حدیث نمبر: 1406
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا ، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، قَالَ التِّرْمِذِيُّ : صَدُوقٌ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ - يَعْنِي الْبُخَارِيَّ - يَقُولُ : كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ . قُلْتُ : فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے وہ چیز عطا کی گئی ہے ، جو انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، زمین کی کنجیاں مجھے عطا کی گئی ہیں ، میرا نام أحمد رکھا گیا ، میرے لیے مٹی کو طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا اور میری امت کو سب سے بہتر امت قرار دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں : یہ صدوق ہے ، بعض اہل علم نے اس کے حافظے کے حوالے سے ، اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل ، یعنی امام بخاری رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : أحمد بن حنبل ، اسحاق بن ابراہیم ، اور حمیدی نے ابن عقیل کی نقل کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تو یہ حدیث حسن ہو گی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1406
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔