مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْأُمَّةِ مِنْ زَلِّةِ الْعَالِمِ وَجِدَالِ الْمُنَافِقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: اس اُمت کے حوالے سے عالم کی لغزش ، منافق کے جدال اور دیگر کن اُمور کا اندیشہ ہے ؟
حدیث نمبر: 885
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اپنے بعد مجھے تم لوگوں کے حوالے سے سب سے زیادہ اندیشہ ایسے منافق کی وجہ سے ہے ، جو گفتگو کا ماہر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔