مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ أَيَّامِ الْوَلِيمَةِ . باب: ولیمہ کے ایام
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا قَالَتْ : أَلَا أَعِقُّ عَنِ ابْنِي بِدَمٍ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ فِضَّةً عَلَى الْمَسَاكِينِ وَالْأَوْقَاصِ " . وَكَانَ الْأَوْقَاصُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُحْتَاجِينَ فِي الصُّفَّةِ ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ . فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت مذکور ہے وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تھا تو انہوں نے عرض کی : کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے ایک جانور کی قربانی کے ذریعے عقیقہ نہ کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم اس کا سر مونڈ کر اس کے بالوں کے وزن جتنی چاندی غریبوں اور اوقاص کو صدقہ کر دو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اوقاص سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ تھے جو محتاج تھے اور وہ صفہ کے چبوترے یا مسجد میں رہا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ حدیث حسن ہے ۔