عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ . قَالَ : فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ . قَالَ : فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا . قَالَ : فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ ، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هِيَ فَاكْفِئُوهَا " . فَكَفَأْنَاهَا ، وَإِنَّا لَجِيَاعٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں گوہ بہت زیادہ تھیں راوی کہتے ہیں : ہم نے انہیں پکڑا اور انہیں ذبح کر لیا راوی کہتے ہیں : ابھی وہ ہنڈیاؤں میں پکائی جا رہی تھیں کہ اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل کی ایک امت گم ہو گئی تھی مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ وہی نہ ہوں تو تم ان ہنڈیاؤں کو انڈیل دو ! ( راوی کہتے ہیں : ) تو ہم نے انہیں انڈیل دیا حالانکہ ہم بھوکے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ سِبْطًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ هَلَكَ لَا يُدْرَى أَيْنَ مَهْلَكُهُ ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الضِّبَابَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ ذَكَرَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ تَرْجَمَةً فَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ ، أَوْ مُتَّصِلٌ عَلَى رَأْيِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنی اسرائیل کا ایک گروہ ہلاکت کا شکار ہو گیا یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں ہلاکت کا شکار ہوا ؟ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ یہی گوہ ہوں گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے عبدالرحمن بن غنم کے حوالے سے حالات میں یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ روایت ” مرسل “ ہے اور سند کے اعتبار سے حسن ہے جبکہ امام أحمد کی رائے کے مطابق یہ روایت متصل ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے عبدالرحمن بن غنم کے حوالے سے حالات میں یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ روایت ” مرسل “ ہے اور سند کے اعتبار سے حسن ہے جبکہ امام أحمد کی رائے کے مطابق یہ روایت متصل ہے ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَقُولُ فِي الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ فَلَا أَدْرِي أَيَّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ سَمُرَةَ . وَرَوَاهُ مِنْ طُرُقٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَمُرَةَ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی شخص جس کا تعلق بنو فزارہ سے تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کے درمیان میں بات کاٹتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : بنی اسرئیل کے ایک گروہ کو مسخ کر دیا گیا تھا مجھے نہیں معلوم کہ کون سے جانور کی شکل میں انہیں مسخ کیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے حسین بن قبیصہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا سمرہ ر ضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے مختلف طرق کے ساتھ حصین نامی راوی کے حوالے سے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے اسی طرح نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے حسین بن قبیصہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا سمرہ ر ضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے مختلف طرق کے ساتھ حصین نامی راوی کے حوالے سے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے اسی طرح نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُهْدِيَ إِلَيْهِ ضَبٌّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ ؟ فَقَالَ : " لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوہ تحفے کے طور پر پیش کی گئی تو آپ نے اسے نہیں کھایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے غریبوں کو نہ کھلا دیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم انہیں وہ چیز نہ کھلاو جو تم خود نہیں کھاتے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الضَّبَّ أُمَّةٌ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ مُحَالٌ عَلَى حَدِيثِ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گوہ ایک امت تھی جو مسخ ہو کر زمین کے جانوروں کی شکل میں تبدیل ہو گئی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اس روایت کی بنیاد ثابت بن ودیعہ کی نقل کردہ روایت پر ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اس روایت کی بنیاد ثابت بن ودیعہ کی نقل کردہ روایت پر ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ رَجُلٌ : كَيْفَ يَرَى فِي الضَّبِّ ؟ قَالَ : " أُمَّةٌ مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ " . ¤ قَالَ : وَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ فَرَأَى حَجَّامًا يَحْجُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَرْنٍ فَقَالَ : تُمَكِّنُ هَذَا ؟ مِنْ لَحْمِكَ ؟ فَقَالَ : " هَذَا الْحَجْمُ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ گوہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ایک امت مسخ ہو گئی تھی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عیینہ بن بدر اندر آیا اس نے ایک پچھنے والے کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگ کے ذریعے پچھنے لگا رہا تھا اس نے دریافت کیا : کیا آپ اسے اپنے گوشت کے ساتھ ایسا کرنے دے رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پچھنے لگوانا ان سب میں بہتر ہے ، جن طریقوں سے تم علاج کرتے ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَفْتِيهِ فِي الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " لَسْتُ آمِرًا بِهِ ، وَلَا نَاهِيًا عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَ أَنَّا - آلَ مُحَمَّدٍ - لَسْنَا طَاعِمِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اس نے آپ سے گوہ کے بارے میں حکم دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نہ تو اس کے بارے میں حکم دیتا ہوں اور نہ ہی کسی کو اس سے منع کرتا ہوں لیکن ہم یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے اسے نہیں کھائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن حبیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن حبیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ ، عَنِ الضَّبِّ ، فَقَالَ : أَنَا مُنْذُ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ ، فَإِنَّا قَدِ انْتَهَيْنَا عَنْ أَكْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہے میرا یہ عالم ہے کہ ہم اس کو کھانے سے باز آ گئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی نقل کردہ سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی نقل کردہ سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومریم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کھانے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے اور اہل حجاز کے بارے میں وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے اور اہل حجاز کے بارے میں وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أُكِلَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَبٌّ فَقَذَرَهُ وَنَحْنُ نَقْذُرُ مَا قَذَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں گوہ کھائی گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا تھا اور جس چیز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا تھا ہم بھی اسے ناپسند کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : أَهَدَتْ لِي أُخْتِي أُمُّ حَفِيدَةَ أَضُبًّا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَشَاءِ وَمَعَهُ خَالِدٌ - ، وَهُوَ ابْنُ أُخْتِهَا - فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ الْأَضُبَّ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهَا دَجَاجَاتٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَدْرِي مَا هَذَا ؟ قَالَ : " لَا " . ثُمَّ أَمْسَكَ يَدَهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : هَذِهِ أَضُبٌّ ، فَقَالَ : " ذَاكَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ " . فَقَالَ خَالِدٌ : أَحْرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : " لَا " . فَأَكَلَ مِنْهُ خَالِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَهُوَ يَنْظُرُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میری بہن ام حفیدہ نے کچھ گوہ تحفے کے طور پر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد واپس آئے تو آپ کے ساتھ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بھی تھے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوہ کا گوشت پیش کیا آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا آپ یہ گمان کر رہے تھے کہ شاید یہ مرغی کا گوشت ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! پھر آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا میں نے عرض کی : یہ گوہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دیہاتیوں کا کھانا ہے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا یہ حرام ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا گوشت کھایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّهَا أُهْدِيَ لَهَا ضَبٌّ فَأَتَاهَا رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِهَا فَأَمَرَتْ بِهِ فَصُنِعَ ، ثُمَّ قَرَّبَتْهُ إِلَيْهِمَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا يَأْكُلَانِ فَرَحَّبَ بِهِمَا ، ثُمَّ أَخَذَ لِيَأْكُلَ فَلَمَّا أَخَذَ اللُّقْمَةَ إِلَى فِيهِ قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالَتْ : ضَبٌّ أُهْدِيَ لَنَا . قَالَتْ : فَوَضَعَ اللُّقْمَةَ وَأَرَادَ الرَّجُلَانِ أَنْ يَطْرَحَا مَا فِي أَفْوَاهِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْعَلَا إِنَّكُمْ - أَهْلَ نَجْدٍ - تَأْكُلُونَهَا ، وَإِنَّا - أَهْلَ تِهَامَةَ - نَعَافُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ مَعَ ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہیں گوہ تحفے کے طور پر دی گئی ان کی قوم کے دو افراد ان کے پاس آئے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حکم کے تحت اس کا گوشت تیار کیا گیا پھر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں صاحبان کے سامنے وہ گوشت رکھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے یہ دونوں صاحبان کھانا کھا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو خوش آمدید کہا: پھر آپ بھی کھانے میں شریک ہونے لگے جب آپ لقمہ اپنے منہ کی طرف لے کے گئے تو آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یہ گوہ ہے ، جو ہمیں تحفے کے طور پر دی گئی ہے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لقمہ رکھ دیا ان دونوں افراد نے یہ ارادہ کیا کہ منہ میں جو چیز موجود ہے وہ بھی نکال دیتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو تم لوگ اہل نجد اسے کھا لیتے ہو اور ہم لوگ اہل تہامہ اسے نہیں کھاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ ان افراد میں سے ایک ہے جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ ان افراد میں سے ایک ہے جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ سَنَتَيْنِ - أَوْ سَنَةً وَنِصْفًا - مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَ مَرَّةً عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِضَبٍّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُوهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِ قَوْمِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں دو سال ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ڈیڑھ سال سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھتا رہا ہوں میں نے انہیں کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا البتہ ایک مرتبہ انہوں نے یہ حدیث بیان کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کے حوالے سے تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اسے کھا لو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعَةِ أَضُبٍّ عَلَيْهَا تَمْرٌ ، وَسَمْنٌ ، فَقَالَ : " كُلُوا ، فَإِنِّي أَعَافُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزِّمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : مَا أَقْرَبَ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سات گوہ لائی گئیں ان کے ساتھ کھجوریں تھیں اور گھی تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے کھا لو میں اس سے بچ کے رہتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومھزم ہے اور وہ ضعیف ہے امام أحمد کہتے ہیں یہ کتنا مقارب الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومھزم ہے اور وہ ضعیف ہے امام أحمد کہتے ہیں یہ کتنا مقارب الحدیث ہے ۔
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ ابْنِهِ الْقَاسِمِ فَقَالَ : غَدَا إِلَى الْكِنَاسَةِ يَطْلُبُ الضِّبَابَ فَقَالَ : أَتَأْكُلُهُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَمَنْ حَرَّمَهُ ؟ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالَ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں عبدالرحمن بن عبداللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے ان کے صاحبزادے قاسم کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا وہ کل کناسہ گیا تھا تاکہ گوہ لے کے آئے اس شخص نے کہا: کیا آپ اسے کھا لیتے ہیں ؟ تو عبدالرحمن نے کہا: اسے حرام کس نے قرار دیا ہے ؟ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : حلال چیز کو حرام قرار دینے والا حرام چیز کو حلال قرار دینے والے کی مانند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔