شہادتِ عمر رضی اللہ عنہ کی تاریخ: روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
تحریر: غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

یومِ شہادتِ عمر رضی اللہ عنہ

سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے: طعن عمر يوم الأربعاء لثلاث بقين من ذي الحجة ثم بقي ثلاثة أيام ثم مات رحمه الله.

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ محرم سے تین روز قبل بروز بدھ زخمی ہوئے، تین دن زندہ رہنے کے بعد جامِ شہادت نوش فرما گئے، رحمہ اللہ۔

(محن العلماء لأبي العرب:ص67)

تبصرہ:

روایت ضعیف ہے۔

حافظ ابو العرب کے شیوخ ،،غیر واحد،، مبہم اور مجہول ہیں۔

اسد بن فرات کی معتبر توثیق نہیں۔

طبقات ابن سعد (3/335) اور تاریخ طبری (2/193) کی روایت واقدی کی وجہ سے ضعیف ہے۔

تنبیہ:

اس کی سند متصل قرار دینا درست نہیں۔

حافظ ابو العرب (333ھ) کے استادوں میں محمد بن اسحاق بن یسار مدنی (تقریباً 150ھ) نہیں ہیں، لقا و سماع بھی ممکن نہیں ہے، تو سند متصل کیسے؟

حافظ ابو العرب نے اس کتاب میں محمد بن اسحاق مدنی کی جتنی روایات ذکر کی ہیں، وہ واسطے کے ساتھ ذکر کی ہیں۔

اس سند میں محمد بن اسحاق مدنی ہے، اسے سعید بن اسحاق یا کوئی اور راوی سمجھنا درست نہیں۔ اگر مدنی کے علاوہ کوئی بھی ابن اسحاق ہو، تو سند منقطع ہوگی، بلکہ معضل ہوگی، یحییٰ بن عباد (م: تقریباً بعد 100ھ) کے شاگردوں میں صرف محمد بن اسحاق بن یسار مدنی ہیں۔

فائدہ:

سعید بن مسیّب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ما انسلخ ذو الحجة حتى قتل عمر رحمه الله.

ابھی ذوالحجہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا، رحمہ اللہ۔

(موطأ الإمام مالك: 2/824، وسنده صحیح)

معلوم ہوا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت ذوالحجہ کے آخر میں ہوئی، واللہ اعلم!