عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَوْ أَجْنَبْتُ وَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا مَا صَلَّيْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ ابْنُ سُفْيَانَ : لَا يُؤْخَذُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر مجھے جنابت لاحق ہو جائے اور ایک ماہ تک پانی نہ ملے ، تو میں نماز ادا نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، ابن سفیان کہتے ہیں : اس کے مطابق فتوی نہیں دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، ابن سفیان کہتے ہیں : اس کے مطابق فتوی نہیں دیا جائے گا ۔
وَعَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِهِ جُدَرِيٌّ ، فَأَمَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقُرِّبَ تُرَابٌ فِي طَسْتٍ أَوْ تَوْرٍ ، فَمَسَحَ بِالتُّرَابِ . ¤ وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کو جدری ( جلد خراب ہونے ) کی بیماری تھی ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت طشت یا برتن میں مٹی اس کے بعد لائی جاتی اور وہ مٹی کے ذریعے مسح کر لیتا تھا ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا ، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، قَالَ التِّرْمِذِيُّ : صَدُوقٌ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ - يَعْنِي الْبُخَارِيَّ - يَقُولُ : كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ . قُلْتُ : فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے وہ چیز عطا کی گئی ہے ، جو انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، زمین کی کنجیاں مجھے عطا کی گئی ہیں ، میرا نام أحمد رکھا گیا ، میرے لیے مٹی کو طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا اور میری امت کو سب سے بہتر امت قرار دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں : یہ صدوق ہے ، بعض اہل علم نے اس کے حافظے کے حوالے سے ، اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل ، یعنی امام بخاری رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : أحمد بن حنبل ، اسحاق بن ابراہیم ، اور حمیدی نے ابن عقیل کی نقل کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تو یہ حدیث حسن ہو گی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں : یہ صدوق ہے ، بعض اہل علم نے اس کے حافظے کے حوالے سے ، اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل ، یعنی امام بخاری رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : أحمد بن حنبل ، اسحاق بن ابراہیم ، اور حمیدی نے ابن عقیل کی نقل کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تو یہ حدیث حسن ہو گی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَكُونُ فِي الرَّمْلِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ ، فَتَكُونُ فِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ ، فَمَا تَرَى ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَالَ فِيهِ : " عَلَيْكَ بِالْأَرْضِ " ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثْنِي بْنُ الصَّبَاحِ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . وَرَوَى عَيَّاشٌ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ تَوْثِيقَهُ ، وَرَوَى مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ : ضَعِيفٌ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ وَلَا يُتْرَكُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں چار ، یا پانچ ماہ تک ریگستان میں رہتا ہوں ، ہمارے درمیان نفاس والی عورتیں ، حیض والی عورتیں ، اور جنبی لوگ ہوتے ہیں ، تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : تم پر زمین لازم ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اکثر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، عیاش نے یحیی بن معین کے حوالے سے اس کی توثیق نقل کی ہے ، معاویہ بن صالح نے یحیی بن معین کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : یہ ضعیف ہے ، لیکن اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اسے ترک نہیں کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : تم پر زمین لازم ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اکثر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، عیاش نے یحیی بن معین کے حوالے سے اس کی توثیق نقل کی ہے ، معاویہ بن صالح نے یحیی بن معین کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : یہ ضعیف ہے ، لیکن اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اسے ترک نہیں کیا جائے گا ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الصَّعِيدُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيُمِسَّهُ بَشَرَهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . ¤ قُلْتُ : وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مٹی مسلمان کے وضو کا ذریعہ ہے ، خواہ اُسے کئی سال تک پانی نہ ملے ، جب اُسے پانی مل جائے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کو اپنے جسم پر استعمال کر لے ، یہ زیادہ بہتر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس روایت کے بارے میں ہمارے علم کے مطابق ،
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس روایت کے بارے میں ہمارے علم کے مطابق ،
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ، بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ; الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي عَلَى مَسِيرَةِ شَهْرٍ ، وَأُطْعِمْتُ الْمَغْنَمَ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : " وَكَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَرْيَتِهِ " ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِيهِ بَعْضُ الْمَنَاكِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے تمام بنی نوع انسان ہر سرخ فام ( یعنی سفید فام ) اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، ایک ماہ کی مسافت سے ، میرا دشمن مجھ سے مرعوب ہو جاتا ہے ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ، مجھے شفاعت عطا کی گئی ، تو میں نے قیامت کے دن اپنی امت کے لئے اُسے مؤخر کر دیا ( یعنی سنبھال کر رکھ لیا ) ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ہر نبی کو اُس کی بستی کی طرف مبعوث کیا گیا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے اپنے باپ سے جو روایات نقل کی ہیں ، ان میں کچھ منکر ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ہر نبی کو اُس کی بستی کی طرف مبعوث کیا گیا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے اپنے باپ سے جو روایات نقل کی ہیں ، ان میں کچھ منکر ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، فَسَكَتَ ، فَرَدَّدَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! " . قَالَ : إِنِّي جَنُبْتُ ، فَدَعَا لَهُ الْجَارِيَةَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ ، فَاسْتَتَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُجْزِئُكَ الصَّعِيدُ وَلَوْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ عِشْرِينَ سَنَةً ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اپنی بکریوں میں تھے ، جب وہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ابوذر ! وہ خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بلایا ، تو وہ خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، انہوں نے عرض کی : میں جنبی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز کو ان کے لیے پانی لانے کا حکم دیا ، وہ پانی لے کر آئی ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کی اوٹ میں غسل کیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : مٹی تمہارے لیے کفایت کر جائے گی ، خواہ تمہیں بیس سال تک پانی نہ ملے اور جب تمہیں پانی مل جائے ، تو اسے اپنی جلد سے مس کر لینا ( یعنی اس کے ساتھ غسل کر لینا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْأَسْلَعِ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : كُنْتُ أُرَحِّلُ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ ، وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرِّحْلَةَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُرَحِّلَ نَاقَتَهُ وَأَنَا جُنُبٌ ، وَخَشِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَأَمُوتَ أَوْ أَمْرَضَ ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَرَحَّلَهَا ، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً ، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " يَا أَسْلَعُ ، مَا لِي أَرَى رَاحِلَتَكَ تَغَيَّرَتْ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أُرَحِّلْهَا ، رَحَّلَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ . قَالَ : " وَلِمَ ؟ " قُلْتُ : إِنِّي أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَخَشِيتُ الْقُرَّ عَلَى نَفْسِي فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُرَحِّلَهَا ، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا ، فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً فَاغْتَسَلْتُ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ) إِلَى ( إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ ذُرَيْقٍ . قَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسلع بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر رکھنے کے لیے پالان تیار کیا کرتا تھا ، ایک سرد رات میں مجھے جنابت لاحق ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا ارادہ کیا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی اونٹنی کا پالان تیار کروں ، جبکہ میں جنابت کی حالت میں ہوؤں ، مجھے یہ بھی اندیشہ ہوا ، کہ اگر میں ٹھنڈے پانی کے ساتھ غسل کر لیتا ہوں ، تو میں مر جاؤں گا ، یا بیمار ہو جاؤں گا ، میں نے انصار سے تعلق رکھنے والے ، ایک شخص کو یہ ہدایت کی ، تو اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پالان تیار کر دیا ، میں نے پتھر رکھے ، اُن کے ذریعے پانی گرم کیا ، غسل کیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ آ کر مل گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسلع کیا وجہ ہے ؟ مجھے تمہارا تیار کیا ہوا پالان کچھ مختلف لگ رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے تیار نہیں کیا ہے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ، ایک شخص نے اسے تیار کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی ، مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہوا ، تو میں نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ پالان تیار کر دے ، پھر میں نے پتھر رکھ کر پانی گرم کیا اور اس کے ذریعہ غسل کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ” اے ایمان والو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو ، تو نماز کے قریب نہ جاؤ ! “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ذریق ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ذریق ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔
وَعَنِ الْأَسْلَعِ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْأَعْرَجِ - بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا أَسْلَعُ ، قُمْ فَأَرِنِي كَيْفَ كَذَا وَكَذَا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَسَكَتَ عَنِّي سَاعَةً حَتَّى جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالصَّعِيدِ التَّيَمُّمِ . قَالَ : " قُمْ يَا أَسْلَعُ فَتَيَمَّمْ " . قَالَ : ثُمَّ أَرَانِي أَسْلَعُ كَيْفَ عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّيَمُّمَ . قَالَ : ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ ، فَدَلَّكَ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى ثُمَّ نَفَضَهُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا ذِرَاعَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسلع بن کعب رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو اعرج سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اسے اسلع ! تم اُٹھ کر مجھے دکھاؤ کہ فلاں ، فلاں چیز کیسی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس مٹی کے ذریعے تیمم کرنے کا حکم لے کر نازل ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : اے اسلع ! تم اٹھو اور تیمم کر لو ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا اسلع رضی اللہ عنہ نے مجھے کر کے دکھایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیسے تیمم کرنے کی تعلیم دی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں زمین پر ماریں ، پھر انہیں ایک دوسرے کے ذریعے جھاڑا ، پھر ان پر پھونک ماری اور پھر ان کے ذریعے اپنی کلائیوں کے اوپری اور نیچے والے حصے کا مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنِ الْأَسْلَعِ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُرَحِّلُ لَهُ ، فَقَالَ لِي ذَاتَ لَيْلَةٍ : " يَا أَسْلَعُ ، قُمْ فَارْحَلْ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ . قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِآيَةِ الصَّعِيدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ يَا أَسْلَعُ فَتَيَمَّمْ " . قَالَ : فَقُمْتُ فَتَيَمَّمْتُ ، ثُمَّ رَحَلْتُ لَهُ فَسَارَ ، فَمَرَّ بِمَاءٍ فَقَالَ لِي : " يَا أَسْلَعُ ، مُسَّ - أَوْ أَمِسَّ - هَذَا جِلْدَكَ " . قَالَ : فَأَرَانِي أَبِي التَّيَمُّمَ كَمَا أَرَاهُ أَبُوهُ بِضَرْبَةٍ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٍ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسلع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، اور آپ کے لیے پالان تیار کرتا تھا ، ایک رات آپ نے مجھ سے فرمایا : اے اسلع ! اٹھو اور پالان تیار کر دو ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام تیمم کے حکم سے متعلق آیت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسلع ! اٹھو اور تیمم کر لو ! راوی بیان کرتے ہیں : میں اُٹھا ، میں نے تیمم کیا ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پلان تیار کیا ، آپ روانہ ہو گئے ، آپ کا گزر پانی کے پاس سے ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے اسلع ! اپنی جلد پر یہ لگا لو ! ( یعنی غسل کر لو ) یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے تیمم کر کے دکھایا ، جس طرح اُن کے والد نے انہیں کر کے دکھایا تھا ، ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ شُعْبَةُ فِيهِ : وَضَعَ أَرْبَعَمِائَةِ حَدِيثٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تیمم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی ، اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، شعبہ نے اُس کے بارے میں یہ کہا: ہے : اس نے چار سو احادیث ایجاد کی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، شعبہ نے اُس کے بارے میں یہ کہا: ہے : اس نے چار سو احادیث ایجاد کی ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كُنْتُ أَرَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ ، فَلَمْ أَرَهُ يَمْسَحُ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَصْلُوبُ ، وَقِيلَ فِيهِ : كَذَّابٌ ، يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی کے ذریعے تیمم کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن میں نے آپ کو دونوں بازؤں اور چہرے پر مسح کرتے ہوئے صرف ایک مرتبہ دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید مصلوب ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ کذاب ہے اور حدیث ایجاد کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید مصلوب ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ کذاب ہے اور حدیث ایجاد کرتا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ : ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَقَالَ : كَذَّابٌ خَبِيثٌ ، وَجَمَاعَةٌ ، وَقَالَ أَبُو عَلِيٍّ النَّيْسَابُورِيُّ : لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تیمم میں دو ضربیں ہوں گی ، ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ظبیان ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ کذاب خبیث ہے ، ایک جماعت نے بھی اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ابوعلی نیشا پوری کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ظبیان ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ کذاب خبیث ہے ، ایک جماعت نے بھی اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ابوعلی نیشا پوری کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فِي التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ أَنْ يَضْرِبَ بِكَفَّيْهِ عَلَى الثَّرَى ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ ، ثُمَّ يَضْرِبُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَمْسَحُ بِهِمَا ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات منقول ہے : مٹی کے ذریعے تیمم کرنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : کہ آدمی اپنی ہتھیلیاں زمین پر مارے گا اور پھر ان دونوں کے ذریعے اپنے چہرے پر مسح کر لے گا ، پھر وہ ایک اور ضرب مارے گا اور ان دونوں کے ذریعے کہنیوں تک دونوں بازؤں کا مسح کر لے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد جزری ہے ، امام ابوزرعہ فرماتے ہیں : یہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد جزری ہے ، امام ابوزرعہ فرماتے ہیں : یہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ : ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَرِيشُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَالْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، تیمم کے بارے میں یہ نقل کرتی ہیں : ” دو ضربیں ہوں گی ، ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حریش بن خریت ہے ، اسے ابوحاتم ، ابوزرعہ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حریش بن خریت ہے ، اسے ابوحاتم ، ابوزرعہ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ نَزَلَ الْقَوْمُ ، فَبَصُرَ بِهِمَا رَاعٍ فَنَزَلَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ الصَّعِيدَ ، فَتَيَمَّمَ ثُمَّ أَذَّنَ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى الْفِطْرَةِ " . قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَازِنِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ، جب نماز کا وقت ہوا ، تو لوگوں نے پڑاؤ کر لیا ، ایک چرواہے نے ان دونوں کو دیکھا ، تو وہ سواری سے نیچے اتر آیا ، اس نے اپنا ہاتھ زمین پر مار کر تیمم کیا ، اور پھر اذان دیتے ہوئے کہا: «الله اكبر، الله اكبر» ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ فطرت پر ہے ، اس نے کہا: «اشهد ان لا اله الا الله» ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد مازنی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد مازنی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ ، أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَلَا يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص جو آبادی سے دور ہوتا ہے اور وہ پانی پر قدرت نہیں رکھتا ، کیا وہ اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، لیکن وہ جان بوجھ کر جھوٹ بیان نہیں کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، لیکن وہ جان بوجھ کر جھوٹ بیان نہیں کرتا ہے ۔
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَغِيبُ الشَّهْرَ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي ، فَأُصِيبَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَغِيبُ أَشْهُرًا ؟ قَالَ : " وَإِنْ غِبْتَ ثَلَاثَ سِنِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حکیم بن معاویہ نے ، اپنے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ، ایک ماہ تک پانی سے دور رہتا ہوں ، میرے ساتھ میری بیوی ہوتی ہے ، کیا میں اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں کئی ماہ تک پانی سے دور رہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم تین سال تک دور رہو ( تو بھی یہی حکم ہو گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔