حدیث نمبر: 6063
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ رَجُلٌ : كَيْفَ يَرَى فِي الضَّبِّ ؟ قَالَ : " أُمَّةٌ مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ " . ¤ قَالَ : وَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ فَرَأَى حَجَّامًا يَحْجُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَرْنٍ فَقَالَ : تُمَكِّنُ هَذَا ؟ مِنْ لَحْمِكَ ؟ فَقَالَ : " هَذَا الْحَجْمُ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ گوہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ایک امت مسخ ہو گئی تھی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عیینہ بن بدر اندر آیا اس نے ایک پچھنے والے کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگ کے ذریعے پچھنے لگا رہا تھا اس نے دریافت کیا : کیا آپ اسے اپنے گوشت کے ساتھ ایسا کرنے دے رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پچھنے لگوانا ان سب میں بہتر ہے ، جن طریقوں سے تم علاج کرتے ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6063
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1216)»