مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبِّ . باب: گوہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّهَا أُهْدِيَ لَهَا ضَبٌّ فَأَتَاهَا رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِهَا فَأَمَرَتْ بِهِ فَصُنِعَ ، ثُمَّ قَرَّبَتْهُ إِلَيْهِمَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا يَأْكُلَانِ فَرَحَّبَ بِهِمَا ، ثُمَّ أَخَذَ لِيَأْكُلَ فَلَمَّا أَخَذَ اللُّقْمَةَ إِلَى فِيهِ قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالَتْ : ضَبٌّ أُهْدِيَ لَنَا . قَالَتْ : فَوَضَعَ اللُّقْمَةَ وَأَرَادَ الرَّجُلَانِ أَنْ يَطْرَحَا مَا فِي أَفْوَاهِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْعَلَا إِنَّكُمْ - أَهْلَ نَجْدٍ - تَأْكُلُونَهَا ، وَإِنَّا - أَهْلَ تِهَامَةَ - نَعَافُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ مَعَ ضَعْفِهِ . ¤سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہیں گوہ تحفے کے طور پر دی گئی ان کی قوم کے دو افراد ان کے پاس آئے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حکم کے تحت اس کا گوشت تیار کیا گیا پھر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں صاحبان کے سامنے وہ گوشت رکھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے یہ دونوں صاحبان کھانا کھا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو خوش آمدید کہا: پھر آپ بھی کھانے میں شریک ہونے لگے جب آپ لقمہ اپنے منہ کی طرف لے کے گئے تو آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یہ گوہ ہے ، جو ہمیں تحفے کے طور پر دی گئی ہے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لقمہ رکھ دیا ان دونوں افراد نے یہ ارادہ کیا کہ منہ میں جو چیز موجود ہے وہ بھی نکال دیتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو تم لوگ اہل نجد اسے کھا لیتے ہو اور ہم لوگ اہل تہامہ اسے نہیں کھاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ ان افراد میں سے ایک ہے جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔