كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة
کتاب وسنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا ثواب
مسلک سنت پر اے سالک چلا جا بے دھڑک
جنت الفردوس کو سیدھی جاتی ہے یہ سڑک
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو ملے اس پر راضی رہنا چاہیے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کچھ نہ بھی دیں تب بھی ان کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیے۔ اس میں اموالِ غنیمت ، اموال فی اور دیگر تمام چیزیں داخل ہیں۔ علماء نے ذیل میں دی گئی آیت سے استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر صحیح حدیث قرآن کے حکم میں داخل ہے، آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں:
﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
” اللہ نے اپنے رسول کو دیہات والوں سے جو مال دلوایا تو وہ اللہ کا ہے اور رسول کا، اور قرابت والوں اور یتیموں، مسکینوں، اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال نہ رہ جائے ، اور تمہیں جو کچھ رسول دیں لے لو اور جس سے روکیں رُک جاؤ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب کرنے والا ہے۔“
(59-الحشر:7)
جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے، اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ راہنمائی لیتا رہے، تو یہ ناممکن ہے کہ وہ دین اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ کفر قبول کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾
” تم کیسے کفر کو قبول کر لو گے؟ جبکہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں، اور تم میں رسول اللہ موجود ہیں ۔ جو شخص اللہ (کے دین) کو مضبوط تھام لے تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی ۔“
(3-آل عمران:101)
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ وہ عجلت میں آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لینے سے پہلے کوئی بات کہیں، یا کوئی کام کریں، یا اللہ اور اس کے رسول کا حکم جاننے سے پہلے کوئی اقدام کریں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ . يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ. إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ.﴾
”اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ سننے جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو! نبی کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو اور ان کے سامنے بلند آواز سے اس طرح بات نہ کرو جس طرح تم میں سے بعض بعض کے سامنے اپنی آواز بلند کرتا ہے، ورنہ تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے، اور تم اس کا احساس بھی نہ کر سکو گے ۔ بے شک جو لوگ رسول اللہ کے سامنے اپنی آواز میں دھیمی رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے پرکھ لیا ہے۔ ان کے لیے اللہ کی مغفرت اور اجر عظیم ہے۔“
(49-الحجرات:1۔3)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے آیت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانو ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی کام کرنے میں جلدی نہ کرو، بلکہ تمام امور میں ان کی پیروی کرو ۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کا معنی بیان کیا ہے کہ اے وہ لوگو! جنھوں نے اللہ کی وحدانیت اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کیا ہے، تم اپنے کسی جنگی یا دینی معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے پہلے خود کوئی فیصلہ نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے خلاف فیصلہ کر لو۔
نیز مفسرین لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس آیت کے پیش نظر ، مسلمانوں پر واجب ہے کہ جب بھی آپ کا ذکر جمیل آئے ، یا آپ کا کوئی حکم یا کوئی حدیث بیان کی جائے تو ادب و احترام ملحوظ رکھا جائے ، آپ کی شان میں ادنی گستاخی بھی نہ ہونے پائے ، آپ کی حدیث پر کسی دوسرے کے قول کو مقدم نہ کیا جائے ، چاہے وہ دنیا کا کوئی بھی انسان ہو۔“ (تیسیر الرحمن: 2/ 1447،1446)
زندگی کے تمام امور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور ان کی سنت کی کسوٹی پر پرکھنا واجب ہے، جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو گی اسے قبول کر لیا جائے گا، اور جو قول و عمل اس کے مخالف ہو گا اسے رد کر دیا جائے گا، چاہے کہنے یا کرنے والا کوئی بھی انسان ہو ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
تم اللہ کے نبی کے بلانے کو ایسا معمولی بلاوا نہ سمجھو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے۔ تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں۔ سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبر دست آفت نہ آپڑے یا انہیں کوئی دکھ کی مار نہ پڑے۔
(24-النور:63)
فقہاء نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا ”امر“ وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے کہ یہاں آپ کے حکم کو ترک کر دینے کا لازمی نتیجہ دوسزاؤں میں سے ایک کو بتایا گیا ہے کہ یا تو کوئی بلا نازل ہو گی، یا کوئی درد ناک عذاب ہے۔ اس لیے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت کرتے ہیں، یا فاسد تاویلوں کے ذریعہ دوسروں کے اقوال کو اس پر ترجیح دیتے ہیں، انہیں اس آیت پر ضرور غور کرنا چاہیے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و محبت کا تصور کرتے ہوئے ، کسی کے قول و عمل کو سنت کے مقابلے میں درخور اعتناء نہیں سمجھنا چاہیے ۔ ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء یہ بھی اللہ کا فضل و کرم ہے جس سے وہ سب کو نہیں نوازتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنا باعث محبت الہی ہے، اور مزید برآں اللہ تعالیٰ متبعین سنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گناہوں کو بھی بخش دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
” کہہ دیجیے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔“
(3-آل عمران:31)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی نیک صفات اور اچھے اخلاق وکردار میں مومنوں کے لیے بہتر نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشکل گھڑیوں میں ہمیشہ ثابت قدم رہے ، دکھ اور مصیبت پر صبر کیا، اور کسی حال میں بھی آپ کے پائے استقامت میں لغزش نہیں پیدا ہوئی ۔ مکی زندگی میں اہل قریش نے آپ پر مصائب کے پہاڑ ڈھائے، اور آپ اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا، لیکن آپ ایمان و عزیمت کے ساتھ سب کچھ جھیل گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اوصاف ان مومنوں کے لیے مشعل راہ ہیں جو رضائے الہی اور ثواب آخرت کی امید لگائے ہوتے ہیں ، ایسے لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے وقت بزدلی نہیں دکھاتے اور اللہ کو خوب یاد کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾
”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے، اور بکثرت اللہ کو یاد کرتا ہے۔“
(33-الأحزاب:21)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سراسر ہدایت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾
” اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں بے شک آپ راہِ راست کی رہبری کر رہے ہیں ۔“
(42-الشورى:52)
اختلافی امور اور معاملات میں فیصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کو ماننا چاہیے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
” قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور نا خوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔“
(4-النساء:65)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اور طاغوتوں کو اپنا فیصل مان کر اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا، کہ نفاق کے عذاب کے ساتھ تو ایک اور عذاب الہی کے مستحق بنے ۔ اس عذاب سے بچنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ اپنے نفاق اور اس جرم عظیم سے تائب ہو کر آپ کے پاس آتے ، اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے ، اور آپ بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے ، تو اللہ ان کے گناہوں کو معاف کر دیتا۔
آیت کا تعلق منافقین کے ایک خاص واقعہ سے ہے جس کا اوپر بیان ہو چکا کہ نفاق کی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے کاہنوں کو اپنا فیصل مانا، ورنہ عام حالات میں توبہ کے لیے یہ شرط نہیں تھی کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسا اور کوئی واقعہ نہیں ملتا۔
بعض مبتدعہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس آکر طلب مغفرت کی دعا کرنا، ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ کی زندگی میں آپ کے پاس آ کر مغفرت طلب کرنا تھا۔ اس لیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو قبر میں ایسا ہی زندہ سمجھتے ہیں جیسے موت سے پہلے تھے۔ کہتے ہیں کہ صرف ایک حجاب حائل ہو گیا ہے، اور اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں یہ تحریف معنوی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں قرآن وسنت کے سراسر خلاف عقیدہ ہے۔ (تیسیرالرحمن: 271/1)
مزید ارشاد ہوا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾
”اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں، پھر اگر تم جھگڑ پڑو کسی بات میں تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور یوم آخرت پر ، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہے۔“
(4-النساء:59)
اطاعت رسول کی اہمیت کا اندازہ ذیل کی آیت کریمہ سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کر کے اللہ کا فرمانبردار نہیں بن سکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی خلاف ورزی کر کے اللہ کی بندگی نہیں ہو سکتی ۔ پس جو شخص آپ کی اتباع کرے گا، وہ نیک بخت ہوگا اور جہنم سے نجات پا جائے گا، اور جو روگردانی کرے گا، وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پائے گا:
﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا﴾
جس نے رسول کی اطاعت کی پس تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان نہیں بھیجا۔
(4-النساء:80)
عن أنس رضى الله عنه يقول: جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبى صلى الله عليه وسلم ، يسألون عن عبادة النبى صلى الله عليه وسلم ، فلما أخبروا كأنهم تقالوها فقالوا: وأين نحن من النبى صلى الله عليه وسلم ؟ قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر . فقال أحدهم: أما أنا أصلي الليل أبدا ، وقال آخر: أنا أصوم الدهر ولا أفطر ، وقال آخر: أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا، فجاء إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ” أنتم الذين قلتم كذا وكذا؟! أما والله! إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكني أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني“.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھر آئے ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھنے لگے۔ جب ان کو (اس کی تفصیل ) بتلائی گئی تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقابلہ؟ آپ کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں (اس لیے ہمیں تو آپ سے زیادہ عبادت کرنے کی ضرورت ہے) چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزے رکھوں گا، کبھی روزے کا ناغہ نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ باتیں پہنچیں تو ) آپ ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پوچھا، تم نے اس اس طرح کہا ہے؟ ( جب اس کا جواب انہوں نے اثبات میں دیا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خبر دار ! اللہ کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کا سب سے زیادہ خوف دل میں رکھنے والا ہوں۔ لیکن میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، ( رات کو ) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے میں شادی بھی کرتا ہوں (پس یہ سارے کام ہی میری سنت ہیں ) اور جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ میں سے نہیں (یعنی مجھ سے اس کا تعلق نہیں ) ۔“
صحیح بخاری، کتاب النكاح، باب الترغيب في النكاح، رقم: 5063 ـ صحیح مسلم، کتاب النكاح، باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه… رقم: 1401.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی باعث ہلاکت، تباہی اور بربادی ہے۔ اس کا اندازہ درج ذیل واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے، سلمہ بن عمر و بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
” أن رجلا أكل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بشماله فقال: كل بيمينك“. قال: ”لا أستطيع“. قال: ”لا استطعت“. ما منعه إلا الكبر، فما رفعها إلى فيه.
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ نے اس سے فرمایا: ” اپنے داہنے ہاتھ سے کھاؤ۔“ اس نے کہا: اس کی میں طاقت نہیں رکھتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو اس کی طاقت نہ ہی رکھے ۔“ اس کو داہنے ہاتھ کے ساتھ کھانے سے صرف تکبر نے روکا تھا، پس (اس کے بعد ) وہ اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے منہ تک نہیں اٹھا پایا ( یعنی اٹھانے کے قابل ہی نہیں رہا )
صحیح مسلم، کتاب الأشربة، باب آداب الطعام والشرب وأحكامهما، رقم: 2021.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع جنت کا راستہ ہے۔ اور آپ کی نافرمانی جہنم کا راستہ ہے۔ یعنی نافرمان لوگ جنت میں جانے سے محروم رہیں گے :
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” كل أمتي يدخلون الجنة إلا من أبى“. قيل: يا رسول الله؟ ومن يأبى؟ قال: ”من أطاعني دخل الجنة ، ومن عصاني فقد أبى“.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت ،سب کی سب جنت میں جائے گی ،سوائے ان افراد کے جو انکار کر دیں، پوچھا گیا ، یا رسول اللہ ! ( جنت میں جانے ) سے کون انکار کرے گا؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ” جس نے میری اطاعت کی ، وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے (جنت میں جانے سے ) انکار کر دیا ۔“
صحیح بخاري، کتاب الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم، رقم: 7280.
مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو
ادھر حکم محمد ﷺ ہو، ادھر گردن جھکائی ہو
سیدنا ابو نجیح عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ایک مرتبہ ) نہایت مؤثر وعظ ارشاد فرمایا، جس سے دل ڈر گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ ہم نے کہا، یا رسول اللہ ! یہ تو گویا الوداع کہنے والے کا وعظ ہے، پس آپ ہمیں وصیت فرمادیجیے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” أوصيكم بتقوى الله ، والسمع والطاعة وإن عبد حبشي فإنه من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا – فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين ، تمسكوا بها عضوا عليها بالنواجذ ، وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة“.
میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور سمع و طاعت ( یعنی امیر کی بات سننے اور اس پر عمل کرنے) کی وصیت کرتا ہوں، اگر چہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر مقرر ہو جائے۔ (یاد رکھو!) تم میں سے جو (میرے بعد ) زندہ رہے گا، وہ بہت اختلاف دیکھے گا، پس تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا ، ان کو دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، دین میں نئے نئے کام ( بدعات ) ایجاد کرنے سے بچنا ، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔
سنن أبي داود، كتاب السنة، باب لزوم السنة، رقم : 4607 – سنن ترمذي، كتاب العلم، باب الأخذ بالسنة واجتناب البدع ، رقم : 2676 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
مذکورہ بالا حدیث نبوی میں سنت نبوی اور سنت خلفائے راشدین کے اتباع کی تاکید کی گئی ہے۔اور بدعات سے اجتناب کی تلقین ہے۔ علاوہ ازیں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی خبر دی کہ یہ امت اختلاف کا شکار ہو جائے گی اور ساتھ ہی صحیح راستے کی نشاندہی بھی فرمادی اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور خلفائے راشدین کے تعامل سے تجاوز نہ کیا جائے ۔ یہ کثرت اختلاف میں حق کو پہچانے کی ایک کسوٹی اور معیار ہے۔ کاش ! مسلمان اس معیار نبوی کو ہی واحد معیار حق تسلیم کر لیں ۔
فائدہ: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا: ”میں جانتا ہوں، تو ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے (کبھی) بوسہ نہ دیتا ۔“
صحیح بخاری کتاب الحج ،رقم: 1610 – صحیح مسلم، کتاب الحج، رقم: 1270.