مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ . باب: تیمم کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، فَسَكَتَ ، فَرَدَّدَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! " . قَالَ : إِنِّي جَنُبْتُ ، فَدَعَا لَهُ الْجَارِيَةَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ ، فَاسْتَتَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُجْزِئُكَ الصَّعِيدُ وَلَوْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ عِشْرِينَ سَنَةً ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اپنی بکریوں میں تھے ، جب وہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ابوذر ! وہ خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بلایا ، تو وہ خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، انہوں نے عرض کی : میں جنبی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز کو ان کے لیے پانی لانے کا حکم دیا ، وہ پانی لے کر آئی ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کی اوٹ میں غسل کیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : مٹی تمہارے لیے کفایت کر جائے گی ، خواہ تمہیں بیس سال تک پانی نہ ملے اور جب تمہیں پانی مل جائے ، تو اسے اپنی جلد سے مس کر لینا ( یعنی اس کے ساتھ غسل کر لینا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔