مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْأُمَّةِ مِنْ زَلِّةِ الْعَالِمِ وَجِدَالِ الْمُنَافِقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: اس اُمت کے حوالے سے عالم کی لغزش ، منافق کے جدال اور دیگر کن اُمور کا اندیشہ ہے ؟
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي مُؤْمِنًا وَلَا مُشْرِكًا ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَحْجِزُهُ إِيمَانُهُ ، وَأَمَّا الْمُشْرِكُ فَيَقْمَعُهُ كُفْرُهُ ، وَلَكِنْ أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مُنَافِقًا عَالِمَ اللِّسَانِ ، يَقُولُ مَا تَعْرِفُونَ ، وَيَعْمَلُ مَا تُنْكِرُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اپنی اُمت کے حوالے سے نہ تو کسی مومن کے بارے میں اندیشہ ہے ، اور نہ ہی کسی مشرک کے بارے میں اندیشہ ہے ، جہاں تک مؤمن کا تعلق ہے ، تو اس کا ایمان اسے بچا لے گا ، جہاں تک مشرک کا تعلق ہے ، تو اس کا کفر اسے خراب کر دے گا ، مجھے تم لوگوں کے بارے میں منافق کے حوالے سے اندیشہ ہے ، جو گفتگو کا ماہر ہو گا ، وہ ایسی بات کرے گا ، جو تمہیں معروف محسوس ہو گی ، اور ایسا عمل کرے گا ، جو تمہیں منکر محسوس ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی حارث اعور نام کا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔