علم حاصل کرنے کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

کتاب العلم

علم حاصل کرنے کے فضائل

علم کا حصول ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے ۔ انھیں بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگاہی ہونا لازمی ہے۔ یعنی عقیدہ توحید و رسالت، نماز ، روزہ وغیرہ جیسی بنیادی عبادات کے بارے میں معلومات ہونا فرض ہے۔ اس کے علاوہ مزید گہرائی کا با قاعدہ علم ہونا فرض کفایہ ہے۔ یعنی کچھ لوگ مکمل باریک بینی کے ساتھ علم حاصل کر کے اپنے علاقوں میں لوگوں کی قرآن وسنت سے راہنمائی کریں۔ حصول علم اور اہل علم کے فضائل و مناقب بہت زیادہ ہیں کہ احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہے ۔ چند ایک درج ذیل ہیں۔
﴿شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾
”اللہ تعالیٰ ، فرشتے اور اہل علم گواہی دیتے ہیں کہ اُس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے ، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، جو عزت والا اور حکمت والا ہے۔“
(3-آل عمران:18)
ذیل کی آیت کریمہ سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے شہر اور بستی میں بھی رہیں ، بستیوں کو خالی کر کے سبھی لوگ نہ جہاد کے لیے چلے جائیں، تا کہ پیچھے رہنے والے مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کریں، ان کی ضرورتیں پوری کریں ، اور شہداء اور بستی کی بھی نگرانی کرتے رہیں، اور جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جائیں وہ جہاد کی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ ان کی صحبت سے علمی فائدہ اٹھائیں، قرآن وسنت کا علم حاصل کرتے رہیں، اور جب وہ اپنی بستیوں اور شہروں میں واپس پہنچیں تو جو کچھ اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے، باقی ماندہ لوگوں کو سکھائیں:
﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾
”اور یہ بات مناسب نہیں ہے کہ تمام ہی مومنین نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہر جماعت کے کچھ لوگ نکلیں ، تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔ اور جب اپنی قوم کے پاس واپس لوٹیں تو انہیں اللہ سے ڈرائیں۔“
(9-التوبة:122)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم کے اضافے کی دعا فرمایا کرتے تھے :
﴿فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾
” سو اللہ عالی شان والا سچا اور حقیقی بادشاہ ہے، آپ قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کریں اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وہ پوری کی جائے ، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میر اعلم بڑھا۔“
(20-طه:114)
صاحب فتح البیان لکھتے ہیں کہ :
”اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو علم کے سوا کسی چیز میں زیادتی طلب کرنے کی نصیحت نہیں کی ۔“ (تیسیر الرحمن: 911/1)
اس سے زیادہ علم کی فضیلت اور کیا ہوگی کہ اللہ خود اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو علم میں زیادتی حاصل کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ اہل علم اور علم سے کورے قطعاً درجات میں برابر نہیں ہیں ۔ ارشاد فرمایا:
﴿أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
” بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں عبادت میں گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو، اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، اے میرے نبی ! کہہ دیجیے کہ علم والے اور بے علم کیا برابر ہو سکتے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہوں ۔“
(39-الزمر:9)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں:
اس آیت کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کہا گیا ہے کہ علم و جہل اور عالم و جاہل برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی توحید اور اس کے اوامر و نواہی کا علم حاصل کرتے ہیں، اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں، وہ یقیناً ان نادانوں سے بہتر ہیں جو شرک و ضلالت کی وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں ۔ اور اس ربانی تعلیم سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنے جسموں میں عقل سلیم رکھتے ہیں۔ (تیسیر الرحمن: 1293/3)
اور ایک مقام پر فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾
”اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کھل کر بیٹھو تو تم جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہیں کشادگی دے گا اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو جاؤ تو تم اُٹھ کھڑے ہو جاؤ اللہ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا، اور اللہ ہر اس کام سے جو تم کر رہے ہو خوب خبر دار ہے۔“
(58-المجادلة:11)
علامہ شوکانی رحمہ اللہ اس آیت کا معنی کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ :
اللہ مومنوں کو غیر مومنوں پر ، اور اہل علم کو غیر اہل علم پر کئی گنا فوقیت دیتا ہے، تو جو شخص ایمان اور علم دونوں سے بہرہ ور ہوگا، اسے اللہ تعالیٰ ایمان کی وجہ سے کئی درجات دے گا ، اور پھر علم کی وجہ سے کئی درجات عطا کرے گا۔“ (تیسیر الرحمن: 1555/2)
﴿ومِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَٰلِكَ ۗ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ﴾
” اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں، اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں، واقعی اللہ تعالیٰ بڑا زبر دست بڑا بخشنے والا ہے۔“
(35-فاطر:28)
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں پوری کائنات میں بکھری ہوئی ہیں ۔ اور جو شخص ان پر غور و فکر فہم و تدبر سے کام لیتا ہے، تو اس کا اللہ تعالیٰ کی قدر و منزلت عظمت و جلالت پر اسی قدر ایمان بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے لگتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے حقیقت میں علم رکھنے والے ہی ڈرتے ہیں۔
یہ تو تھیں علم و اہل علم کی فضیلت میں بے شمار آیات میں سے چند ایک آیات ، اب اس سلسلے کی احادیث ملاحظہ ہوں ۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” طلب العلم فريضة على كل مسلم“.
”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔“
سنن ابن ماجه ، باب فضل العلماء والحث على طلب العلم ، رقم : 224 ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر يسر الله عليه فى الدنيا والآخرة، ومن ستر مسلما ستره الله فى الدنيا والآخرة، والله فى عون العبد ما كان العبد فى عون أخيه ، ومن سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له به طريقا إلى الجنة . وما اجتمع قوم فى بيت من بيوت الله، يتلون كتاب الله، ويتدارسونه بينهم، إلا نزلت عليهم السكينة، وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة، وذكرهم الله فيمن عنده – ومن بطأ به عمله لم يسرع به نسبه“.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن سے دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی بڑی تکلیف دور فرمادے گا۔ جس نے کسی تنگ دست اور عسیر الحال ( بد حال ) پر آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا، جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے (مسلمان) بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔ جو ایسے راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم ( دین ) تلاش کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے اور جو لوگ بھی اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور آپس میں اس کی درس و تدریس کرتے ہیں، تو ان پر ( اللہ کی طرف سے ) سکینت نازل ہوتی ہے اور انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ان فرشتوں میں فرماتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں، اور جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھائے گا۔
مسلم کتاب الدعوات، باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن ……، رقم: 2699.
علم اور جہالت میں اتنا فرق ہے کہ علم کے بعد رسی کو آدمی رسی ہی سمجھتا ہے اور جہالت میں سانپ کو بھی رسی سمجھتا ہے۔ علم ایک ایسی روشنی ہے جو اچھائی اور برائی ، حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتی ہے۔ علم ہی سے انسان در حقیقت اللہ پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھ سکتا ہے۔ حتی کہ جو زمانے کے رنگ جہالت میں نظر آتے ہیں علم آ جانے کے بعد زمانے کے رنگ بدل جاتے ہیں۔ سوچیں بدل جاتی ہیں۔ نظریے بدل جاتے ہیں۔ دشمن دشمن اور دوست دوست نظر آتے ہیں۔
عن أبى الدرداء رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” من سلك طريقا يبتغي فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة ، وإن الملائكة لتضع أجنحتها رضا لطالب العلم وإن العالم ليستغفر له من فى السموات ومن فى الأرض حتى الحيتان فى الماء، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر الكواكب، وإن العلماء ورثة الأنبياء، وإن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما وإنما ورثوا العلم، فمن أخذه أخذ بحظ وافر“.
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” جو شخص ایسے راستے پر چلے جس پر وہ ( دین کا ) علم تلاش کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم کے لیے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ہر مخلوق ، حتی کہ مچھلیاں پانی میں مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہے جیسے چاند کو سارے ستاروں پر فضیلت حاصل ہے۔ اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، یقیناً انبیاء نے اپنے ورثے میں دینار اور درہم نہیں چھوڑے، وہ تو (دین کا ) علم ہی ورثے میں چھوڑ کر جاتے ہیں، پس جس نے وہ علم حاصل کیا، اس نے (شرف وفضل کا) ایک بڑا حصہ حاصل کر لیا۔
سنن أبي داود، كتاب العلم، باب الحث على طلب العلم، رقم: 3641ـ سنن ترمذي، أبواب العلم، باب ماجاء في فضل الفقه على العبادة، رقم: 2682 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله عزوجل لا يتعلمه إلا ليصيب به من الدنيا: لم يجد عرف الجنة يوم القيامة يعني ريحها“.
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وہ علم ، جس سے اللہ کی رضا مندی طلب کی جاتی ہے، اس لیے حاصل کرے کہ اس کے ذریعے سے دنیا کا سازوسامان حاصل کیا جائے تو وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“
سنن أبي داود، كتاب العلم، باب طلب العلم لغير الله تعالى رقم: 3664۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
عن معاوية رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من يرد الله به خيرا يفقهه فى الدين“.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب العلم، باب من يرد الله به خيرا….. رقم: 71ـ صحيح مسلم، کتاب الزكاة، باب النهي عن المسألة، رقم: 1037
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” نضر الله امرأ سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه غيره، فرب حامل فقه إلى من هو أفقه منه، ورب حامل فقه ليس بفقيه“.
”اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جو میری حدیث کو سنتا ہے پھر اس کو ذہن نشین کرتا ہے، پھر جیسے اس نے سنی ہے اسی طرح اس کو آگے پہنچا دیتا ہے، کتنے حاملین فقہ سے زیادہ دوسرے ( جن تک علم دین پہنچایا جاتا ہے ) فقیہ ہوتے ہیں ، اور کتنے فقہ کے ایسے دعویدار ہیں کہ وہ فقیہ نہیں ہوتے ۔“
سنن ترمذی ، کتاب العلم ، باب ما جاء في الحث على تبليغ السماع ، رقم: 2656 – البانی رحمہ الله نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جو شخص مسجد کی طرف گیا اور اس کا ارادہ صرف کوئی خیر و بھلائی کا کام سیکھنا یا سکھانا تھا تو اسے مکمل حج کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔“
صحيح الترغيب والترهيب ، رقم : 82- مستدرك حاكم: 1/ 91.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” ألا إن الدنيا ملعونة ، ملعون ما فيها، إلا ذكر الله وما والاه، وعالم أو متعلم“.
” یہ حقیقت یاد رکھو کہ دنیا ملعون ہے اور دنیا کا سب ساز و سامان بھی ملعون ، اگر کوئی چیز اس سے متقی ہے تو وہ ذکر الہی اور وہ شخص ہے جو ذکر الہی کا حامل ہو ۔ اسی طرح جو عالم اور طالب علم ہو ۔“
سنن ترمذى ، كتاب الزهد، رقم: 2322 – سنن ابن ماجة، رقم: 4112 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”حسن“ کہا ہے۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” يتقارب الزمان ويقبض العلم وتظهر الفتن ، ويلقى الشح ، ويكثر الهرج“.قالوا: وما الهرج ؟ قال: القتل
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (قیامت کے قریب ) وقت سکڑ جائے گا، علم اٹھا لیا جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے، (لوگوں کے دلوں میں ) خود غرضی پیدا کر دی جائے گی، اور ہرج عام ہو جائے گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ” یا رسول اللہ ! ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل۔
صحیح مسلم، كتاب العلم، باب رفع العلم وقبضه، رقم: 157/11.
علم کی اہمیت کا اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، علم کے بغیر فتنے فساد خود غرضی اور قتل و غارت عام ہوگی، کیونکہ علم کے بغیر تقویٰ حاصل نہیں ہوتا، جہاں اللہ کا ڈر نہ ہو، وہاں انسان جانوروں کے درجے سے بھی گر جاتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” ليس العلم بكثرة الحديث، ولكن العلم كثرة الخشية“.
”علم زیادہ احادیث کو یاد کرنے کا نام نہیں ۔ بلکہ کثرت خشیت الہی کا نام علم ہے۔“
جامع بيان العلم: 25/2 .
اور امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
” إنما الفقيه من يخاف الله“.
فقیہ اور عالم وہ ہے جس کے دل میں اللہ کی خشیت موجود ہو۔“
سنن دارمی، مقدمه، رقم: 296 .