حدیث نمبر: 6189
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَعَقَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ شَاتَيْنِ شَاتَيْنِ يَوْمَ السَّابِعِ ، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الْأَذَى ، وَقَالَ : " اذْبَحُوا عَلَى اسْمِهِ ، وَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ [ اللَّهُمَّ ] مِنْكَ وَلَكَ هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ " . قَالَ : وَكَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُؤْخَذُ قُطْنَةٌ فَتُجْعَلُ فِي دَمِ الْعَقِيقَةِ ، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ أَبِي يَعْلَى : إِسْحَاقَ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں لڑکے کے عقیقے میں دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کے عقیقے میں ایک بکری ذبح کی جائے گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے عقیقے میں ( ان کے پیدائش کے ) ساتویں دن دو ، دو بکریاں قربان کروائی تھیں آپ نے یہ حکم دیا تھا ان کے سر سے بالوں کو صاف کر دیا گیا تھا آپ نے فرمایا : اس کے نام پر ذبح کرو اور یہ کہو : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے : اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ( ملا ) ہے اور تیرے لئے ہے اور یہ فلاں کا عقیقہ ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں لوگ روئی کا ٹکڑا لے کر اسے عقیقہ ( کے جانور ) کے خون میں ڈال کر پھر بچے کے سر پر رکھ دیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا خون کی جگہ خلوق ( نام کی خوشبو لگا دی جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام ابویعلیٰ کے استاد اسحاق کا معاملہ مختلف ہے میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6189
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1239) اخرجه ابو يعلي فى المسند (4521)»