حدیث نمبر: 1411
وَعَنِ الْأَسْلَعِ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : كُنْتُ أُرَحِّلُ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ ، وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرِّحْلَةَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُرَحِّلَ نَاقَتَهُ وَأَنَا جُنُبٌ ، وَخَشِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَأَمُوتَ أَوْ أَمْرَضَ ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَرَحَّلَهَا ، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً ، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " يَا أَسْلَعُ ، مَا لِي أَرَى رَاحِلَتَكَ تَغَيَّرَتْ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أُرَحِّلْهَا ، رَحَّلَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ . قَالَ : " وَلِمَ ؟ " قُلْتُ : إِنِّي أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَخَشِيتُ الْقُرَّ عَلَى نَفْسِي فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُرَحِّلَهَا ، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا ، فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً فَاغْتَسَلْتُ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ) إِلَى ( إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ ذُرَيْقٍ . قَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسلع بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر رکھنے کے لیے پالان تیار کیا کرتا تھا ، ایک سرد رات میں مجھے جنابت لاحق ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا ارادہ کیا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی اونٹنی کا پالان تیار کروں ، جبکہ میں جنابت کی حالت میں ہوؤں ، مجھے یہ بھی اندیشہ ہوا ، کہ اگر میں ٹھنڈے پانی کے ساتھ غسل کر لیتا ہوں ، تو میں مر جاؤں گا ، یا بیمار ہو جاؤں گا ، میں نے انصار سے تعلق رکھنے والے ، ایک شخص کو یہ ہدایت کی ، تو اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پالان تیار کر دیا ، میں نے پتھر رکھے ، اُن کے ذریعے پانی گرم کیا ، غسل کیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ آ کر مل گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسلع کیا وجہ ہے ؟ مجھے تمہارا تیار کیا ہوا پالان کچھ مختلف لگ رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے تیار نہیں کیا ہے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ، ایک شخص نے اسے تیار کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی ، مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہوا ، تو میں نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ پالان تیار کر دے ، پھر میں نے پتھر رکھ کر پانی گرم کیا اور اس کے ذریعہ غسل کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ” اے ایمان والو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو ، تو نماز کے قریب نہ جاؤ ! “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ذریق ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف