تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا:” يَتَسَلَّلُوْنَ “ } آہستہ آہستہ خفیہ طریقے سے نکلتے ہیں، کھسکتے ہیں، جیسے {” تَدَخَّلَ“} اور {” تَدَرَّجَ“} میں آہستہ آہستہ کا مفہوم شامل ہے۔ {” لِوَاذًا “ لَاذَ يَلُوْذُ} سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، ایک دوسرے کی پناہ لینا۔ یہ منافقین کا شیوہ تھا کہ کوئی مسلمان اجازت لے کر نکلتا تو اس کی آڑ لے کر وہ بھی نکل جاتے۔ کھسکنے والوں کو اللہ کی گرفت سے ڈرانا مقصود ہے۔
➌ {فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ: ” خَالَفَ يُخَالِفُ خِلَافًا وَ مُخَالَفَةً“} کا معنی پیچھے رہنا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ۠ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ }» [التوبۃ: ۸۱] ”وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہو گئے۔“ {” يُخَالِفُوْنَ “} کے بعد {” عَنْ “} کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے ”سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں۔“ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۲۴، ۲۵) شوکانی نے فرمایا: {” يُخَالِفُوْنَ “} کے بعد {”عَنْ “} لانے کا مطلب یہ ہے کہ {” يُخَالِفُوْنَ “} کے ضمن میں اعراض کا مفہوم شامل ہے، یعنی جو لوگ اس کے حکم سے اعراض کرتے ہیں۔“ زمخشری نے فرمایا: {” يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ “} کا معنی {”يَصُدُّوْنَ عَنْ أَمْرِهِ“} ہے، یعنی جو لوگ اس کے حکم سے دوسروں کو روکتے ہیں۔“ مختصر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پیچھے رہنے کا نتیجہ فتنے میں مبتلا ہونا ہے۔ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے کہ آیت {” وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ “} میں فتنہ سے مراد شرک ہے، یعنی جو شخص جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل نہیں کرتا یا عمل کرنے میں تاخیر کرتا ہے، خطرہ ہے کہ وہ خالص ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور کفر و شرک یا بدعت میں مبتلا ہو جائے گا۔
➍ { اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ:} دنیا میں اس عذاب کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں، دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۶۵) کی تفسیر۔
➎ اس آیت میں لفظ{ ” اَوْ “} مانعۃ الخلو ہے، یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ فتنے اور عذابِ الیم میں سے کوئی چیز بھی ان پر نہ آئے، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ دونوںچیزیں ان پر اتریں۔
➏ جب صرف ایک معاملہ میں رسول کی اطاعت نہ کرنے پر یہ وعید سنائی گئی ہے تو ان لوگوں کو اپنے معاملے پر ضرور غور کرنا چاہیے جنھوں نے رسول کو سرے سے اطاعت کا مستحق ہی نہیں سمجھا، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بے نیاز ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[101] دن کے پچھلے حصہ (اصیل) میں تو تین نمازیں آجاتی ہیں۔ مگر پہلے حصے میں ایک بھی فرض نماز نہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ دن کے پہلے حصہ میں کوئی ایسی وحی آجاتی جس سے مسلمانوں کو فوری طور پر آگاہ کرنا ضروری ہوتا تھا۔ اس غرض سے مسجد نبوی میں اذان کہہ کر مسلمانوں کو بلا لیا جاتا۔ آپ وحی سناتے۔ خطبہ ارشاد فرماتے اور حالات حاضرہ سے متعلق بعض دفعہ مشورے بھی مقصود ہوتے تھے اور بعض دفعہ اللہ کے احکام کی فوری نشر و اشاعت۔
اسی سلسلہ میں منافق بھی ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ضرور ہو جاتے اور یہ بات نفاق کا شبہ دور کرنے کی خاطر ان کے لئے ضروری بھی ہوتی تھی۔ حاضری لگوا لینے کے بعد وہ اس انتظار میں رہتے تھے کہ موقع ملے تو چپکے سے کھسک جائیں اور بمصداق جوئندہ یابندہ وہ کھسک بھی جایا کرتے تھے۔ اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کو خطاب کیا جا رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی کے مثل آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» ۱؎ [2-البقرة:104] ہے اور اسی جیسی آیات «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:2-5] ہے یعنی ’ ایمان والو! اپنی آوازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پربلند نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی اونچی آوازوں سے نہ بولو جیسے کہ بے تکلفی سے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اگر ایسا کیا تو سب اعمال غارت ہو جائیں گے اور پتہ بھی نہ چلے ‘۔
یہاں تک کہ فرمایا ’ جو لوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس آ جاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا ‘۔
پس یہ سب آداب سکھائے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح بولیں چالیں بلکہ پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشیاں کرنے کے لیے صدقہ کرنے کا بھی حکم تھا۔
اس سے اگلے جملے کی تفسیر میں مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پر بہت بھاری پڑتا تھا جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیتے اس لیے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے۔“
بخاری مسلم میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2697]
ظاہر یا باطن میں جو بھی ہے شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کرے اس کے دل میں کفر ونفاق، بدعت وبرائی کا بیج بودیا جاتا ہے یا اسے سخت عذاب ہوتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی قتل قید حد وغیر جیسی سزائیں ملتی ہیں یا آخرت میں عذاب اخروی ملے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا تجعلوا دُعاءَ الرسول بينَكم كدعاءِ بعضِكُم بعضاً}؛ [أي لا تجعلوا دُعاءَ الرَّسولِ إيَّاكُم، ودُعَاءَكم للرَّسولِ كَدُعاءِ بَعْضِكم بَعْضاً]، فإذا دعاكم؛ فأجيبوه وجوباً، حتى إنه تجبُ إجابة الرسول - صلى الله عليه وسلم - في حال الصلاة، وليس أحدٌ إذا قال قولاً يجبُ على الأمَّة قَبولُ قولِهِ والعملُ به إلاَّ الرسول؛ لعصمتِهِ، وكونِنا مخاطَبينَ باتِّباعه؛ قال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا اسْتَجيبوا للهِ وللرسولِ إذا دَعاكُم لِما يُحْييكُم}. وكذلك لا تجعلوا دعاءكم للرَّسول كدُعاءِ بعضِكُم بعضاً؛ فلا تقولوا: يا محمدُ عند ندائِكم، أو: يا محمد بن عبد الله! كما يقولُ ذلك بعضُكم لبعض، بل من شرفِهِ وفضلِهِ وتميُّزِهِ - صلى الله عليه وسلم - عن غيرِهِ أنْ يُقال: يا رسولَ الله! يا نبيَّ الله! {قد يعلم الله الذين يتسلَّلونَ منكم لِواذاً}. لما مَدَحَ المؤمنين بالله ورسولِهِ الذين إذا كانوا معه على أمرٍ جامع لم يَذْهبوا حتى يستأذِنوه؛ توعَّدَ مَنْ لم يفعلْ ذلك وذَهَبَ من غير استئذانٍ؛ فهو؛ وإن خفي عليكم بذَهابه على وجهٍ خفيٍّ، وهو المراد بقوله: {يتسلَّلون مِنكم لِواذاً}؛ أي: يلوذون وقتَ تسلُّلهم وانطلاقهم بشيء يحجُبُهم عن العيون؛ فالله يعلمهم، وسيجازيهم على ذلك أتمَّ الجزاء، ولهذا توعَّدهم بقولِهِ: {فليحذرِ الذين يخالفونَ عن أمرِهِ}؛ أي: يذهبون إلى بعض شؤونهم عن أمرِ الله ورسولِهِ؛ فكيف بمَنْ لم يذهبْ إلى شأن من شؤونه، وإنَّما تركَ أمرَ الله من دون شغل له؛ {أن تُصيبَهم فتنةٌ}؛ أي: شركٌ وشرٌّ، {أو يُصيبَهم عذابٌ أليمٌ}.