تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہ آیت گو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی، مگر اس کے لفظ عام ہیں، اس لیے یہ ہر موقع اور محل کے لیے عام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اقوال، افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں، جن پر انھیں چلنا لازم ہے اور ان کے لیے جائز نہیں کہ اپنی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے گریز کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ }» [آل عمران: ۳۱] ”کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھیں تمھارے گناہ بخش دے گااور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ اعراف کی آیات (۱۵۶ تا ۱۵۸) اور سورۂ حشر (۷)۔
➌ {اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ:} اُسوہ (نمونہ) دو طرح کا ہے، ایک اسوۂ حسنہ (اچھا نمونہ) اور دوسرا اسوۂ سیئہ (برا نمونہ)۔ اسوۂ حسنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ آپ کی پیروی کرنے والا صراط مستقیم پر چل کر عزت و نعمت کی جنت تک پہنچ جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو بھی ہے وہ اسوۂ سیئہ ہے، جیسا کہ کفار کو جب رسولوں نے اپنی پیروی کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: «{ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ }» [الزخرف: ۲۲]”بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔“
➍ {لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ …:} اس اسوۂ حسنہ پر وہی لوگ چلتے ہیں اور انھی کو اس کی توفیق ملتی ہے جن میں تین وصف ہوں، ایک اللہ پر ایمان، اس سے ملاقات اور اس کے دیدار کی امید، دوسرا آخرت پر ایمان اور اس کے ثواب کی امید اور تیسرا کثرت سے اللہ کو یاد کرنا۔ ان لوگوں کو یہ تینوں چیزیں رسول کی پیروی کے لیے ہر وقت آمادہ اور مستعد رکھتی ہیں، بخلاف کافر اور منافق کے جس کا نہ اللہ پر ایمان ہے، نہ آخرت پر اور نہ کبھی اس نے اپنے مالک کو یاد کیا، تو ان لوگوں کے سامنے دنیا کی زندگی اور اس کی لذتوں کے سوا کچھ ہے ہی نہیں، اس لیے وہ رسول کو نمونہ بنانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے تھے فرماتا ہے کہ ’ تم نے میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کیوں نہ کی؟ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمہارے سامنے تھا تمہیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا۔ تم جبکہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لیے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے؟‘
ان کے اس کامل یقین اور سچے ایمان کو رب نے بھی دیکھ لیا اور دنیا آخرت میں انجام کی بہتری انہیں عطا فرمائی۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ کے جس وعدہ کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ آیت یہ ہو جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ آیت «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّـهِ قَرِيبٌ» ۱؎ [2-البقرة:214]، یعنی ’ کیا تم نے یہ سمجھ لیا؟ کہ بغیر اس کے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ تم سے اگلے لوگوں کی آزمائش بھی ہوئی انہیں بھی دکھ درد لڑائی بھڑائی میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہلایا گیا کہ ایماندار اور خود رسول کی زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی مدد کو دیر کیوں لگ گئی؟ یاد رکھو رب کی مدد بہت ہی قریب ہے ‘۔
یعنی یہ صرف امتحان ہے ادھر تم نے ثابت قدمی دکھائی ادھر رب کی مدد آئی۔ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے۔ فرماتا ہے کہ ’ ان اصحاب پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اپنے مخالفین کی اس قدر زبردست جمعیت دیکھ کر اور بڑھ گیا۔ یہ اپنے ایمان میں اپنی تسلیم میں اور بڑھ گئے۔ یقین کامل ہو گیا فرمانبرداری اور بڑھ گئی ‘۔
اس آیت میں دلیل ہے ایمان کی زیادتی ہونے پر۔ بہ نسبت اوروں کے ان کے ایمان کے قوی ہونے پر جمہور ائمہ کرام کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ ہم نے بھی اس کی تقریر شرح بخاری کے شروع میں کر دی ہے «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» ۔
پس فرماتا ہے کہ ’ اس کی تنگی ترشی نے اس سختی اور تنگ حالی نے اس حال اور اس نقشہ نے انکا جو ایمان اللہ پر تھا اسے اور بڑھا دیا اور جو تسلیم کی خو ان میں تھی کہ اللہ رسول کی باتیں مانا کرتے تھے اور ان پر عامل تھے اس اطاعت میں اور بڑھ گئے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لقد كان لكم في رسول الله أسوةٌ حسنةٌ}: حيث حَضَرَ الهيجاءَ بنفسه الكريمة، وباشرَ موقفَ الحرب وهو الشريفُ الكاملُ والبطل الباسلُ، فكيف تشحُّون بأنفسكم عن أمرٍ جادَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - بنفسه فيه، فتأسَّوْا به في هذا الأمر وغيره.
واستدَّل الأصوليُّون في هذه الآية على الاحتجاج بأفعال الرسول - صلى الله عليه وسلم -، وأنَّ الأصل أنَّ أمَّتَه أسوتُه في الأحكام؛ إلاَّ ما دلَّ الدليل الشرعيُّ على الاختصاص به؛ فالأسوةُ نوعان: أسوةٌ حسنةٌ وأسوةٌ سيئةٌ، فالأسوةُ الحسنةُ في الرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّ المتأسِّي به سالكٌ الطريق الموصل إلى كرامة الله، وهو الصراط المستقيم، وأمَّا الأسوة بغيره إذا خالَفَه؛ فهو الأسوة السيئة؛ كقول المشركين حين دعتهم الرسل للتأسِّي بهم: {إنَّا وَجَدْنا آباءنا على أمَّةٍ وإنَّا على آثارِهِم مهتدونَ}: وهذه الأسوةُ الحسنةُ إنَّما يسلُكُها ويوفَّقُ لها مَنْ كان يرجو الله واليوم الآخر؛ فإنَّ ذلك ما معه من الإيمانِ وخوفِ الله ورجاء ثوابِهِ وخوفِ عقابِهِ يحثُّه على التأسِّي بالرسول - صلى الله عليه وسلم -.