مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ أَيَّامِ الْوَلِيمَةِ . باب: ولیمہ کے ایام
حدیث نمبر: 6196
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فِي الْإِبِلِ فَرَعٌ ، وَفِي الْغَنَمِ فَرَعٌ ، وَيُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ ، وَلَا يُمَسُّ رَأْسُهُ بِدَمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ : عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِيهِ ، وَهُنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤محمد محی الدین
یزید بن عبداللہ مزنی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اونٹ میں فرع ہو گا بکری میں فرع ہو گا لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے گا ، البتہ اس پر خون نہیں لگایا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے یزید بن عبداللہ مزنی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ نہیں کہا: ان کے والد سے منقول ہے جبکہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ عبداللہ کے حوالے سے ان کے والد سے مذکور ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔