ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 80

مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ وَ مَنۡ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ﴿ؕ۸۰﴾
جو رسول کی فرماں برداری کرے تو بے شک اس نے اللہ کی فرماںبرداری کی اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ En
جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا
En
اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منھ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) ➊ {مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ …:} چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور مبلغ ہیں، اس لیے ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دوسرے شریعت کے احکام سب ایسے ہیں جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیح کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں، لہٰذا قرآن مجید سمجھنے کے لیے کوئی شخص سنت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ [تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الرسالۃ للشافعی رقم: (۵۷، ۵۸) أیضًابحث البیان الرابع]
➋ {وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ:} یعنی اس کے بعد بھی اگر لوگ گمراہ ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے۔ (رازی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ جس کسی نے رسول کی اطاعت کی تو اس [112] نے اللہ کی اطاعت کی اور اگر کوئی منہ موڑتا ہے تو ہم نے آپ کو ان پر پاسبان بنا کر نہیں بھیجا
[112] اس لیے کہ اللہ کے احکام کی اطاعت کا عملی نمونہ اللہ کا رسول ہی پیش کر سکتا ہے اور اس کے احکام کی حکمت اور منشا کو اس کا رسول ہی سب سے بہتر سمجھ سکتا ہے لہٰذا رسول کی اتباع اور اس کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہو گی۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی شخص رسول کے احکام سے اعراض کرتا ہے تو جبر و اکراہ سے اطاعت کرانا رسول کی ذمہ داری نہیں ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ظاہر و باطن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع بنا لو ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تابعدار صحیح معنی میں میرا ہی اطاعت گزار ہے آپ کا نافرمان میرا نافرمان ہے، اس لیے کہ آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے جو فرماتے ہیں وہ وہی ہوتا ہے جو میری طرف سے وحی کیا جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’ کہ میری ماننے والا اللہ تعالیٰ کی ماننے والا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی بات نہ مانی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ‘ یہ حدیث بخاری و مسلم میں ثابت ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7137]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے جو بھی منہ موڑ کر بیٹھ جائے تو اس کا گناہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر نہیں آپ کا ذمہ تو طرف پہنچا دینا ہے، جو نیک نصیب ہوں گے مان لیں گے نجات اور اجر حاصل کر لیں گے ہاں ان کی نیکیوں کا ثواب آپ کو بھی ہو گا کیونکہ دراصل اس راہ کا راہبر اس نیکی کے معلم آپ ہی ہیں۔ اور جو نہ مانے نہ عمل کرے تو نقصان اٹھائے گا بدنصیب ہو گا اپنے بوجھ سے آپ مرے گا اس کا گناہ آپ پر نہیں اس لیے کہ آپ نے سمجھانے بجھانے اور راہ حق دکھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حدیث میں ہے { اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے ولا رشد وہدایت والا ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان اپنے ہی نفس کو ضرر و نقصان پہنچانے والا ہے۔} ۱؎ [سنن ابوداود:1097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
پھر منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ظاہری طور پر اطاعت کا اقرار کرتے ہیں موافقت کا اظہار کرتے ہیں لیکن جہاں نظروں سے دور ہوئے اپنی جگہ پر پہنچے تو ایسے ہو گئے گویا ان تلوں میں تیل ہی نہ تھا جو کچھ یہاں کہا تھا اس کے بالکل برعکس راتوں کو چھپ چھپ کر سازشیں کرنے بیٹھ گے۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی ان پوشیدہ چالاکیوں اور چالوں کو بخوبی جانتا ہے اس کے مقرر کردہ زمین کے فرشتے ان کی سب کرتوتوں اور ان کی تمام باتوں کو اس کے حکم سے ان کے نامہ اعمال میں لکھ رہے ہیں، پس انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ یہ کیا بیہودہ حرکت ہے؟ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس سے تمہاری کوئی بات چھپ سکتی ہے؟ تم کیوں ظاہر و باطن یکساں نہیں رکھتے، ظاہر باطن کا جاننے والا تمہیں تمہاری اس بیہودہ حرکت پر سخت سزا دے گا۔
ایک اور آیت میں بھی منافقوں کی اس خصلت کا بیان ان الفاظ میں فرمایا ہے «‏‏‏‏وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [24-النور:47]‏‏‏‏ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان سے درگزر کیجئے، بردباری برتئیے، ان کی خطا معاف کیجئے، ان کا حال ان کے نام سے دوسروں سے نہ کہئے، ان سے بالکل بے خوف رہیے اللہ پر بھروسہ کیجئے جو اس پر بھروسہ کرے جو اس کی طرف رجوع کرے اسے وہی کافی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامر و نواہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ﴿ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔
اور اس کا شمار مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لیے نہیں ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر اور آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔
(۳) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کر دیا ہے ﴿ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ٘ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّ٘رُوْهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوْهُ بُؔكْرَةً وَّاَصِیْلًا (الفتح: 48؍9) تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔
پس جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے ﴿ وَمَنْ تَوَلّٰى جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتا ﴿ فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھول کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے آپ کے لیے آپ کا اجر واجب ہو گیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذَكِّ٘رْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّ٘رٌؕ۰۰۲۱ لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ (الغاشیہ: 88؍21۔22) تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: كلُّ من أطاع رسول الله في أوامره ونواهيه؛ {فقد أطاع الله} تعالى؛ لكونِهِ لا يأمر ولا ينهى إلا بأمر الله وشرعه ووحيه وتنزيله، وفي هذا عصمةُ الرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ لأنَّ الله أمر بطاعتِهِ مطلقاً؛ فلولا أنَّه معصومٌ في كلِّ ما يبلِّغ عن الله؛ لم يأمرْ بطاعتِهِ مطلقاً وَيمدَحْ على ذلك، وهذا من الحقوق المشتركة؛ فإنَّ الحقوق ثلاثةٌ: حقٌّ لله تعالى لا يكونُ لأحدٍ من الخَلْق، وهو عبادةُ الله والرغبةُ إليه وتوابع ذلك؛ وقسمٌ مختصٌّ بالرسول، وهو التعزيرُ والتوقيرُ والنُّصرةُ. وقسمٌ مشترك، وهو الإيمان بالله ورسولِهِ ومحبتُهما وطاعتُهما؛ كما جَمَعَ الله بين هذه الحقوق في قوله: {لِتُؤْمنوا بالله ورسوله وتعزِّروهُ وتوقِّروه وتسبِّحوه بكرةً وأصيلاً}؛ فمَنْ أطاع الرسول؛ فقد أطاع الله، وله من الثواب والخير ما رُتِّب على طاعة الله. {ومَن تولَّى}: عن طاعة الله ورسولِهِ؛ فإنه لا يضرُّ إلا نفسَه، ولا يضرُّ الله شيئاً. {فما أرسلناك عليهم حفيظاً}؛ أي: تحفظ أعمالَهم وأحوالَهم، بل أرسلناك مبلِّغاً ومبيِّناً وناصحاً، وقد أديتَ وظيفتكَ ووَجَبَ أجرُك على الله، سواءٌ اهتدَوا أم لم يهتدُوا؛ كما قال تعالى: {فَذَكِّرْ إنَّما أنت مُذَكِّرٌ لستَ عليهم بمصيطرٍ ... } الآية.