مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبِّ . باب: گوہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6072
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ ابْنِهِ الْقَاسِمِ فَقَالَ : غَدَا إِلَى الْكِنَاسَةِ يَطْلُبُ الضِّبَابَ فَقَالَ : أَتَأْكُلُهُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَمَنْ حَرَّمَهُ ؟ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالَ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں عبدالرحمن بن عبداللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے ان کے صاحبزادے قاسم کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا وہ کل کناسہ گیا تھا تاکہ گوہ لے کے آئے اس شخص نے کہا: کیا آپ اسے کھا لیتے ہیں ؟ تو عبدالرحمن نے کہا: اسے حرام کس نے قرار دیا ہے ؟ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : حلال چیز کو حرام قرار دینے والا حرام چیز کو حلال قرار دینے والے کی مانند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔