مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْأُمَّةِ مِنْ زَلِّةِ الْعَالِمِ وَجِدَالِ الْمُنَافِقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: اس اُمت کے حوالے سے عالم کی لغزش ، منافق کے جدال اور دیگر کن اُمور کا اندیشہ ہے ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَأْتِي عَلَى أُمَّتِي زَمَانٌ يَكْثُرُ الْقُرَّاءُ ، وَيَقِلُّ الْفُقَهَاءُ ، وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " . قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ زَمَانٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ يُجَادِلُ الْمُنَافِقُ وَالْمُشْرِكُ الْمُؤْمِنَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب میری امت پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں قرآن پڑھنے والے زیادہ ہوں گے ، اور دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے کم ہوں گے ( اس زمانے میں ) علم قبض کر لیا جائے گا ، اور ” ہرج “ زیادہ ہو جائے گا ، لوگوں نے دریافت کیا : ” ہرج “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے درمیان قتل و غارت گری ، پھر اُس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، پھر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں منافق اور مشرک ، مؤمن کے ساتھ بحث کریں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔