کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس اُمت کے حوالے سے عالم کی لغزش ، منافق کے جدال اور دیگر کن اُمور کا اندیشہ ہے ؟
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ ثَلَاثًا ، وَهُنَّ كَائِنَاتٌ : زَلَّةُ عَالِمٍ ، وَجِدَالُ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ ، وَدُنْيَا تَفْتَحُ عَلَيْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنِ مَنْصُورٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے تمہارے حوالے سے تین چیزوں کا اندیشہ ہے ، اور وہ ہو کر رہیں گی ، عالم کی لغزش منافق کا قرآن کی بنیاد پر جدال ( یعنی بحث کرتا ) اور دنیا کو تمہارے لئے کھول دیا جانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں ( معاجم ) میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن منصور ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں ( معاجم ) میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن منصور ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكُمْ وَثَلَاثَةً : زَلَّةَ عَالِمٍ ، وَجِدَالَ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ ، وَدُنْيَا تَقْطَعُ أَعْنَاقَكُمْ ; فَأَمَّا زَلَّةُ عَالِمٍ فَإِنِ اهْتَدَى فَلَا تُقَلِّدُوهُ دِينَكُمْ ، وَأَنْ يَزِلَّ فَلَا تَقْطَعُوا عَنْهُ آمَالَكُمْ . وَأَمَّا جِدَالُ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ فَإِنَّ لِلْقُرْآنِ مَنَارًا كَمَنَارِ الطَّرِيقِ ، فَمَا عَرَفْتُمْ فَخُذُوهُ ، وَمَا أَنْكَرْتُمْ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ . وَأَمَّا دُنْيَا تَقْطَعُ أَعْنَاقَكُمْ ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ فِي قَلْبِهِ غِنًى فَهُوَ غَنِيٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ وَيَحْيَى فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ تین چیزوں سے بچ کے رہنا ! عالم کی لغزش ، منافق کا قرآن کی وجہ سے جدال اور دنیا کا تمہاری گردنیں کاٹ دینا ، جہاں تک عالم کی لغزش کا تعلق ہے ، تو اگر وہ ہدایت یافتہ ہو ، تو تم اپنے دین میں اس کی تقلید نہ کرنا ، اور اگر وہ لغزش کا شکار ہو ، تو اپنی امیدیں اُس سے منقطع نہ کرنا ، جہاں تک منافق کے قرآن کے ذریعے جدال کا تعلق ہے ، تو قرآن مینارہ نور ہے ، جس طرح راستہ کے لئے مینارہ نور ہوتا ہے ، جو چیز تمہیں معروف لگے ، وہ تم حاصل کر لینا اور جو منکر محسوس ہو ، اُسے اُس کے عالم کی طرف لوٹا دینا ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ دنیا تمہاری گردنیں کاٹ دے گی ، تو جس کے دل میں اللہ تعالیٰ خوشحالی ڈال دے گا ، وہ خوشحال ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، عمرو بن مرہ نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اسی طرح لیث کے کاتب عبداللہ بن صالح کو عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک روایت کے مطابق یحیی نے بھی اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، عمرو بن مرہ نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اسی طرح لیث کے کاتب عبداللہ بن صالح کو عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک روایت کے مطابق یحیی نے بھی اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ ثَلَاثٍ : مِنْ زَلَّةِ عَالِمٍ ، وَمِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ ، وَمِنْ حُكْمٍ جَائِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی اُمت کے حوالے سے تین چیزوں کا اندیشہ ہے ، عالم کی لغزش ، نفسانی خواہشات کی پیروی اور ظالم کا فیصلہ دینا ( یا حکومت کرنا ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عوف ہے اور وہ متروک ہے ، امام ترمذی نے اُس سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عوف ہے اور وہ متروک ہے ، امام ترمذی نے اُس سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي مُؤْمِنًا وَلَا مُشْرِكًا ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَحْجِزُهُ إِيمَانُهُ ، وَأَمَّا الْمُشْرِكُ فَيَقْمَعُهُ كُفْرُهُ ، وَلَكِنْ أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مُنَافِقًا عَالِمَ اللِّسَانِ ، يَقُولُ مَا تَعْرِفُونَ ، وَيَعْمَلُ مَا تُنْكِرُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اپنی اُمت کے حوالے سے نہ تو کسی مومن کے بارے میں اندیشہ ہے ، اور نہ ہی کسی مشرک کے بارے میں اندیشہ ہے ، جہاں تک مؤمن کا تعلق ہے ، تو اس کا ایمان اسے بچا لے گا ، جہاں تک مشرک کا تعلق ہے ، تو اس کا کفر اسے خراب کر دے گا ، مجھے تم لوگوں کے بارے میں منافق کے حوالے سے اندیشہ ہے ، جو گفتگو کا ماہر ہو گا ، وہ ایسی بات کرے گا ، جو تمہیں معروف محسوس ہو گی ، اور ایسا عمل کرے گا ، جو تمہیں منکر محسوس ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی حارث اعور نام کا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی حارث اعور نام کا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اپنے بعد مجھے تم لوگوں کے حوالے سے سب سے زیادہ اندیشہ ایسے منافق کی وجہ سے ہے ، جو گفتگو کا ماہر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : حَذَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر ایسے منافق سے بچنے کی تلقین کی تھی ، جو گفتگو کا ماہر ہو ۔
یہ روایت امام بزار ، امام أحمد ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس سے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار ، امام أحمد ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس سے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِيَ اثْنَيْنِ : الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ ; أَمَّا اللَّبَنُ فَيَبْتَغُونَ الرِّيفَ ، وَيَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ ، وَيَتْرُكُونَ الصَّلَاةَ . وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَيَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں دو چیزوں کے حوالے سے اندیشہ ہے ، قرآن اور دودھ ، جہاں تک دودھ کا تعلق ہے ، تو وہ اس کی شادابی تلاش کریں گے اور نفسانی خواہشات کی پیروی کریں گے اور نماز کو ترک کر دیں گے ، اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے ( تو اس کے حوالے سے یہ اندیشہ ہے ) منافق اُس کا علم حاصل کریں گے ، اور پھر اُس کے ذریعے ایمان والوں کے ساتھ بحث کریں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی دراج ابوسمح ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن اُس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی دراج ابوسمح ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن اُس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْثَرُ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي رَجُلٌ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ يَضَعُهُ عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهِ ، وَرَجُلٌ يَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ غَيْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اپنے بعد اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ ایسے شخص کے حوالے سے ہے ، جو قرآن کی تاویل کرے گا اور اُس کا مفہوم تبدیل کر دے گا ، اور اس شخص کے بارے میں ہے ، جو یہ سمجھے گا کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں حکومت کا زیادہ حقدار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَأْتِي عَلَى أُمَّتِي زَمَانٌ يَكْثُرُ الْقُرَّاءُ ، وَيَقِلُّ الْفُقَهَاءُ ، وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " . قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ زَمَانٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ يُجَادِلُ الْمُنَافِقُ وَالْمُشْرِكُ الْمُؤْمِنَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب میری امت پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں قرآن پڑھنے والے زیادہ ہوں گے ، اور دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے کم ہوں گے ( اس زمانے میں ) علم قبض کر لیا جائے گا ، اور ” ہرج “ زیادہ ہو جائے گا ، لوگوں نے دریافت کیا : ” ہرج “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے درمیان قتل و غارت گری ، پھر اُس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، پھر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں منافق اور مشرک ، مؤمن کے ساتھ بحث کریں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔