شراب سے علاج، طاعون زدہ شہر میں آمدورفت اور بخار کو برا کہنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

شراب سے علاج کرنے کی ممانعت

① سیدنا طارق بن سوید جعفی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا یا ناپسند کیا تو انہوں نے عرض کیا: ”میں اسے دوا کے لیے بناتا ہوں“۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنه ليس بدواء ولكنه داء
”وہ دوا نہیں بلکہ وہ تو بیماری ہے“۔
مسلم، كتاب الأشربة 12 / 1984۔ مسند احمد، اوّل مسند الكوفيين 389/4، حدیث 18883۔

طاعون زدہ شہر سے نکلنے اور وہاں جانے کی ممانعت

① سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سمعتم الطاعون بأرض فلا تدخلوها وإذا وقع بأرض وأنتم فيها فلا تخرجوا منها
”جب تم کسی ملک میں طاعون کی وبا کے متعلق سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب تم ایسے ملک میں ہو جہاں طاعون پھیل چکا ہو تو پھر وہاں سے نہ نکلو“۔
بخاری، کتاب الطب 5728۔ مسلم، كتاب السلام 2218/92۔

بخار کو برا بھلا کہنے کی ممانعت

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا:
ما لك يا أم السائب أو يا أم المسيب تزفزفين؟
”ام سائب یا ام مسیب! تمہیں کیا ہوا، کانپ رہی ہو؟“
انہوں نے کہا: بخار ہے، اللہ اسے برکت نہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تسبي الحمىٰ ، فإنها تذهب خطايا بني آدم ، كما يذهب الكير خبث الحديد
”بخار کو برا بھلا مت کہو، اس لیے کہ وہ اولادِ آدم کے گناہ اس طرح ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل ختم کر دیتی ہے“۔
مسلم، كتاب البر والصلة والآداب 53 / 2575۔