حدیث نمبر: 1412
وَعَنِ الْأَسْلَعِ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْأَعْرَجِ - بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا أَسْلَعُ ، قُمْ فَأَرِنِي كَيْفَ كَذَا وَكَذَا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَسَكَتَ عَنِّي سَاعَةً حَتَّى جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالصَّعِيدِ التَّيَمُّمِ . قَالَ : " قُمْ يَا أَسْلَعُ فَتَيَمَّمْ " . قَالَ : ثُمَّ أَرَانِي أَسْلَعُ كَيْفَ عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّيَمُّمَ . قَالَ : ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ ، فَدَلَّكَ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى ثُمَّ نَفَضَهُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا ذِرَاعَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسلع بن کعب رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو اعرج سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اسے اسلع ! تم اُٹھ کر مجھے دکھاؤ کہ فلاں ، فلاں چیز کیسی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس مٹی کے ذریعے تیمم کرنے کا حکم لے کر نازل ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : اے اسلع ! تم اٹھو اور تیمم کر لو ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا اسلع رضی اللہ عنہ نے مجھے کر کے دکھایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیسے تیمم کرنے کی تعلیم دی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں زمین پر ماریں ، پھر انہیں ایک دوسرے کے ذریعے جھاڑا ، پھر ان پر پھونک ماری اور پھر ان کے ذریعے اپنی کلائیوں کے اوپری اور نیچے والے حصے کا مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف