مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْأُمَّةِ مِنْ زَلِّةِ الْعَالِمِ وَجِدَالِ الْمُنَافِقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: اس اُمت کے حوالے سے عالم کی لغزش ، منافق کے جدال اور دیگر کن اُمور کا اندیشہ ہے ؟
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكُمْ وَثَلَاثَةً : زَلَّةَ عَالِمٍ ، وَجِدَالَ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ ، وَدُنْيَا تَقْطَعُ أَعْنَاقَكُمْ ; فَأَمَّا زَلَّةُ عَالِمٍ فَإِنِ اهْتَدَى فَلَا تُقَلِّدُوهُ دِينَكُمْ ، وَأَنْ يَزِلَّ فَلَا تَقْطَعُوا عَنْهُ آمَالَكُمْ . وَأَمَّا جِدَالُ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ فَإِنَّ لِلْقُرْآنِ مَنَارًا كَمَنَارِ الطَّرِيقِ ، فَمَا عَرَفْتُمْ فَخُذُوهُ ، وَمَا أَنْكَرْتُمْ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ . وَأَمَّا دُنْيَا تَقْطَعُ أَعْنَاقَكُمْ ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ فِي قَلْبِهِ غِنًى فَهُوَ غَنِيٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ وَيَحْيَى فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ تین چیزوں سے بچ کے رہنا ! عالم کی لغزش ، منافق کا قرآن کی وجہ سے جدال اور دنیا کا تمہاری گردنیں کاٹ دینا ، جہاں تک عالم کی لغزش کا تعلق ہے ، تو اگر وہ ہدایت یافتہ ہو ، تو تم اپنے دین میں اس کی تقلید نہ کرنا ، اور اگر وہ لغزش کا شکار ہو ، تو اپنی امیدیں اُس سے منقطع نہ کرنا ، جہاں تک منافق کے قرآن کے ذریعے جدال کا تعلق ہے ، تو قرآن مینارہ نور ہے ، جس طرح راستہ کے لئے مینارہ نور ہوتا ہے ، جو چیز تمہیں معروف لگے ، وہ تم حاصل کر لینا اور جو منکر محسوس ہو ، اُسے اُس کے عالم کی طرف لوٹا دینا ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ دنیا تمہاری گردنیں کاٹ دے گی ، تو جس کے دل میں اللہ تعالیٰ خوشحالی ڈال دے گا ، وہ خوشحال ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، عمرو بن مرہ نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اسی طرح لیث کے کاتب عبداللہ بن صالح کو عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک روایت کے مطابق یحیی نے بھی اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔