مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبِّ . باب: گوہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَقُولُ فِي الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ فَلَا أَدْرِي أَيَّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ سَمُرَةَ . وَرَوَاهُ مِنْ طُرُقٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَمُرَةَ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی شخص جس کا تعلق بنو فزارہ سے تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کے درمیان میں بات کاٹتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : بنی اسرئیل کے ایک گروہ کو مسخ کر دیا گیا تھا مجھے نہیں معلوم کہ کون سے جانور کی شکل میں انہیں مسخ کیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے حسین بن قبیصہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا سمرہ ر ضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے مختلف طرق کے ساتھ حصین نامی راوی کے حوالے سے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے اسی طرح نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔