مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبِّ . باب: گوہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : أَهَدَتْ لِي أُخْتِي أُمُّ حَفِيدَةَ أَضُبًّا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَشَاءِ وَمَعَهُ خَالِدٌ - ، وَهُوَ ابْنُ أُخْتِهَا - فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ الْأَضُبَّ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهَا دَجَاجَاتٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَدْرِي مَا هَذَا ؟ قَالَ : " لَا " . ثُمَّ أَمْسَكَ يَدَهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : هَذِهِ أَضُبٌّ ، فَقَالَ : " ذَاكَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ " . فَقَالَ خَالِدٌ : أَحْرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : " لَا " . فَأَكَلَ مِنْهُ خَالِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَهُوَ يَنْظُرُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میری بہن ام حفیدہ نے کچھ گوہ تحفے کے طور پر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد واپس آئے تو آپ کے ساتھ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بھی تھے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوہ کا گوشت پیش کیا آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا آپ یہ گمان کر رہے تھے کہ شاید یہ مرغی کا گوشت ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! پھر آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا میں نے عرض کی : یہ گوہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دیہاتیوں کا کھانا ہے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا یہ حرام ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا گوشت کھایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔