شام میں ابراہیم اور یوسف علیہ السلام کی قبریں اور صحابیہ کا طرز عمل :
سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنهم کے دورِ خلافت اور اسکے کافی عرصہ بعد ایک کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں کہ انہوں نے کسی نبی یا کسی صالح انسان کی قبر کی طرف رخت سفر باندھا ہو۔ شام میں ابراہیم علیہ السلام کی قبر معروف تھی لیکن کسی صحابی نے قبر خلیل کی زیارت کے لیے سفر نہیں کیا۔ صحابہ کرام بیت المقدس تشریف لے جاتے وہاں نماز پڑھتے لیکن قبر خلیل کے نزدیک نہ جاتے۔ قبر خلیل اس وقت تو ظاہر بھی نہ تھی کیونکہ وہ اس مکان کے اندر تھی جسے سلیمان بن داؤد نے بنایا تھا۔ اور نہ ہی قبر یوسف معروف تھی بلکہ اسے سن ہجری سے 300 سال سے زیادہ عرصہ کے بعد ظاہر کیا گیا۔ اسی وجہ سے اس میں اختلاف واقع ہوا۔ اکثر اہل علم اس (قبر) کا انکار کرتے ہیں اور ان میں امام مالک سر فہرست ہیں۔ صحابہ کرام نے کبھی بھی قبر خلیل کو معروف کرنے کی نیت سے سفر نہیں کیا۔ جب نصاری نے شام پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس مکان کو جس میں قبر خلیل تھی گرا کر وہاں کنیسہ بنا دیا۔ اور پھر جب مسلمانوں نے شام کو دوبارہ فتح کیا تو انہوں نے قبر خلیل کو کھلا رہنے دیا صحابہ کے دور میں قبر خلیل بالکل اسی طرح تھی جیسے قبر مکرم حجرہ میں تھی۔
قبر مبارک اور صحابہ کرام :
صحابہ کرام میں ایک صحابی بھی ایسا نہیں ملتا جس نے مدینہ منورہ کا سفر اس نیت سے کیا ہو کہ وہاں قبر مکرم ہے بلکہ صحابہ کرام کا معمول یہ تھا کہ وہ مسجد نبوی میں تشریف لاتے نماز پڑھتے تشہد میں مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت آپ پر درود و سلام پڑھتے۔ درآنحالیکہ رسول اللہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک میں مدفون تھے۔ صحابہ کرام نہ تو حجرہ کے اندر داخل ہوتے اور نہ ہی باہر کھڑے ہوتے۔
قبر مبارک اور اہل یمن :
سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں جب شام و عراق فتح ہوئے اور یمن کے وفود مدینہ منورہ آنے شروع ہوئے تو وہ بھی مسجد نبوی میں نماز پڑھتے اور ان میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو قبر کریم کے قریب جاتا یا حجرہ مبارک کے اندر داخل ہوتا یا حجرہ کے باہر مسجد میں کھڑا ہوتا بلکہ ہر آنے والا حجرے کے باہر ہی سے درود و سلام پڑھتا۔
انہی کے بارے میں رب ذوالجلال فرماتا ہے:
فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ
”عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم لائے گا جس سے وہ محبت کرے گا اور وہ قوم بھی اللہ سے محبت کرے گی۔“
(5-المائدة:54)