عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَوْ أَجْنَبْتُ وَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا مَا صَلَّيْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ ابْنُ سُفْيَانَ : لَا يُؤْخَذُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر مجھے جنابت لاحق ہو جائے اور ایک ماہ تک پانی نہ ملے ، تو میں نماز ادا نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، ابن سفیان کہتے ہیں : اس کے مطابق فتوی نہیں دیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بسبب الانقطاع؛ کیونکہ ابو عبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
وَعَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِهِ جُدَرِيٌّ ، فَأَمَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقُرِّبَ تُرَابٌ فِي طَسْتٍ أَوْ تَوْرٍ ، فَمَسَحَ بِالتُّرَابِ . ¤ وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کو جدری ( جلد خراب ہونے ) کی بیماری تھی ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت طشت یا برتن میں مٹی اس کے بعد لائی جاتی اور وہ مٹی کے ذریعے مسح کر لیتا تھا ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1405
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، کیونکہ اس کی سند میں ابان بن ابی عیاش ہے جو کہ متروک راوی ہے۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا ، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، قَالَ التِّرْمِذِيُّ : صَدُوقٌ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ - يَعْنِي الْبُخَارِيَّ - يَقُولُ : كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ . قُلْتُ : فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے وہ چیز عطا کی گئی ہے ، جو انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، زمین کی کنجیاں مجھے عطا کی گئی ہیں ، میرا نام أحمد رکھا گیا ، میرے لیے مٹی کو طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا اور میری امت کو سب سے بہتر امت قرار دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں : یہ صدوق ہے ، بعض اہل علم نے اس کے حافظے کے حوالے سے ، اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل ، یعنی امام بخاری رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : أحمد بن حنبل ، اسحاق بن ابراہیم ، اور حمیدی نے ابن عقیل کی نقل کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تو یہ حدیث حسن ہو گی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1406
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَكُونُ فِي الرَّمْلِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ ، فَتَكُونُ فِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ ، فَمَا تَرَى ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَالَ فِيهِ : " عَلَيْكَ بِالْأَرْضِ " ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثْنِي بْنُ الصَّبَاحِ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . وَرَوَى عَيَّاشٌ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ تَوْثِيقَهُ ، وَرَوَى مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ : ضَعِيفٌ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ وَلَا يُتْرَكُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں چار ، یا پانچ ماہ تک ریگستان میں رہتا ہوں ، ہمارے درمیان نفاس والی عورتیں ، حیض والی عورتیں ، اور جنبی لوگ ہوتے ہیں ، تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : تم پر زمین لازم ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اکثر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، عیاش نے یحیی بن معین کے حوالے سے اس کی توثیق نقل کی ہے ، معاویہ بن صالح نے یحیی بن معین کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : یہ ضعیف ہے ، لیکن اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اسے ترک نہیں کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1407
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، جمہور کے نزدیک اس کا راوی مثنی بن الصباح ضعیف ہے۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل ، مسند ابى هريرة رضى الله عنه 7574 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الطهارة جماع ابواب التيمم باب ما روى فى الحائض والنفساء ايكفيهما التيمم عند انقطاع الدم ، 1976 مصنف عبد الرزاق الصنعانى باب الرجل يعزب عن الماء 877 مسند ابي يعلى الموصلي مسند ابي بريرة 5735 المعجم الاوسط للطبراني باب الالف من اسمه احمد 2041»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الصَّعِيدُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيُمِسَّهُ بَشَرَهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . ¤ قُلْتُ : وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مٹی مسلمان کے وضو کا ذریعہ ہے ، خواہ اُسے کئی سال تک پانی نہ ملے ، جب اُسے پانی مل جائے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کو اپنے جسم پر استعمال کر لے ، یہ زیادہ بہتر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس روایت کے بارے میں ہمارے علم کے مطابق ،
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1408
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ونقله ثقات۔
تخریج حدیث «صحيح ابن حبان كتاب الطهارة باب التيمم ذكر الخبر المدحض 1329 مصنف عبد الرزاق الصنعاني باب الرجل يعزب عن الماء حديث 879 السنن الكبرى للنسائي بدء التيمم الصلوات بتيمم واحد 302 سنن الدارقطنى كتاب الطهارة ، باب فى جواز التيمم لمن لم يجد الماء سنين كثيرة 627 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الطهارة جماع ابواب التيمم باب التيمم بالصعيد الطيب 959 ، مسند احمد بن حنبل مسند الانصار ، حديث ابي ذر الغفاري 20848 البحر الزخار مسند البزار عمرو بن بجدان 3364»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ، بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ; الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي عَلَى مَسِيرَةِ شَهْرٍ ، وَأُطْعِمْتُ الْمَغْنَمَ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : " وَكَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَرْيَتِهِ " ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِيهِ بَعْضُ الْمَنَاكِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے تمام بنی نوع انسان ہر سرخ فام ( یعنی سفید فام ) اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، ایک ماہ کی مسافت سے ، میرا دشمن مجھ سے مرعوب ہو جاتا ہے ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ، مجھے شفاعت عطا کی گئی ، تو میں نے قیامت کے دن اپنی امت کے لئے اُسے مؤخر کر دیا ( یعنی سنبھال کر رکھ لیا ) ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ہر نبی کو اُس کی بستی کی طرف مبعوث کیا گیا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے اپنے باپ سے جو روایات نقل کی ہیں ، ان میں کچھ منکر ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1409
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد
تخریج حدیث «سنن الدارمي كتاب الصلاة باب الارض كلها طاهرة ما لا المقبرة والحمام 1409 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الفضائل ، باب ما اعطى الله تعالى محمدا صلى الله عليه وسلم 31007 مسند احمد بن حنبل ، مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب 2662 البحر الزخار مسند البزار ومما روى محمد بن على بن ابي طالب وهو أبن الحنفية 592 المعجم للطيراني الأوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد 7612 المعجم الكبير من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس رضى الله عنهما مجاهد ، 10842»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، فَسَكَتَ ، فَرَدَّدَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! " . قَالَ : إِنِّي جَنُبْتُ ، فَدَعَا لَهُ الْجَارِيَةَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ ، فَاسْتَتَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُجْزِئُكَ الصَّعِيدُ وَلَوْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ عِشْرِينَ سَنَةً ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اپنی بکریوں میں تھے ، جب وہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ابوذر ! وہ خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بلایا ، تو وہ خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، انہوں نے عرض کی : میں جنبی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز کو ان کے لیے پانی لانے کا حکم دیا ، وہ پانی لے کر آئی ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کی اوٹ میں غسل کیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : مٹی تمہارے لیے کفایت کر جائے گی ، خواہ تمہیں بیس سال تک پانی نہ ملے اور جب تمہیں پانی مل جائے ، تو اسے اپنی جلد سے مس کر لینا ( یعنی اس کے ساتھ غسل کر لینا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1410
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنِ الْأَسْلَعِ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : كُنْتُ أُرَحِّلُ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ ، وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرِّحْلَةَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُرَحِّلَ نَاقَتَهُ وَأَنَا جُنُبٌ ، وَخَشِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَأَمُوتَ أَوْ أَمْرَضَ ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَرَحَّلَهَا ، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً ، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " يَا أَسْلَعُ ، مَا لِي أَرَى رَاحِلَتَكَ تَغَيَّرَتْ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أُرَحِّلْهَا ، رَحَّلَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ . قَالَ : " وَلِمَ ؟ " قُلْتُ : إِنِّي أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَخَشِيتُ الْقُرَّ عَلَى نَفْسِي فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُرَحِّلَهَا ، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا ، فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً فَاغْتَسَلْتُ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ) إِلَى ( إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ ذُرَيْقٍ . قَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسلع بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر رکھنے کے لیے پالان تیار کیا کرتا تھا ، ایک سرد رات میں مجھے جنابت لاحق ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا ارادہ کیا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی اونٹنی کا پالان تیار کروں ، جبکہ میں جنابت کی حالت میں ہوؤں ، مجھے یہ بھی اندیشہ ہوا ، کہ اگر میں ٹھنڈے پانی کے ساتھ غسل کر لیتا ہوں ، تو میں مر جاؤں گا ، یا بیمار ہو جاؤں گا ، میں نے انصار سے تعلق رکھنے والے ، ایک شخص کو یہ ہدایت کی ، تو اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پالان تیار کر دیا ، میں نے پتھر رکھے ، اُن کے ذریعے پانی گرم کیا ، غسل کیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ آ کر مل گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسلع کیا وجہ ہے ؟ مجھے تمہارا تیار کیا ہوا پالان کچھ مختلف لگ رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے تیار نہیں کیا ہے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ، ایک شخص نے اسے تیار کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی ، مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہوا ، تو میں نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ پالان تیار کر دے ، پھر میں نے پتھر رکھ کر پانی گرم کیا اور اس کے ذریعہ غسل کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ” اے ایمان والو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو ، تو نماز کے قریب نہ جاؤ ! “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ذریق ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الْأَسْلَعِ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْأَعْرَجِ - بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا أَسْلَعُ ، قُمْ فَأَرِنِي كَيْفَ كَذَا وَكَذَا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَسَكَتَ عَنِّي سَاعَةً حَتَّى جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالصَّعِيدِ التَّيَمُّمِ . قَالَ : " قُمْ يَا أَسْلَعُ فَتَيَمَّمْ " . قَالَ : ثُمَّ أَرَانِي أَسْلَعُ كَيْفَ عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّيَمُّمَ . قَالَ : ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ ، فَدَلَّكَ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى ثُمَّ نَفَضَهُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا ذِرَاعَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسلع بن کعب رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو اعرج سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اسے اسلع ! تم اُٹھ کر مجھے دکھاؤ کہ فلاں ، فلاں چیز کیسی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس مٹی کے ذریعے تیمم کرنے کا حکم لے کر نازل ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : اے اسلع ! تم اٹھو اور تیمم کر لو ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا اسلع رضی اللہ عنہ نے مجھے کر کے دکھایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیسے تیمم کرنے کی تعلیم دی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں زمین پر ماریں ، پھر انہیں ایک دوسرے کے ذریعے جھاڑا ، پھر ان پر پھونک ماری اور پھر ان کے ذریعے اپنی کلائیوں کے اوپری اور نیچے والے حصے کا مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الْأَسْلَعِ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُرَحِّلُ لَهُ ، فَقَالَ لِي ذَاتَ لَيْلَةٍ : " يَا أَسْلَعُ ، قُمْ فَارْحَلْ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ . قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِآيَةِ الصَّعِيدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ يَا أَسْلَعُ فَتَيَمَّمْ " . قَالَ : فَقُمْتُ فَتَيَمَّمْتُ ، ثُمَّ رَحَلْتُ لَهُ فَسَارَ ، فَمَرَّ بِمَاءٍ فَقَالَ لِي : " يَا أَسْلَعُ ، مُسَّ - أَوْ أَمِسَّ - هَذَا جِلْدَكَ " . قَالَ : فَأَرَانِي أَبِي التَّيَمُّمَ كَمَا أَرَاهُ أَبُوهُ بِضَرْبَةٍ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٍ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسلع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، اور آپ کے لیے پالان تیار کرتا تھا ، ایک رات آپ نے مجھ سے فرمایا : اے اسلع ! اٹھو اور پالان تیار کر دو ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام تیمم کے حکم سے متعلق آیت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسلع ! اٹھو اور تیمم کر لو ! راوی بیان کرتے ہیں : میں اُٹھا ، میں نے تیمم کیا ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پلان تیار کیا ، آپ روانہ ہو گئے ، آپ کا گزر پانی کے پاس سے ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے اسلع ! اپنی جلد پر یہ لگا لو ! ( یعنی غسل کر لو ) یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے تیمم کر کے دکھایا ، جس طرح اُن کے والد نے انہیں کر کے دکھایا تھا ، ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1413
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ شُعْبَةُ فِيهِ : وَضَعَ أَرْبَعَمِائَةِ حَدِيثٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تیمم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی ، اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، شعبہ نے اُس کے بارے میں یہ کہا: ہے : اس نے چار سو احادیث ایجاد کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1414
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كُنْتُ أَرَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ ، فَلَمْ أَرَهُ يَمْسَحُ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَصْلُوبُ ، وَقِيلَ فِيهِ : كَذَّابٌ ، يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی کے ذریعے تیمم کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن میں نے آپ کو دونوں بازؤں اور چہرے پر مسح کرتے ہوئے صرف ایک مرتبہ دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید مصلوب ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ کذاب ہے اور حدیث ایجاد کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1415
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع، اس کا راوی محمد بن سعید مصلوب کذاب اور وضاع
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ : ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَقَالَ : كَذَّابٌ خَبِيثٌ ، وَجَمَاعَةٌ ، وَقَالَ أَبُو عَلِيٍّ النَّيْسَابُورِيُّ : لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تیمم میں دو ضربیں ہوں گی ، ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ظبیان ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ کذاب خبیث ہے ، ایک جماعت نے بھی اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ابوعلی نیشا پوری کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1416
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب الطهارة واما حديث عائشة 585 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الطهارات فى التيمم كيف هو 1663 سنن الدارقطني كتاب الطهارة باب 593 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الطهارة جماع ابواب التيمم باب كيف التيمم 938 معرفة السنن والآثار للبيهقى باب التيمم ، 428 المعجم الكبير للطبراني من اسمه ومما اسند عبد الله بن عمر رضى الله عنهما نافع 13142»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فِي التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ أَنْ يَضْرِبَ بِكَفَّيْهِ عَلَى الثَّرَى ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ ، ثُمَّ يَضْرِبُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَمْسَحُ بِهِمَا ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات منقول ہے : مٹی کے ذریعے تیمم کرنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : کہ آدمی اپنی ہتھیلیاں زمین پر مارے گا اور پھر ان دونوں کے ذریعے اپنے چہرے پر مسح کر لے گا ، پھر وہ ایک اور ضرب مارے گا اور ان دونوں کے ذریعے کہنیوں تک دونوں بازؤں کا مسح کر لے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد جزری ہے ، امام ابوزرعہ فرماتے ہیں : یہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1417
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، اس کی سند میں سلیمان بن داود الجزری متروک راوی ہے۔
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ : ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَرِيشُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَالْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، تیمم کے بارے میں یہ نقل کرتی ہیں : ” دو ضربیں ہوں گی ، ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حریش بن خریت ہے ، اسے ابوحاتم ، ابوزرعہ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1418
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ نَزَلَ الْقَوْمُ ، فَبَصُرَ بِهِمَا رَاعٍ فَنَزَلَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ الصَّعِيدَ ، فَتَيَمَّمَ ثُمَّ أَذَّنَ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى الْفِطْرَةِ " . قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَازِنِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ، جب نماز کا وقت ہوا ، تو لوگوں نے پڑاؤ کر لیا ، ایک چرواہے نے ان دونوں کو دیکھا ، تو وہ سواری سے نیچے اتر آیا ، اس نے اپنا ہاتھ زمین پر مار کر تیمم کیا ، اور پھر اذان دیتے ہوئے کہا: «الله اكبر، الله اكبر» ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ فطرت پر ہے ، اس نے کہا: «اشهد ان لا اله الا الله» ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد مازنی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1419
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، اس میں سعید بن راشد المازنی ہے جو کہ متروک الحدیث ہے۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ ، أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَلَا يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص جو آبادی سے دور ہوتا ہے اور وہ پانی پر قدرت نہیں رکھتا ، کیا وہ اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، لیکن وہ جان بوجھ کر جھوٹ بیان نہیں کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1420
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَغِيبُ الشَّهْرَ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي ، فَأُصِيبَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَغِيبُ أَشْهُرًا ؟ قَالَ : " وَإِنْ غِبْتَ ثَلَاثَ سِنِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حکیم بن معاویہ نے ، اپنے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ، ایک ماہ تک پانی سے دور رہتا ہوں ، میرے ساتھ میری بیوی ہوتی ہے ، کیا میں اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں کئی ماہ تک پانی سے دور رہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم تین سال تک دور رہو ( تو بھی یہی حکم ہو گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1421
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔