مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْأُمَّةِ مِنْ زَلِّةِ الْعَالِمِ وَجِدَالِ الْمُنَافِقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: اس اُمت کے حوالے سے عالم کی لغزش ، منافق کے جدال اور دیگر کن اُمور کا اندیشہ ہے ؟
حدیث نمبر: 888
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْثَرُ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي رَجُلٌ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ يَضَعُهُ عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهِ ، وَرَجُلٌ يَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ غَيْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اپنے بعد اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ ایسے شخص کے حوالے سے ہے ، جو قرآن کی تاویل کرے گا اور اُس کا مفہوم تبدیل کر دے گا ، اور اس شخص کے بارے میں ہے ، جو یہ سمجھے گا کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں حکومت کا زیادہ حقدار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔