عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " طَعَامُ يَوْمٍ فِي الْعُرْسِ سُنَّةٌ ، وَطَعَامُ يَوْمَيْنِ فَضْلٌ ، وَطَعَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شادی کے موقع پر ایک دن کھانا کھلانا سنت ہے دو دن کھلانا فضیلت رکھتا ہے اور تین دن کھلانا ریاکاری اور شہرت کا حصول ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ ، وَالثَّانِيَةُ فَضْلٌ ، وَالثَّالِثَةُ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ ، وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پہلے دن ولیمہ حق ہے دوسرے دن فضیلت ہے ( یا اضافی ہے ) اور تیسرے دن ریاء کاری اور شہرت ہے اور جو شخص شہرت چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کو ظاہر کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْأَكْبَرَ حِينَ وُلِدَ أَرَادَتْ فَاطِمَةُ أَنْ تَعِقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَعِقِّي عَنْهُ ، وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ثُمَّ وَلَدَتْ حُسَيْنًا بَعْدَ ذَلِكَ فَصَنَعَتْ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما جب پیدا ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے عقیقے میں دونبے قربان کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ تم اس کا سر مونڈ کر اس کے بالوں کے وزن جتنی چاندی اللہ کی راہ میں صدقہ کرو ، پھر جب ان کے بعد سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا قَالَتْ : أَلَا أَعِقُّ عَنِ ابْنِي بِدَمٍ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ فِضَّةً عَلَى الْمَسَاكِينِ وَالْأَوْقَاصِ " . وَكَانَ الْأَوْقَاصُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُحْتَاجِينَ فِي الصُّفَّةِ ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ . فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت مذکور ہے وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تھا تو انہوں نے عرض کی : کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے ایک جانور کی قربانی کے ذریعے عقیقہ نہ کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم اس کا سر مونڈ کر اس کے بالوں کے وزن جتنی چاندی غریبوں اور اوقاص کو صدقہ کر دو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اوقاص سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ تھے جو محتاج تھے اور وہ صفہ کے چبوترے یا مسجد میں رہا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ حدیث حسن ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِرَأْسِ الْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ يَوْمَ سَابِعِهِمَا فَحُلِقَ ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِوَزْنِهِ فِضَّةً ، وَلَمْ يَجِدْ ذِبْحًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ( کی پیدائش پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کا سر مونڈ دیا گیا اور پھر ان کے ( بالوں ) کے وزن جتنی چاندی صدقہ کر دی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذبح کرنے کے لئے ( کوئی جانور ) نہیں ملا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کی معجم کبیر کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی سند حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کی معجم کبیر کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی سند حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ ؟ قَالَ : " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ " . كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ ، وَقَالَ : " مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ " . ¤
محمد محی الدین
بنوضمرہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں عقوق ( نافرمانی ) کو پسند نہیں کرتا ہوں ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) گویا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو ناپسند کیا آپ نے ارشاد فرمایا : جس کا بچہ پیدا ہو اگر وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی کرنے کو پسند کرے تو وہ کر لے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ [ عَنْ ] عَمِّهِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں راوی نے اپنے والد یا شاید اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ان میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَقِيقَةِ قَالَ : " مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے عقیقہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کا بچہ پیدا ہو وہ اگر اس کی طرف سے قربانی کرنے کو پسند کرتا ہو ، تو ایسا کر لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْعَقِيقَةُ حَقٌّ عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُحْتَجٌّ بِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” عقیقہ حق ہے ، جس میں لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے راویوں سے استدلال کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے راویوں سے استدلال کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا عقیقہ کروایا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ بِكَبْشَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ( دونوں میں سے ہر ایک ) کے عقیقہ میں دو دنبے ذبح کروائے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَعَقَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ شَاتَيْنِ شَاتَيْنِ يَوْمَ السَّابِعِ ، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الْأَذَى ، وَقَالَ : " اذْبَحُوا عَلَى اسْمِهِ ، وَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ [ اللَّهُمَّ ] مِنْكَ وَلَكَ هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ " . قَالَ : وَكَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُؤْخَذُ قُطْنَةٌ فَتُجْعَلُ فِي دَمِ الْعَقِيقَةِ ، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ أَبِي يَعْلَى : إِسْحَاقَ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں لڑکے کے عقیقے میں دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کے عقیقے میں ایک بکری ذبح کی جائے گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے عقیقے میں ( ان کے پیدائش کے ) ساتویں دن دو ، دو بکریاں قربان کروائی تھیں آپ نے یہ حکم دیا تھا ان کے سر سے بالوں کو صاف کر دیا گیا تھا آپ نے فرمایا : اس کے نام پر ذبح کرو اور یہ کہو : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے : اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ( ملا ) ہے اور تیرے لئے ہے اور یہ فلاں کا عقیقہ ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں لوگ روئی کا ٹکڑا لے کر اسے عقیقہ ( کے جانور ) کے خون میں ڈال کر پھر بچے کے سر پر رکھ دیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا خون کی جگہ خلوق ( نام کی خوشبو لگا دی جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام ابویعلیٰ کے استاد اسحاق کا معاملہ مختلف ہے میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام ابویعلیٰ کے استاد اسحاق کا معاملہ مختلف ہے میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْيَهُودَ تَعِقُّ عَنِ الْغُلَامِ كَبْشًا ، وَلَا تَعِقُّ عَنِ الْجَارِيَةِ أَوْ تَذْبَحُ - الشَّكُّ مِنْهُ أَوْ مِنْ أَبِيهِ - فَعِقُّوا أَوِ اذْبَحُوا عَنِ الْغُلَامِ كَبْشَيْنِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ كَبْشًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي حَفْصٍ الشَّاعِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہودی ، لڑکے کے عقیقے میں ایک دنبہ قربان کرتے ہیں اور لڑکی کے عقیقے میں کچھ بھی قربان نہیں کرتے ہیں ۔ ( یہاں ایک لفظ کے بارے راوی کو ہے یا یہ شک راوی کو ہے یا اس کے والد کو ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم تو لوگ لڑکے کی طرف سے دو دنبے ذبح کرو اور لڑکی کی طرف سے ایک دنبہ ذبح کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ابوحفص شاعر کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ابوحفص شاعر کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بچے کا عقیقہ ہو گا تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی ( یعنی بالوں کو ) دور کر دو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لِلْغُلَامِ عَقِيقَتَانِ وَلِلْجَارِيَةِ عَقِيقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لڑکے کے دو عقیقے ہوں گے ( یعنی اس کے عقیقے میں دو جانور قربان کیے جائیں گے ) اور لڑکی کا ایک عقیقہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران بن عیینہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران بن عیینہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ سَابِعِهِ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى وَسَمُّوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بچے کی پیدائش کا ساتواں دن ہو ، تو اس کی طرف سے جانور قربان کرو اور اس سے تکلیف دہ چیز ( یعنی سر کے بالوں ) کو دور کر دو اور اس کا نام تجویز کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر نیا پیدا ہونے والا بچہ ، اپنے عقیقہ کے عوض میں رہن رکھا گیا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَلْيَعِقَّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ ، وَالْبَقَرِ ، وَالْغَنَمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کا بیٹا پیدا ہو وہ اس کے عقیقے میں اونٹ یا گائے یا بکری قربان کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعدہ بن یسع ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعدہ بن یسع ہے اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فِي الْإِبِلِ فَرَعٌ ، وَفِي الْغَنَمِ فَرَعٌ ، وَيُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ ، وَلَا يُمَسُّ رَأْسُهُ بِدَمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ : عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِيهِ ، وَهُنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن عبداللہ مزنی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اونٹ میں فرع ہو گا بکری میں فرع ہو گا لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے گا ، البتہ اس پر خون نہیں لگایا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے یزید بن عبداللہ مزنی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ نہیں کہا: ان کے والد سے منقول ہے جبکہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ عبداللہ کے حوالے سے ان کے والد سے مذکور ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے یزید بن عبداللہ مزنی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ نہیں کہا: ان کے والد سے منقول ہے جبکہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ عبداللہ کے حوالے سے ان کے والد سے مذکور ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ] بِكَبْشَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے عقیقے میں دو دو دنبے ( قربان کیے تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کا عقیقہ کروایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا عقیقہ کروایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ وَخَتَنَهُمَا لِسَبْعَةِ أَيَّامٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ الْخِتَانِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ لِينٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا عقیقہ کروایا تھا اور ساتویں دن ان کے عقیقے کروائے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں صرف ختنہ کرنے کا ذکر ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوسری ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں صرف ختنہ کرنے کا ذکر ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوسری ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَعِقُّ عَنْ بَنِيهِ الْجَزُورَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کا ، اونٹ قربان کر کے ، عقیقہ کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔