مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ . باب: تیمم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ، بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ; الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي عَلَى مَسِيرَةِ شَهْرٍ ، وَأُطْعِمْتُ الْمَغْنَمَ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : " وَكَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَرْيَتِهِ " ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِيهِ بَعْضُ الْمَنَاكِيرِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے تمام بنی نوع انسان ہر سرخ فام ( یعنی سفید فام ) اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، ایک ماہ کی مسافت سے ، میرا دشمن مجھ سے مرعوب ہو جاتا ہے ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ، مجھے شفاعت عطا کی گئی ، تو میں نے قیامت کے دن اپنی امت کے لئے اُسے مؤخر کر دیا ( یعنی سنبھال کر رکھ لیا ) ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ہر نبی کو اُس کی بستی کی طرف مبعوث کیا گیا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے اپنے باپ سے جو روایات نقل کی ہیں ، ان میں کچھ منکر ہیں ۔