تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ:} اس فرمان میں ایک تو نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ علم عطا فرمایا جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔ دوسرا یہ آپ کے نبی برحق ہونے کی دلیل ہے کہ اُمی ہونے اور کتاب و ایمان کا علم نہ رکھنے کے باوجود آپ کا قرآن کریم جیسی عظیم کتاب لانا محض اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کی وحی ہی کے ذریعے سے ہو سکتا ہے۔
➌ یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں تو کوئی اشکال نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے کتاب کا علم نہ تھا، مگر یہ بات قابل غور ہے کہ آپ کو ایمان کا علم بھی نہیں تھا، کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا نبوت ملنے سے پہلے کم از کم اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت پر ایمان تو ہوتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غارِ حرا میں جا کر عبادت کرنے کا ذکر موجود ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ آپ ہی نہیں سارے عرب اُمی ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ وہی زمین و آسمان کا خالق ہے اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے، مگر وہ شرک کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انبیاء کی فطرت نہایت سلیم ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اللہ پر ایمان تھا۔ نبوت سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک یا کبائر کا ارتکاب نہیں ہوا، مگر یہ ایمان اجمالی تھا۔ تفصیل کے ساتھ ایمان جو حدیث جبریل کے مطابق اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان کا نام ہے، اس کی تفصیلات آپ کو وحی کے بعد ہی معلوم ہوئیں۔ اس کے علاوہ جب لفظ ایمان اکیلا بولا جائے تو اس میں تصدیق، قول اور عمل تینوں چیزیں شامل ہوتی ہیں، جیسا کہ وفد عبد القیس کی مشہور حدیث میں ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۴۳): «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ» میں نماز کو ایمان قرار دیا اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلإِْيْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ] [مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان…: ۳۵] ”ایمان کی ستر(۷۰) یا (فرمایا) ساٹھ (۶۰) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔“ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز، زکوٰۃ، حج اور دوسری ایمانیات کی تفصیلات وحیٔ الٰہی سے پہلے نہیں جانتے تھے۔
➍ یہاں جو فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو نہیں جانتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی اور کتاب اللہ کے ذریعے سے آپ کو ہدایت کا نور عظیم عطا فرمایا، یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے، جیسے فرمایا: «وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ» [النساء: ۱۱۳] ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا۔ “ اور فرمایا: «وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [یوسف: ۳] ”اور بے شک تو اس سے پہلے یقینا بے خبروں سے تھا۔“ اور فرمایا: «وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ» [العنکبوت: ۴۸] ”اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔ “ اور فرمایا: «وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ يُّلْقٰۤى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ» [القصص: ۸۶]”اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیری طرف کتاب نازل کی جائے گی مگرتیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی)۔ “ اور فرمایا: «تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَاۤ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا» [ھود: ۴۹] ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ ان آیات کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
➎ {وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا:” نُوْرًا “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے اور {” جَعَلْنٰهُ “} میں {” هُ “} ضمیر وحیٔ الٰہی کی طرف جا رہی ہے، جس کا ذکر {” رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا “} میں ہے۔ یعنی ہم نے اس وحی کو جو قرآن اور سنت کی صورت میں ہے، عظیم نور بنا دیا۔ نور اس لیے فرمایا کہ اس کے ساتھ حق روشن ہوتا ہے اور جہالت، شک اور شرک کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔
➏ { نَهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا:} یعنی ہم نے اس وحی کو ایسا نور بنایا جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو متعدد مقامات پر نورِ ہدایت قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۷۴)، اعراف (۱۵۷)، مائدہ (۱۵، ۱۶) اور سورۂ تغابن(۸)۔
➐ { وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} ہدایت اور صراطِ مستقیم کی تفسیر کے لیے سورۂ فاتحہ کا مطالعہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
ایسا ہی خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح حدیبیہ سے پیشتر آیا تھا کہ مسلمان امن و اطمینان سے کعبہ کا طواف اور عمرہ کر رہے ہیں جس کا ذکر سورۃ فتح کی آیت نمبر 27 میں موجود ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ دوسری صورت اللہ تعالیٰ کا پردہ کے پیچھے سے بات کرنا ہے۔ وحی کی یہ صورت آپ کو واقعہ معراج کے دوران پیش آئی جبکہ نمازیں فرض ہوئی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کئی بار ہم کلام ہوئے تھے اور اس کا ذکر سورۃ نجم کی آیات نمبر 9 اور 10 میں موجود ہے۔ تیسری صورت جبرئیلؑ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل ہونے کی ہے۔ اور قرآن سارے کا سارا اسی صورت میں نازل ہوا ہے۔ یہ صورت آپ کے لیے سخت تکلیف دہ ہوتی تھی۔ پہلے آپ گھنٹیاں بجنے جیسی آوازیں سنتے تھے۔ یہ گویا ایک قسم کا انتباہ ہوتا تھا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ اس مادی دنیا سے کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواس ظاہری کام نہیں کرتے تھے۔ اور تمام تر توجہ وحی کی طرف مبذول ہو جاتی تھی۔ اس شدت تکلیف سے آپ کو بعض دفعہ سخت سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجاتا تھا۔ نیز اس وقت آپ پر شدید بوجھ پڑتا تھا۔ چنانچہ سیدنا زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ مجھ سے وحی لکھوا رہے تھے۔ آپ کی ران میری ران پر تھی۔ وحی آنے سے آپ کی ران اتنی بھاری ہو گئی کہ میں ڈرا کہ کہیں میری ران (بوجھ سے) ٹوٹ نہ جائے۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ النساء۔ باب ﴿لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ﴾]
اگر آپ اونٹنی پر سوار ہوتے اور وحی آنا شروع ہوتی تو اونٹنی بوجھ کے مارے بیٹھ جاتی تھی۔ اور چوتھی صورت سیدنا جبرئیل کے انسانی شکل میں آپ کے سامنے آ کر بات کرنے کی ہے۔ حدیث جبرئیل کے مطابق سیدنا جبرئیلؑ اس وقت ایک اجنبی انسان کی شکل میں آئے تھے۔ اور بسا اوقات جبرئیلؑ دحیہ کلبی کی شکل میں آپ کے پاس آتے تھے۔
[73] روح سے یہاں مراد صرف قرآن نہیں بلکہ ہر طرح کی وحی ہے جس کا تفصیلی ذکر سابقہ حاشیہ میں کیا گیا ہے۔
[74] یعنی نبوت ملنے سے پہلے آپ کو اس بات کا خواب و خیال تک نہ تھا کہ آپ کو نبوت یا کتاب الٰہی ملنے والی ہے یا ملنی چاہئے۔ اسی طرح آپ ایمان کی تفصیلات سے واقف نہ تھے۔ صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ ہی اکیلا ہے اس کے سوا کوئی دوسرا اس کے اختیارات میں شریک اور اس کا ہمسر نہیں۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس ایمان کے تقاضے کیا ہیں! نیز یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اللہ کی کتابوں، نبیوں، فرشتوں اور روز آخرت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔
[75] یعنی اس کتاب قرآن کو روشنی بنا دیا ہے اور اس روشنی میں ہدایت کی راہ صاف صاف نظر آنے لگتی ہے۔ اور جو لوگ قرآن کی اس روشنی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ہم انہیں سعادت و فلاح کے راستہ پر لے چلتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكذلك} حين أوحينا إلى الرسل قبلك، {أوحَيْنا إليك رُوحاً من أمرِنا}: وهو هذا القرآن الكريم، سمَّاه روحاً؛ لأنَّ الروح يحيا به الجسدُ، والقرآن تحيا به القلوبُ والأرواح، وتحيا به مصالحُ الدُّنيا والدين؛ لما فيه من الخير الكثير والعلم الغزير، وهو محضُ منَّة الله على رسولِهِ وعباده المؤمنين من غير سببٍ منهم، ولهذا قال: {ما كنتَ تَدْري}؛ أي: قبل نزوله عليك {ما الكتابُ ولا الإيمانُ}؛ أي: ليس عندك علمٌ بأخبار الكتب السابقة، ولا إيمانٌ وعملٌ بالشرائع الإلهيَّة، بل كنت أميًّا لا تخطُّ ولا تقرأ، فجاءك هذا الكتابُ الذي {جَعَلْناه نوراً نَهدي به من نشاءُ من عبادِنا}: يستضيئون به في ظُلُماتِ الكفر والبدع والأهواء المُرْدِيَة، ويعرِفون به الحقائقَ، ويهتدون به إلى الصراط المستقيم. {وإنَّك لَتَهْدي إلى صراط مستقيم}؛ أي: تبيِّنُه لهم، وتوضِّحه، [وتنيره] وترغِّبهم فيه، وتَنْهاهم عن ضدِّه، وترهِّبهم منه.