میں رکھیں اور درہم دوسرے پلڑے میں رکھے ، تو پازیبوں والا پلڑا ، درہم والے کے مقابلے میں کچھ وزنی تھا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قینچی منگوائی میں نے کہا: سبحان اللہ اتنی ( اتنی تھوڑی سی چاندی کے لئے کیا قیچی منگوانی ہے ؟ ) یہ آپ کی ہوئی ، انہوں نے فرمایا : اگر تم اسے چھوڑ بھی دو گے ، تو اللہ تعالیٰ اسے نہیں چھوڑے گا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر برابر ہو گا ، چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر ہو گا اضافی ادائیگی کرنے والا یا جس کو اضافی ادائیگی کی گئی ہو ، وہ جہنم میں جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار کی سند میں ایک راوی حفص بن ابوحفص ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ، ہم اس چیز سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، جو اس کی طرف قبیح باتیں منسوب کی گئی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6561
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1318) اخرجه ابو يعلي فى المسند (55)»
وَعَنْ شُرَحْبِيلَ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى " . . ¤ قَالَ شُرَحْبِيلُ : إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ ، فَأَدْخَلَنِي اللَّهُ النَّارَ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَشُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
شرحبیل بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر برابر ہو گا چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر ہو گا اور دونوں طرف عین کے عوض میں عین ہو گا ، جو شخص اضافی ادائیگی کرے یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو ، تو وہ سود کا کام کرے گا “ ۔ شرحبیل نے یہ بات بیان کی : اگر میں نے ان کی زبانی یہ بات نہ سنی ہو ، تو اللہ تعالیٰ مجھے جہنم میں داخل کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے شرحبیل بن سعد نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6562
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَشْتَرِي الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ ، [ أَوِ ]الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ ؟ قَالَ : " إِذَا اشْتَرَيْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ فَلَا يُفَارِقْكَ صَاحِبُكَ ، وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ فِي السُّنَنِ أَنَّهُ كَانَ يَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْفِضَّةِ ، وَيَقْبِضُ الْفِضَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کیا میں چاندی کے عوض میں سونے کو خرید سکتا ہوں یا سونے کے عوض میں چاندی کو خرید سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے عوض میں خریدو ، تو تمہارا ساتھی جب تم سے جدا ہو تو تمہارے اور اس کے درمیان کوئی التباس نہیں ہونا چاہیے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سنن میں مذکور ہے کہ وہ چاندی کے عوض میں اونٹ فروخت کر دیتے تھے اور چاندی قبضے میں لے لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5628)»
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : كُنْتُ أَصُوغُ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثْنَنِي : أَنَّهُنَّ سَمِعْنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْبَكَّاءُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لئے کپڑے رنگنے ( یا سنیارے ) کا کام کیا کرتا تھا تو انہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر کے وزن کے ساتھ ہو گا ، جو شخص اضافی ادائیگی کرے گا ، یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو ، تو وہ سود کا کام کرے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بکا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6564
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عُبَادَةَ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ؛ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر برابر ہو گا اور چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن صبیح ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1319)»
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الصَّرْفِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرَيْنِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ تَارِيخٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ السَّقَّاءُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے دو ماہ پہلے بیع صرف کرنے سے منع کر دیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ان کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض میں سونے کے لین دین سے منع کر دیا تھا اور اس میں تاریخ کا ذکر نہیں ہے ( کہ کتنا عرصہ پہلے کیا تھا ؟ ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6566
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1320)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى " . ¤ وَاللَّهِ مَا كَذَبَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر کے وزن کے ساتھ ہو گا اضافی ادائیگی کرے ، یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو ، تو وہ سود کا کام کرے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! سیدنا عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی جھوٹی بات بیان نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ، ان میں سے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : آخُذُ الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ؟ قَالَ : عَيْنُ الرِّبَا فَلَا تَقْرَبْهُ ؛ هَلْ شَعَرْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : " خُذُوا الْمِثْلَ بِالْمِثْلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَبِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
بشر بن حرب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : کیا میں دو درہموں کے بدلے میں ایک درہم وصول کر لوں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ عین سود ہے ، تم اس کے قریب بھی نہ جانا ، کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہے : تم برابر کا لین دین کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے بشر بن حرب نامی راوی ضعیف ہے اس کے بارے میں کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6568
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي الْمُعَارِكِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ غَافِقٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مَهْرَةَ مِائَةُ دِينَارٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ ، فَغَنِمُوا غَنِيمَةً ، فَقَالَ الْمَهْرِيُّ : أُعَجِّلُ لَكَ سَبْعِينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ تَمْحُوَ عَنِّيَ الْمِائَةَ . وَكَانَتِ الْمِائَةُ مُسْتَأْخَرَةً فَرَضِيَ الْغَافِقِيُّ بِذَلِكَ فَمَرَّ بِهِمَا الْمِقْدَادُ ، فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ لِيَشُدَّهُ ، فَلَمَّا قَصَّ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ قَالَ : كِلَاكُمَا قَدْ أَذِنَ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَأَبُو الْمُعَارِكِ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ غَيْرَ أَنَّ الْمِزِّيَّ ذَكَرَهُ فِي تَرْجَمَةِ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَمَّاهُ عَلِيًّا أَبَا الْمُعَارِكِ الْوَادِيَّ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابومعارک بیان کرتے ہیں : غافق سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ، مہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ایک سو دینار دینے تھے ، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے کی بات ہے ، لوگوں کو شک ہے ، تو مہری شخص نے کہا: میں تمہیں ستر دینار فوراً ادا کر دیتا ہوں ، اس شرط پر کہ تم باقی کے دینار مجھے معاف کر دو ، کیونکہ ان ایک سو دینار کی ادائیگی کا مخصوص وقت ابھی نہیں آیا تھا ، غافقی شخص اس بات پر راضی ہو گیا ، سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ ان دونوں کے پاس سے گزرے ، تو اس شخص نے ان کے جانور کی لگام پکڑی ، تاکہ انہیں روک لے ، پھر انہیں پوری بات بیان کی ، تو انہوں نے فرمایا : تم دونوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا اعلان کر دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابومعارک کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، البتہ امام مزی نے عیاش بن عباس کے حالات میں ان کا ذکر کیا ہے اور اس کا نام ابومعارک الوادی بیان کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6569
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (252/20)»
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُرَخِّصُ فِي الدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمَيْنِ ، وَالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَقِيَ عُمَرَ ، وَعَلِيًّا ، وَأَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ فَلَمَّا رَجَعَ رَأَيْتُهُ يَطُوفُ بِالصَّيَارِفَةِ ، وَيَقُولُ : وَيَلْكُمُ يَا مَعْشَرَ النَّاسِ ، لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا ، وَلَا تَشْتَرُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ، وَلَا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن ایاس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دو درہموں کے عوض میں ایک درہم اور دو دینار کے عوض میں ایک دینار کا لین دین کرنے کی رخصت دیا کرتے تھے ، پھر وہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے ، وہاں ان کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر اصحاب سے ہوئی ان حضرات نے ایسا کرنے سے منع کیا ، جب وہ واپس آئے ، تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ بیع صرف کرنے والوں کا چکر لگا رہے تھے ، اور یہ فرما رہے تھے : تمہارا ستیاناس ہو ! اے لوگوں کے گروہ ! تم سود نہ کھاؤ اور دو درہموں کے عوض میں ایک درہم ، یا دو دینار کے عوض میں ایک دینار نہ خریدو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8577)»