تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِي الْقُرْبٰى …:} اس آیت میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو اموال بھی جنگی کار روائیوں کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ بیت المال کی ملکیت تصور ہوں گے، ان میں سے مجاہدین کو کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ یہ ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی قوت کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اس کی امت اور اس کے قائم کردہ نظام کو عطا فرمائی ہے۔ لہٰذا یہ اموال اموالِ غنیمت سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں، انھیں اموال فے کہا جاتا ہے اور ان کا اطلاق منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم کے اموال پر ہوگا۔ اموال فے میں جزیہ و خراج کی آمدنی بھی شامل ہے جو ایک اسلامی ریاست کو غیر مسلموں سے حاصل ہوتی ہے۔ ان کی تقسیم کا مکمل اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا اور آپ کے بعد یہ اختیار مسلمانوں کے امیر کو حاصل ہوتا ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ مدّات میں خرچ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اموال فے کی وہ مدّات بھی بیان فرما دیں جہاں انھیں خرچ کیا جائے گا۔ یہ وہی مدّات ہیں جن میں اموالِ غنیمت کا خمس خرچ کیا جاتا ہے، اموالِ فے کا خمس نہیں بلکہ وہ پورے کے پورے انھی میں خرچ کیے جائیں گے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۴۱)کی تفسیر۔
➌ {كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ: ” دُوْلَةً “ ”دَالَ يَدُوْلُ دَوْلَةً “ (ن)”اَلزَّمَانُ“} زمانے کا ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنا، جیسا کہ فرمایا: «وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ» [آل عمران: ۱۴۰] ”اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔“ {” دُوْلَةً “} وہ چیز جو ایک دوسرے سے لی جائے، کبھی اس کے پاس ہو کبھی اس کے پاس۔
”تاکہ مال فے تم میں سے مال داروں کے درمیان ہی گردش کرنے والا نہ ہو“ ربطِ مضمون کے لحاظ سے تو اس کا مطلب اتنا ہی ہے کہ اموال فے کو مجاہدین پر تقسیم نہ کیا جائے، جن کے اکثر پہلے ہی غنی ہو چکے ہیں، محتاج اور مسکین نہیں رہے، بلکہ انھیں نادار لوگوں تک پہنچایا جائے، تاہم اس میں اسلام کے معاشی نظام کی بنیاد بھی بیان کر دی گئی ہے کہ مسلمانوں میں دولت کا بہاؤ فقراء سے اغنیاء کی طرف نہیں ہوتا کہ دولت مند زیادہ سے زیادہ دولت مند اور غریب زیادہ سے زیادہ غریب ہوتے چلے جائیں، بلکہ دولت کا بہاؤ اغنیاء سے فقراء کی طرف ہوتا ہے اور اس سے پورے معاشرے کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ سود ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا۔ دولت کی تقسیم کے لیے زکوٰۃ فرض کی گئی، اموال غنیمت میں سے خمس نکالنے کا حکم دیا گیا، مال فے سارا ہی پانچ مدّات میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا،نفلی صدقات کی بار بار تلقین کی گئی،بہت سی فروگزاشتوں پر کفارے رکھے گئے اور میراث کا ایسا قانون بنا دیا کہ ہر مرنے والے کی دولت یکجا رہنے کے بجائے پھیل جائے۔ بخل کی شدید مذمت کی گئی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بار بار تاکید کی گئی اور اس کی فضیلت بیان کی گئی۔ ان احکام پر عمل کیا جائے تو دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو ہی نہیں سکتی۔
➍ {وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا:} سلسلۂ کلام کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اموالِ فے میں سے رسول تمھیں جو کچھ دے وہ لے لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔ آپ کے فیصلے کو کسی چون و چرا اور ملال کے بغیر تسلیم کر لو۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ بنو نضیر کے اموال مہاجرین ہی میں تقسیم کر دیے جائیں، تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں، تو گویا انصار سے کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول کسی موقع پر تمھیں نہ دے تو مطالبہ نہ کرو، یہ رسول کی صواب دید پر ہے کہ وہ تمام مستحقین کو دے یا بعض کو زیادہ مستحق سمجھ کر دے اور دوسروں کو نہ دے۔ سیاق کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے یہ صرف اموال کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس میں حکم دیا گیا ہے کہ ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ اس کی وضاحت اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: {” مَا أَتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا مَنَعَكُمْ فَلَا تَأْخُذُوْهُ“} کہ رسول تمھیں جو دے وہ لے لو اور جو نہ دے وہ نہ لو، بلکہ فرمایا جس سے روک دے اس سے رک جاؤ، جس سے منع کر دے اس سے باز آ جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد آپ کے حکم کی اطاعت ہے۔ چنانچہ اس آیت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مستقل قانون کی حیثیت دے دی ہے اور یہ شرط نہیں رکھی کہ وہی حکم مانو جو قرآن مجید میں ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حکم بھی صحیح حدیث سے ثابت ہو واجب العمل ہے۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [دَعُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلٰی أَنْبِيَاهمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ، وَ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ] [بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۸] ”مجھے اس وقت تک رہنے دو جب تک میں تمھیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے سوال اور ان سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ تو جب میں تمھیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے دور رہو اور جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا کر سکتے ہو کرو۔“ اور جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی اس آیت سے یہی بات سمجھی ہے۔ چنانچہ ان کے شاگرد علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انھوں نے فرمایا: [لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ] ”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو جلد میں سوئی کے ساتھ نیل بھر کر نقش و نگار بنانے والی ہیں اور جو بنوانے والی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھاڑنے والی ہیں اور جو خوب صورتی کے لیے سامنے کے دانتوں میں فاصلہ بنانے والی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ شکل کو بدلنے والی ہیں۔“ بنو اسد کی ایک عورت ام یعقوب کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی: ”مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے فلاں فلاں کام کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے؟“ اس عورت نے کہا: ”میں نے دو تختیوں کے درمیان جتنا قرآن ہے سارا پڑھا ہے، مگر مجھے اس میں یہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم اسے پڑھتی تو تمھیں ضرور مل جاتی، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: «وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا» [الحشر: ۷] ” اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں؟“ فرمایا: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔“ اس نے کہا: ”میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ کے گھر والے یہ کام کرتے ہیں۔“ فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو۔“ وہ گئی، دیکھا مگر اسے اپنے مطلب کی کوئی چیز دکھائی نہ دی، تو (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ”اگر وہ (میری بیوی) ایسی ہوتی تو ہمارے ساتھ نہ رہتی۔“ [بخاري، التفسیر، باب: «وما آتاکم الرسول فخذوہ» : ۴۸۸۶]
➎ {وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ:} یعنی اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو! اگر تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل نہ کی یا آپ کے منع کردہ سے باز نہ آئے تو اللہ کی سزا بہت سخت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اب دیکھیے کہ اتیٰ بمعنی ﴿اِعْطَاء﴾ کی ضد منع ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ اور نھیٰ کی ضد امر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نھیٰ کے مقابلہ میں امر کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ گویا حافظ صاحب صرف اپنے نظریہ کی تائید کے لیے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض فرما رہے ہیں کہ نھیٰ کے معنی ”نہ دینا“ کبھی نہیں ہوتا۔ پھر اگر قرآن کریم میں فی الواقع ﴿اتٰكُمْ﴾ کے مقابلہ ﴿نَهٰكُمْ﴾ کا لفظ ہی استعمال ہوتا تو بھی اسے اس خاص واقعہ یعنی مال فے کی تقسیم سے متعلق ہی قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ کیونکہ یہ ایک عام اصول ہے کہ کسی خاص واقعہ میں کوئی حکم آ جائے تو یہ حکم عام ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ نے ﴿اٰتٰكُم﴾ کے مقابلہ میں ﴿نَهٰكُمْ﴾ کا لفظ استعمال کر کے اس شائبہ کو بالکل ہی ختم کر دیا ہے کہ اس حکم کا تعلق اس خاص واقعہ یا اسی جیسے بعد میں آنے والے دوسرے واقعات سے ہو سکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ﴿اٰتٰكُمْ﴾ کے مقابلہ میں ﴿نَهَاكُمْ﴾ کا لفظ لا کر ایک طرف تو اس پیش آمدہ مسئلہ کا حل پیش کر دیا اور دوسری طرف اس حکم میں ایسی عمومیت پیدا کر دی جس سے صرف وہی لوگ لذت آشنا ہو سکتے ہیں جو عربی زبان کا کچھ ذوق رکھتے ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ اصل میں غلط فہمی کا شکار کون ہے تو اس کے لیے پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم تھے یا قبلہ حافظ صاحب؟ پھر ام یعقوب نے جو اگر صحابیہ نہیں تو تابعیہ تو ضرور ہو گی۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ استدلال سن کر یہ نہیں کہا کہ یہ حکم تو مال فے کی تقسیم سے متعلق ہے اور ﴿اٰتٰي﴾ کے معنی ﴿اعطاء﴾ ہوتا ہے بلکہ اس نے ”میں سمجھ گئی“ کا اقرار کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سمجھے ہوئے مفہوم کی تائید کر دی۔ صحابہ میں یہ فہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منتقل ہوا۔ پھر صحابہ سے تابعین میں، ان سے تبع تابعین میں پھر محدثین میں، آخر وہ کون سا دور ہے جس میں اس مفہوم کو درست نہ سمجھا گیا ہو۔ جسے حافظ صاحب لوگوں کی غلط فہمی قرار دے رہے ہیں۔ اور وہ مفہوم یہ ہے کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریعت کا حصہ ہے نیز یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے احکام کو کتاب اللہ میں ہی شمار کرتے تھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: عنقریب تم میں ایک پیٹ بھرا شخص اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے میری حدیثیں سن کر یہ کہے گا کہ ہمارے تمہارے درمیان قرآن (کافی) ہے اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال اور حرام کیے ہوئے کو حرام سمجھو۔ یاد رکھو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل اور بھی۔ [ترمذي۔ ابو داؤد۔ ابن ماجه۔ مسند احمد۔ بيهقي دارمي بحواله مشكٰوة]
واضح رہے آپ کی سنت پر عمل پیرا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر قرآن کے احکام بھی کسی صورت بجا نہیں لائے جا سکتے۔ لہٰذا جو شخص سنت یا حدیث کی حجیت کا قائل نہ ہو وہ حقیقتاً قرآن کا بھی منکر ہوتا ہے۔ بلکہ اسے بننا پڑتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی اور اصلاح کے کاموں میں اسے خرچ کیا جس کا بیان اس کے بعد والی اور دوسری آیت میں ہے۔
پس فرماتا ہے کہ بنو نضیر کا جو مال بطور «فے» کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا جس پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ دوڑائے نہ تھے، بلکہ صرف اللہ نے اپنے فضل سے اپنے رسول کو اس پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ پر یہ کیا مشکل ہے؟ وہ تو ہر اک چیز پر قدرت رکھتا ہے نہ اس پر کسی کا غلبہ نہ اسے کوئی روکنے والا بلکہ سب پر غالب وہی، سب اس کے تابع فرمان۔
پھر فرمایا کہ جو شہر اس طرح فتح کئے جائیں ان کے مال کا یہی حکم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے قبضہ میں کریں گے پھر انہیں دیں گے، جن کا بیان اس آیت میں ہے اور اس کے بعد والی آیت میں ہے، یہ ہے «فے» کے مال کا مصرف اور اس کے خرچ کا حکم۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { بنو نضیر کے مال بطور «فے» کے خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو گئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کو سال بھر تک کا خرچ دیتے تھے اور جو بچ رہتا اسے آلات جنگ اور سامان حرب میں خرچ کرتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2904]
اتنے میں آپ کا داروغہ یرفا آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف، سیدنا زبیر بن عوام اور سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہم تشریف لائے ہیں، کیا انہیں اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں انہیں آنے دو“، چنانچہ یہ حضرات تشریف لائے، یرفا پھر آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اجازت طلب کررہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اجازت ہے۔“ یہ دونوں حضرات بھی تشریف لائے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیرالمؤمنین! میرا اور ان کا فیصلہ کیجئے یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا“، تو پہلے جو چاروں بزرگ آئے تھے ان میں سے بھی بعض نے کہا: ”ہاں امیر المؤمنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے اور انہیں راحت پہنچایئے۔“
مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ان چارں بزرگوں کو ان دونوں حضرات نے ہی اپنے سے پہلے یہاں بھیجا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھہرو، پھر ان چاروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تمہیں اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ ان چاروں نے اس کا اقرار کیا، پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی طرح قسم دے کر ان سے بھی یہی سوال کیا اور انہوں نے بھی اقرار کیا۔
پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خاصہ کیا تھا جو اور کسی کے لیے نہ تھا پھر آپ نے یہی آیت «وَمَا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [59-الحشر:6]، پڑھی اور فرمایا: بنو نضیر کے مال اللہ تعالیٰ نے بطور «فے» کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے تھے اللہ کی قسم نہ تو میں نے تم پر اس میں کسی کو ترجیح دی اور نہ ہی خود ہی اس میں سے کچھ لے لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اور اپنے اہل کا سال بھر کا خرچ اس میں سے لے لیتے تھے اور باقی مثل بیت المال کے کر دیتے تھے پھر ان چاروں بزرگوں کو اسی طرح قسم دے کر پوچھا کہ کیا تمہیں یہ معلوم ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ان دونوں سے قسم دے کر پوچھا اور انہوں نے ہاں کہی۔
”اللہ خوب جانتا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یقیناً راست گو، نیک کار، رشد و ہدایت والے اور تابع حق تھے، چنانچہ اس مال کی ولایت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہو جانے کے بعد آپ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ میں بنا اور وہ مال میری ولایت میں رہا، پھر آپ دونوں ایک صلاح سے میرے پاس آئے اور مجھ سے اسے مانگا، جس کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر تم اس شرط سے اس مال کو اپنے قبضہ میں کرو کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرچ کرتے تھے تم بھی کرتے رہو گے تو میں تمہیں سونپ دیتا ہوں، تم نے اس بات کو قبول کیا اور اللہ کو بیچ میں دے کر تم نے اس مال کی ولایت لی، پھر تم جو اب آئے ہو تو کیا اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ قسم اللہ کی قیامت تک اس کے سوا اس کا کوئی فیصلہ میں نہیں کر سکتا، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تم اپنے وعدے کے مطابق اس مال کی نگرانی اور اس کا صرف نہیں کر سکتے تو تم اسے پھر لوٹا دو تاکہ میں خود اسے اسی طرح خرچ کروں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور جس طرح خلافت صدیقی میں اور آج تک ہوتا رہا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3094]
یہ «فے» کا مال جن پانچ جگہوں میں صرف ہو گا یہی جگہیں غنیمت کے مال کے صرف کرنے کی بھی ہیں اور سورۃ الانفال میں ان کی پوری تشریح و توضیح کے ساتھ کامل تفسیر «الْحَمْدُ لِلَّـه» گزر چکی ہے اس لیے ہم یہاں بیان نہیں کرتے۔
پھر فرماتا ہے کہ جس کام کے کرنے کو میرے پیغمبر تم سے کہیں تم اسے کرو اور جس کام سے وہ تمہیں روکیں تم اس سے رک جاؤ۔ یقین مانو کہ جس کا وہ حکم کرتے ہیں وہ بھلائی کا کام ہوتا ہے اور جس سے وہ روکتے ہیں وہ برائی کا کام ہوتا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا آپ گودنے سے (یعنی چمڑے پر یا ہاتهوں پر عورتیں سوئی وغیره سے گدوا کر جو تلوں کی طرح نشان وغیره بنا لیتی ہیں) اس سے اور بالوں میں بال ملا لینے سے (جو عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے لیے کرتی ہیں) منع فرماتے ہیں تو کیا یہ ممانعت کتاب اللہ میں ہے یا حدیث رسول میں؟ آپ نے فرمایا: کتاب اللہ میں بھی اور حدیث رسول میں بھی، دونوں میں اس ممانعت کو پاتا ہوں، اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم دونوں لوحوں کے درمیان جس قدر قرآن شریف ہے میں نے سب پڑھا ہے اور خوب دیکھ بھال کی ہے لیکن میں نے تو کہیں اس ممانعت کو نہیں پایا آپ نے فرمایا: کیا تم نے آیت «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [59-الحشر:7] نہیں پڑھی؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے۔
فرمایا: ”قرآن سے ثابت ہوا کہ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ممانعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قابل عمل ہیں، اب سنو خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے گودنے سے اور بالوں میں بال ملانے سے اور پیشانی اور چہرے کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے (یہ بھی عورتیں اپنی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لیے کرتی ہیں اور اس زمانے میں تو مرد بھی بکثرت کرتے ہیں) اس عورت نے کہا یہ تو آپ کی گھر والیاں بھی کرتی ہیں آپ نے فرمایا: جاؤ دیکھو، وہ گئیں اور دیکھ کر آئیں اور کہنے لگیں معاف کیجئے غلطی ہوئی ان باتوں میں سے کوئی بات آپ کے گھرانے والیوں میں میں نے نہیں دیکھی۔
آپ نے فرمایا: کیا تم بھول گئیں کہ اللہ کے نیک بندے (شعیب علیه السلام) نے کیا فرمایا تھا «وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ» ۱؎ [11-هود:88] یعنی ’ میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہیں جس چیز سے روکوں خود میں اس کا خلاف کروں۔‘ ۱؎ [مسند احمد:415/1:اسنادہ قوی]
بخاری و مسلم میں { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:7288]
نسائی میں { سیدنا عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن میں، سبز ٹھلیا میں، کھجور کی لکڑی کے کریدے ہوئے برتن میں اور رال کی رنگی ہوئی ٹھلیا میں نبیذ بنانے سے یعنی کھجور یا کشمش وغیرہ کے بھگو کر رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ } پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1997] (یاد رہے کہ یہ حکم اب باقی نہیں ہے۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے اس کے احکام کی ممنوعات سے بچتے رہو، یاد رکھو کہ اس کی نافرمانی مخالفت انکار کرنے والوں کو اور اس کے منع کئے ہوئے کاموں کے کرنے والوں کو وہ سخت سزا اور درد ناک عذاب دیتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وتعريف الفيء باصطلاح الفقهاء: هو ما أخِذَ من مال الكفار بحقٍّ من غير قتال؛ كهذا المال الذي فرُّوا وتركوه خوفاً من المسلمين، وسُمِّي فيئاً؛ لأنه رجع من الكفار الذين هم غير مستحقِّين له إلى المسلمين الذين لهم الحقُّ الأوفر فيه. وحكمه العامُّ كما ذكره الله بقوله: {ما أفاءَ اللهُ على رسولهِ من أهلِ القُرى}: عموماً، سواء كان في وقت الرسول أو بعده على مَن تَوَلَّى من بعدِهِ من أمَّته، {فللهِ وللرسولِ ولذي القربى واليتامى والمساكينِ وابنِ السبيل}: وهذه الآية نظير الآية التي في سورة الأنفال ، وهي قوله: {واعلموا أنَّما غَنِمْتُم من شيءٍ فأنَّ لله خُمُسَه وللرسول ولذي القُربى واليتامى والمساكينِ وابنِ السبيلِ}؛ فهذا الفيء يُقسم خمسة أقسام: لله ولرسوله يُصْرَفُ في مصالح المسلمين العامة. وخمسٌ لذوي القربى، وهم بنو هاشم وبنو المطلب؛ حيث كانوا، يسوَّى فيه بين ذكورهم وإناثهم، وإنَّما دخل بنو المطَّلب في خمس الخمس مع بني هاشم ولم يدخُلْ بقية بني عبد مناف؛ لأنهم شاركوا بني هاشم في دخولهم الشعبَ حين تعاقدتْ قريشٌ على هجرهم وعداوتهم، فنصروا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم -؛ بخلاف غيرهم، ولهذا قال النبيُّ صلّى الله عليه وسلّم في بني عبد المطلب: «إنَّهم لم يفارِقوني في جاهليَّة ولا إسلام». وخمسٌ لفقراء اليتامى، وهم من لا أب له ولم يبلغْ. وخمسٌ للمساكين. وخمسٌ لأبناء السبيل، وهم الغرباء المنقطَع بهم في غير أوطانهم.
وإنَّما قدَّر الله هذا التقدير وحصر الفيء في هؤلاء المعيَّنين؛ لكي {لا يكونَ دُولَةً}؛ أي: مداولةً واختصاصاً {بين الأغنياءِ منكم}: فإنَّه لو لم يقدِّره؛ لتداولته الأغنياءُ الأقوياء، ولما حَصَلَ لغيرهم من العاجزين منه شيءٌ، وفي ذلك من الفساد ما لا يعلمه إلا الله؛ كما أنَّ في اتِّباع أمر الله وشرعه من المصالح ما لا يدخل تحت الحصر، ولذلك أمر الله بالقاعدة الكلِّيَّة والأصل العام، فقال: {وما آتاكُمُ الرسولُ فخذوهُ وما نَهاكم عنهُ فانتَهوا}: وهذا شاملٌ لأصول الدين وفروعه ظاهره وباطنه، وأنَّ ما جاء به الرسول يتعيَّن على العباد الأخذ به واتِّباعه، ولا تحلُّ مخالفته، وأنَّ نصَّ الرسول على حكم الشيء كنصِّ الله تعالى؛ لا رخصةَ لأحدٍ ولا عذر له في تركه، ولا يجوز تقديم قول أحدٍ على قوله. ثم أمر بتقواه التي بها عِمارةُ القلوب والأرواح والدُّنيا والآخرة، وبها السعادة الدائمة والفوزُ العظيم، وبإضاعتها الشقاء الأبديُّ والعذاب السرمديُّ، فقال: {واتَّقوا الله إنَّ الله شديدُ العقابِ}: على من ترك التقوى وآثر اتِّباع الهوى.