مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ أَيَّامِ الْوَلِيمَةِ . باب: ولیمہ کے ایام
حدیث نمبر: 6180
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْأَكْبَرَ حِينَ وُلِدَ أَرَادَتْ فَاطِمَةُ أَنْ تَعِقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَعِقِّي عَنْهُ ، وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ثُمَّ وَلَدَتْ حُسَيْنًا بَعْدَ ذَلِكَ فَصَنَعَتْ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما جب پیدا ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے عقیقے میں دونبے قربان کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ تم اس کا سر مونڈ کر اس کے بالوں کے وزن جتنی چاندی اللہ کی راہ میں صدقہ کرو ، پھر جب ان کے بعد سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا ۔