مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ بِالطَّعَامِ . باب: اناج کے عوض میں ، اناج فروخت کرنا
حدیث نمبر: 6556
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحِنْطَةِ بِالتَّمْرِ بِفَضْلٍ يَدًا بِيَدٍ ؟ فَقَالَ : قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَشْتَرِي الصَّاعَ الْحِنْطَةَ بِسِتِّ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ يَدًا بِيَدٍ . فَإِنْ كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا فَلَا خَيْرَ فِيهِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کھجور کے عوض میں گندم کے نقد ، اضافی لین دین کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم گندم کا ایک صاع ، کھجور کے چھ صاع کے عوض میں نقد لین دین میں فروخت کرتے تھے ، لیکن اگر دونوں طرف ( اناج کی ) ایک ہی قسم ہو ، تو پھر اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے البته اگر دونوں طرف برابر ہو ، تو حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔