مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ أَيَّامِ الْوَلِيمَةِ . باب: ولیمہ کے ایام
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَعَقَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ شَاتَيْنِ شَاتَيْنِ يَوْمَ السَّابِعِ ، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الْأَذَى ، وَقَالَ : " اذْبَحُوا عَلَى اسْمِهِ ، وَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ [ اللَّهُمَّ ] مِنْكَ وَلَكَ هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ " . قَالَ : وَكَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُؤْخَذُ قُطْنَةٌ فَتُجْعَلُ فِي دَمِ الْعَقِيقَةِ ، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ أَبِي يَعْلَى : إِسْحَاقَ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں لڑکے کے عقیقے میں دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کے عقیقے میں ایک بکری ذبح کی جائے گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے عقیقے میں ( ان کے پیدائش کے ) ساتویں دن دو ، دو بکریاں قربان کروائی تھیں آپ نے یہ حکم دیا تھا ان کے سر سے بالوں کو صاف کر دیا گیا تھا آپ نے فرمایا : اس کے نام پر ذبح کرو اور یہ کہو : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے : اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ( ملا ) ہے اور تیرے لئے ہے اور یہ فلاں کا عقیقہ ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں لوگ روئی کا ٹکڑا لے کر اسے عقیقہ ( کے جانور ) کے خون میں ڈال کر پھر بچے کے سر پر رکھ دیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا خون کی جگہ خلوق ( نام کی خوشبو لگا دی جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام ابویعلیٰ کے استاد اسحاق کا معاملہ مختلف ہے میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔