مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْأُمَّةِ مِنْ زَلِّةِ الْعَالِمِ وَجِدَالِ الْمُنَافِقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: اس اُمت کے حوالے سے عالم کی لغزش ، منافق کے جدال اور دیگر کن اُمور کا اندیشہ ہے ؟
حدیث نمبر: 883
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ ثَلَاثٍ : مِنْ زَلَّةِ عَالِمٍ ، وَمِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ ، وَمِنْ حُكْمٍ جَائِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی اُمت کے حوالے سے تین چیزوں کا اندیشہ ہے ، عالم کی لغزش ، نفسانی خواہشات کی پیروی اور ظالم کا فیصلہ دینا ( یا حکومت کرنا ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عوف ہے اور وہ متروک ہے ، امام ترمذی نے اُس سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ۔