مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ بِالطَّعَامِ . باب: اناج کے عوض میں ، اناج فروخت کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَمْرِ الرَّيَّانِ ، فَقَالَ : " أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ ؟ " . قَالُوا : كَانَ عِنْدَنَا تَمْرُ بَعْلٍ ، فَبِعْنَاهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " رُدُّوهُ عَلَى صَاحِبِهِ ، فَبِيعُوهُ بِعَيْنٍ ، ثُمَّ ابْتَاعُوا التَّمْرَ " . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” ریان “ نامی کھجوریں لائی گئیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہیں ؟ لوگوں نے بتایا ہمارے پاس ” بعل “ کھجوریں تھیں ، تو ہم نے ایک صاع کے عوض میں ان کے دو صاع فروخت کر دیئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس کے مالک کو واپس کر دو ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم یہ اس کے مالک کو واپس کر دو ، پھر اس کو ( یعنی اپنی کھجوروں کو ) عین ( یعنی سونا یا چاندی ) کے عوض میں فروخت کرو اور پھر ( اس سونا یا چاندی کے عوض میں ) یہ کھجوریں خرید لو “ ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔