عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَظْهَرُ الدِّينُ حَتَّى يُجَاوِزَ التُّجَّارُ ، وَتُخَاضَ الْبِحَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، يَقُولُونَ : قَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ ، مَنْ أَقْرَأُ مِنَّا ؟ وَمَنْ أَفْقَهُ مِنَّا ؟ وَمَنْ أَعْلَمُ مِنَّا ؟ " ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " هَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ خَيْرٍ ؟ " قَالُوا : لَا . قَالَ : " أُولَئِكَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دین غالب آ جائے گا ، یہاں تک کہ تاجر لوگ ( دور دراز کے علاقوں ) تک جائیں گے اور اللہ کی راہ میں سمندروں میں سفر کیا جائے گا ، پھر تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے ، جو قرآن سیکھیں گے ، اور پھر وہ یہ کہیں گے : ہم سے زیادہ اچھا قرآن اور کس کو آتا ہے ؟ ہم سے زیادہ سمجھ بوجھ اور کس کو حاصل ہے ؟ ہم سے زیادہ علم کس کے پاس ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا اُن لوگوں میں کوئی بھلائی ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ تم میں سے ( یعنی اس اُمت میں سے ) ہوں گے اور وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَظْهَرُ الْإِسْلَامُ حَتَّى يَخْتَلِفَ التُّجَّارُ فِي الْبَحْرِ ، وَحَتَّى تَخُوضَ الْخَيْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، يَقُولُونَ : مَنْ أَقْرَأُ مِنَّا ؟ مَنْ أَعْلَمُ مِنَّا ؟ مَنْ أَفْقَهُ مِنَّا ؟ " ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : هَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ خَيْرٍ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أُولَئِكَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اسلام غالب آ جائے گا ، یہاں تک کہ تاجر لوگ سمندروں میں سفر کریں گے اور گھوڑے اللہ کے راہ میں جائیں گے ، پھر ایک قوم ظاہر ہو گی ، جو قرآن پڑھیں گے اور یہ کہیں گے : ہم سے زیادہ قرآن کس کو آتا ہے ؟ ہم سے زیادہ علم کس کے پاس ہے ؟ ہم سے زیادہ ( دین کی ) سمجھ بوجھ کس کے پاس ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : کیا اُن لوگوں میں کوئی بھلائی ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ تم میں سے ( یعنی اس اُمت میں سے ) ہوں گے اور وہ لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَامَ لَيْلَةً بِمَكَّةَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَوَّاهًا فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَحَرَّضْتَ وَجَهَدْتَ وَنَصَحْتَ [ فَأَصْبَحَ ] ، فَقَالَ : " لَيَظْهَرَنَّ الْإِيمَانُ حَتَّى يُرَدَّ الْكُفْرُ إِلَى مَوَاطِنِهِ ، وَلَتُخَاضَنَّ الْبِحَارُ بِالْإِسْلَامِ ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَعَلَّمُونَ فِيهِ الْقُرْآنَ ، يَتَعَلَّمُونَهُ وَيَقْرَءُونَهُ ، وَيَقُولُونَ : قَدْ قَرَأْنَا وَعَلِمْنَا ، فَمَنْ ذَا الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنَّا ؟ فَهَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ ضُرٍّ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ أُولَئِكَ ؟ قَالَ : " أُولَئِكَ مِنْكُمْ ، وَأُولَئِكَ وَقُودُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْخَثْعَمِيَّةَ التَّابِعِيَّةَ لَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهَا وَلَا جَرَّحَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رات کے وقت کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے : وہ فرمانبردار شخص تھے ، انہوں نے کہا: اے اللہ ! جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کر دی ، پوری کوشش کی ، خیرخواہی کی ، جس کا یہ نتیجہ نکلا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایمان ضرور غالب آ جائے گا ، یہاں تک کہ کفر کو اُس کے مخصوص مقام کی طرف لوٹا دیا جائے گا ، سمندروں میں اسلام پھیل جائے گا اور لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا ، جس میں وہ قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے ، وہ اسے سیکھیں گے ، اُسے پڑھیں گے اور پھر یہ کہیں گے : ہم نے پڑھ لیا ہے اور علم حاصل کر لیا ہے ، تو کون شخص ایسا ہے ؟ جو ہم سے بہتر ہو ؟ تو کیا ایسے لوگوں میں کوئی نقصان ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تم میں سے ( یعنی اس اُمت میں سے ) ہوں گے اور وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ہند بنت حارث خثعمیہ ، جو تابعیہ ہیں ، ان کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کی توثیق یا اُن پر جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ہند بنت حارث خثعمیہ ، جو تابعیہ ہیں ، ان کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کی توثیق یا اُن پر جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
وَعَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَالَ : إِنِّي عَالَمٌ فَهُوَ جَاهِلٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے اور میرے علم کے مطابق اُنہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہو گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص یہ کہے : میں عالم ہوں ، تو وہ جاہل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ : مَنْ قَالَ : إِنِّي عَالِمٌ فَهُوَ جَاهِلٌ ، وَمَنْ قَالَ : إِنِّي جَاهِلٌ فَهُوَ جَاهِلٌ ، وَمَنْ قَالَ : إِنِّي فِي الْجَنَّةِ فَهُوَ فِي النَّارِ ، وَمَنْ قَالَ : إِنِّي فِي النَّارِ فَهُوَ فِي النَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ الثَّقَفِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : هُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَمَعَ ذَلِكَ فَهُوَ مِنْ قَوْلِ يَحْيَى مَوْقُوفًا عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن ابی کثیر فرماتے ہیں : جو شخص یہ کہے : میں عالم ہوں ، تو وہ جاہل ہو گا اور جو شخص یہ کہے : میں جاہل ہوں ، تو جاہل ہو گا ، جو شخص یہ کہے : میں جنتی ہوں ، تو وہ جہنمی ہو گا اور جو شخص یہ کہے : میں جہنمی ہوں ، تو وہ جہنمی ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوعطا ثقفی ہے ، اسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ، ان سب پہلوؤں کے باوجود یہ یحیی ( بن ابوکثیر کا اپنا ) قول ہے ، جو ان پر موقوف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوعطا ثقفی ہے ، اسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ، ان سب پہلوؤں کے باوجود یہ یحیی ( بن ابوکثیر کا اپنا ) قول ہے ، جو ان پر موقوف ہے ۔