مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبِّ . باب: گوہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ سَنَتَيْنِ - أَوْ سَنَةً وَنِصْفًا - مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَ مَرَّةً عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِضَبٍّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُوهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِ قَوْمِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں دو سال ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ڈیڑھ سال سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھتا رہا ہوں میں نے انہیں کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا البتہ ایک مرتبہ انہوں نے یہ حدیث بیان کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کے حوالے سے تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اسے کھا لو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔