حدیث نمبر: 6073
عَنْ أَبِي زُهَيْرٍ النَّمِيرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَقْتُلُوا الْجَرَادَ ، فَإِنَّهُ جُنْدُ اللَّهِ الْأَعْظَمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوزہیر نمیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ٹڈی دل کو قتل نہ کرو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6074
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَصَبْنَا جَرَادًا فَأَكَلْنَاهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لیا ہمیں ٹڈی دل ملا تو ہم نے اسے کھا لیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6075
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ مَرْيَمَ سَأَلَتْ رَبَّهَا لَحْمًا لَا دَمَ فِيهِ فَأَطْعَمَهَا الْجَرَادَ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ أَحْيِهِ بِغَيْرِ رَضَاعٍ ، وَتَابِعْ بَيْنَهُ بِغَيْرِ شِبَاعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَيَزِيدُ الْعَيْنِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدہ مریم نے اپنے پروردگار سے ایسا گوشت مانگا جس میں خون نہ ہو ، تو پروردگار نے انہیں ٹڈی دل کھانے کے لئے دیا سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ ! اسے رضاعت کے بغیر زندہ رکھنا اور صحبت کے بغیر ان کی نسل کا سلسلہ جاری رکھنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور ایک راوی یزید عینی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور ایک راوی یزید عینی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6076
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ قَالَ : اسْتَفْتَتْنِي امْرَأَةٌ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ؛ عَلَيْكِ بِهِ فَاسْتَفْتِيهِ ، فَانْدَفَعَتْ نَحْوَهُ ، فَاتَّبَعْتُهَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَفْتِنِي عَنِ الْجَرَادِ ؟ قَالَ : ذَكِيٌّ كُلُّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علی بن عبداللہ بارقی بیان کرتے ہیں : مکہ میں ایک خاتون نے مجھ سے مسئلہ دریافت کیا ، تو میں نے کہا: یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موجود ہیں تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے مسئلہ دریافت کرو وہ ان کی طرف چلی گئی میں اس خاتون کے پیچھے گیا تاکہ میں سنوں وہ کیا کہتی ہے ؟ اس خاتون نے کہا: اے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ! آپ مجھے ٹڈی دل کے بارے میں حکم بیان کیجے تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مکمل طور پر ذبح شدہ ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔