کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: موزوں پر مسح کے بارے میں مدت کا تعین کرنا
حدیث نمبر: 1384
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ الْقَطِيعِيُّ مِنْ زِيَادَاتِهِ عَلَى مُسْنَدِ أَحْمَدَ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ” مقیم کے لئے اس کی مدت ایک دن اور ایک رات ہو گی اور مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں ہو گی “ ۔
یہ روایت قطیعی نے ” مسند أحمد “ پر اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1384
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1385
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : سَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكُلَّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَا يَنْزِعُهُمَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ .
محمد محی الدین
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا انسان ہر وقت موزوں پر مسح کر سکتا ہے ؟ یوں کہ وہ انہیں نہ اتارے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1385
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1386
وَلَهَا عِنْدَ أَبِي يَعْلَى قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَخْلَعُ الرَّجُلُ خُفَّيْهِ كُلَّ سَاعَةٍ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا مَا بَدَا لَهُ " . ¤ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ، امام ابویعلیٰ نے یہ روایت نقل کی ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آدمی موزہ ، ہر گھڑی میں اتار سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! جب تک اُسے مناسب لگے وہ اُن پر مسح کرتا رہے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن اسحاق بن یسار ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ قومی نہیں ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1387
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفٌ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الْكُوفِيُّ ، وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : مسافر کے لیے اس کی مدت تین دن ، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ کوفی ہے ، جس کی نسبت جھوٹ بولنے کی طرف کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً؛ اس کے راوی یوسف بن عطیہ الکوفی پر کذب کا الزام ہے۔
حدیث نمبر: 1388
وَلِابْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ أَيْضًا كُنَّا نَمْسَحُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
امام بزار نے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موزوں پر مسح کیا کرتے تھے ، مسافر کے لیے اس کی مدت تین دن اور تین راتیں تھی ، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات تھی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیمان بن بشیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1389
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا وَنَحْنُ مَعَهُ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ ، وَلَكِنْ مِنْ بَوْلٍ وَنَوْمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَلَكِنْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رَدِيءُ الْحِفْظِ يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے ، جب ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے کہ ہم تین دن اور تین راتوں تک موزے نہ اتاریں ، البتہ جنابت کا معاملہ مختلف ہے ، پیشاب کرنے یا سونے ( کی وجہ سے وضو ختم ہونے کی صورت میں ہم انہیں نہ اُتاریں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے اور وہ ضعیف ہے ، تاہم ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ خراب حافظے کا مالک ہے اور غلطی کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1389
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1390
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ مسافر شخص تین دن اور تین راتوں تک ، اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1391
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . قَالَ : " ثَلَاثٌ لِلْمُسَافِرِ ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ . وَأَيُّوبُ بْنُ خُرَيْمٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ غَيْرَ ابْنِ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْ وَلَمْ يُوَثِّقْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اس کی مخصوص مدت ) مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لیے ، ایک دن اور ایک رات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ایوب بن خریم نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے ابن ابوحاتم کے علاوہ اور کسی کو نہیں پایا ، لیکن اُنہوں نے نہ اس پر جرح کی ہے اور نہ توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1391
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1392
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيَّ فَذَهَبْتُ ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ لَيْسَ لَهَا يَدَانِ ، فَأَلْقَاهَا عَلَى عَاتِقِهِ فَقَالَ : " صُبَّ عَلَيَّ " فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَكَانَتْ سُنَّةً لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ - وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفُوهُ ، إِلَّا ابْنَ عُدَيٍّ فَقَالَ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا جَاوَزَ الْحَدَّ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَيُقْبَلُ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ ، وَهَذَا رَوَى عَنْهُ مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، فَهُوَ مَقْبُولٌ عَلَى مَا قَالَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، آپ نے میری طرف اشارہ کیا ، تو میں آگے ہوا ، میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شامی جبہ پہنا ہوا تھا ، جس کے بازو نہیں تھے ، آپ نے گردن کی طرف سے اسے اتارا اور ارشاد فرمایا : مجھ پر پانی ڈالو ، میں نے آپ پر پانی انڈیلا ، تو آپ نے وضو کرتے ہوئے ، موزوں پر مسح کیا ، مسافر کے لیے سنت تین دن اور تین راتیں ہے ، جبکہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اودی ہے محدثین نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، صرف ابن عدی کا معاملہ مختلف ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، جب کوئی ثقہ شخص اس سے روایت نقل کرے ، تو یہ حد سے آگے چلا جاتا ہے اگرچہ یہ حدیث میں قوی نہیں ہے ، لیکن اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اور جب کسی ثقہ شخص نے اس سے روایت نقل کی ہو ، تو اسے قبول کیا جائے گا ۔ مکی بن ابراہیم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور وہ ” صحیح “ کے رجال میں سے ایک ہیں ، تو ابن عدی کے قول کے مطابق یہ راوی مقبول شمار ہو گا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد مقبول
حدیث نمبر: 1393
وَعَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الضَّبِّيُّ بْنُ الْأَشْعَثِ ، لَهُ مَنَاكِيرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ضبی بن اشعث ہے ، جس سے منکر روایات منقول ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1393
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1394
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَهُ أَحَادِيثُ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے موزوں پر مسح کے بارے میں مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ( کی مدت کا متعین ہونا ) نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عثمان بصری ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے ایسی احادیث منقول ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1395
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ خِفَافَنَا ، لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ مَا لَمْ يَخْلَعْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رُدَيْحٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : صَالِحُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ آخری غزوہ ، جس میں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حصہ لیا ، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں ، مسافر کے لیے اس کی مدت تین دن اور تین راتیں ، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات تھی ، جب تک وہ اسے ( یعنی پاؤں کو موزے سے ) نکالتا نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رویح ہے ، جس کو ابوحاتم نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ صالح الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1395
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1396
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” موزوں پر مسح کرنے ( کی مدت ) مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1397
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعَمَامَةِ ثَلَاثًا فِي السَّفَرِ ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً فِي الْحَضَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران موزوں اور عمامہ پر تین دن مسح کرتے تھے اور حضر کے دوران ایک دن اور ایک رات کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان ابوسلمہ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1398
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةٌ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : موزوں پر مسح کے بارے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسافر کے لیے ( اس کی مدت ) تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1398
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1399
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الضَّبِّيُّ بْنُ الْأَشْعَثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” موزوں پر مسح کے بارے میں ، ( مخصوص مدت ) مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ضبی بن اشعث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1399
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1400
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلِهِ : إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مُحَمَّدٌ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسافر کے لئے مدت تین دن اور تین راتیں ہو گی اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہو گی ، وہ اپنے موزوں پر مسح کرتا رہے گا ، جبکہ اس نے پاؤں اس ( موزے ) میں اس وقت داخل کیے ہوں ، جب وہ دونوں باوضو ہوں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” جب اس نے ان دونوں کو باوضو حالت میں داخل کیا ہو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی محمد ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1401
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ : كُنَّا إِذَا سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ نَنْزِعْ خِفَافَنَا ثَلَاثًا ، فَإِذَا شَهِدْنَا فَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
یعلی بن مرہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے ، تو تین دن تک موزے نہیں اتارتے تھے اور جب ہم مقیم ہوتے تھے ، تو ایک دن اور ایک رات تک ( موزے نہیں اتارتے تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1401
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1402
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ وَسَافَرْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَكَانَ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ كَمَا تَرَى ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثَهُ الْمَرْفُوعَ ، وَلَهُ أَسَانِيدُ بَعْضُهَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں ، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود کے ساتھ سفر کیا ، تو وہ تین دن تک موزوں پر مسح کرتے رہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ ” موقوف “ ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، اُن کی نقل کردہ ” مرفوع “ حدیث پہلے گزر چکی ہے اور وہ ایسی اسانید کے ساتھ منقول ہے ، ان میں سے بعض کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1403
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ : لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ وَالْحَكَمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ ، وَلَا مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَمَعَ ذَلِكَ فِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ . ¤
محمد محی الدین
حکم بن عتیبہ نے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ” مسافر کے لیے اس کی مدت تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے “ حکم نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی سماع نہیں کیا ہے ، اس کے ہمراہ اس روایت کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1403
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف