مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ . باب: تیمم کا بیان
وَعَنِ الْأَسْلَعِ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُرَحِّلُ لَهُ ، فَقَالَ لِي ذَاتَ لَيْلَةٍ : " يَا أَسْلَعُ ، قُمْ فَارْحَلْ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ . قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِآيَةِ الصَّعِيدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ يَا أَسْلَعُ فَتَيَمَّمْ " . قَالَ : فَقُمْتُ فَتَيَمَّمْتُ ، ثُمَّ رَحَلْتُ لَهُ فَسَارَ ، فَمَرَّ بِمَاءٍ فَقَالَ لِي : " يَا أَسْلَعُ ، مُسَّ - أَوْ أَمِسَّ - هَذَا جِلْدَكَ " . قَالَ : فَأَرَانِي أَبِي التَّيَمُّمَ كَمَا أَرَاهُ أَبُوهُ بِضَرْبَةٍ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٍ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤سیدنا اسلع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، اور آپ کے لیے پالان تیار کرتا تھا ، ایک رات آپ نے مجھ سے فرمایا : اے اسلع ! اٹھو اور پالان تیار کر دو ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام تیمم کے حکم سے متعلق آیت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسلع ! اٹھو اور تیمم کر لو ! راوی بیان کرتے ہیں : میں اُٹھا ، میں نے تیمم کیا ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پلان تیار کیا ، آپ روانہ ہو گئے ، آپ کا گزر پانی کے پاس سے ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے اسلع ! اپنی جلد پر یہ لگا لو ! ( یعنی غسل کر لو ) یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے تیمم کر کے دکھایا ، جس طرح اُن کے والد نے انہیں کر کے دکھایا تھا ، ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی اور ایک ضرب کہنیوں تک ، دونوں بازؤں کے لیے ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔