مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْأُمَّةِ مِنْ زَلِّةِ الْعَالِمِ وَجِدَالِ الْمُنَافِقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: اس اُمت کے حوالے سے عالم کی لغزش ، منافق کے جدال اور دیگر کن اُمور کا اندیشہ ہے ؟
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِيَ اثْنَيْنِ : الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ ; أَمَّا اللَّبَنُ فَيَبْتَغُونَ الرِّيفَ ، وَيَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ ، وَيَتْرُكُونَ الصَّلَاةَ . وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَيَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں دو چیزوں کے حوالے سے اندیشہ ہے ، قرآن اور دودھ ، جہاں تک دودھ کا تعلق ہے ، تو وہ اس کی شادابی تلاش کریں گے اور نفسانی خواہشات کی پیروی کریں گے اور نماز کو ترک کر دیں گے ، اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے ( تو اس کے حوالے سے یہ اندیشہ ہے ) منافق اُس کا علم حاصل کریں گے ، اور پھر اُس کے ذریعے ایمان والوں کے ساتھ بحث کریں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی دراج ابوسمح ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن اُس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔