اہلِ ایمان سے محبت، نیک صحبت اور اسلامی اخوت کے تقاضے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اہل ایمان سے محبت:

❀ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بعد تمام اہل ایمان کے ساتھ محبت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت، تابعین، تبع تابعین اور امت کے تمام علماء، فقہاء، صلحاء، فضلاء، مجاہدین، اور شہداء کے علاوہ عام نیک مسلمان بھی شامل ہیں۔ بلا شبہ دوستی اور محبت انسان کے عقائد، نظریات، اخلاق کردار، عادات، اطوار حتی کہ لباس، تراش خراش اور انداز گفتگو تک کو متاثر کرتی ہے، لہٰذاحکم یہ ہے کہ دوستی اور محبت صرف نیک، پرہیزگار اور دیندار لوگوں سے کی جائے نیک لوگوں کی دوستی انسان کو نیکی کی طرف لے جائے گی اور نیکی جنت کی طرف لے جانے والی ہے جبکہ بے دین اور فاسق وفاجر لوگوں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ بے دین اور فجار کی دوستی انسان کو گناہ کی طرف لے جائے گی اور گناہ جہنم کی طرف لے جانے والا ہے۔ اسی لئے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ [المرء علٰی دین خلیلہٖ فلینظر احدکم من یخالل] آدمی اپنے دوست کے دین پرہوتاہے، لہٰذا ہر آدمی کو اچھی طرح دیکھنا چاہئے کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہاہے۔ [سنن أبي داود: 4833؛ سنن الترمذي: 2378]
❀ رسول اکرم ﷺ نے اچھے اور برے لوگوں سے دوستی اور محبت کی وضاحت ایک بڑی عمدہ مثال سے فرمائی ہے آپ ﷺ نے فرمایاہے: نیک آدمی سے دوستی کی مثال کستوری فروخت کرنے والے سے دوستی کی مانند ہے، اور برے آدمی سے دوستی کی مثال آگ کی بھٹی جلانے والے سے دوستی کی مانند ہے۔ جو شخص کستوری فروش کے پاس بیٹھے گا اسے یا تو کستوری فروش خود کچھ نہ کچھ خوشبو (بطورہدیہ) دے دے گا یا وہ خود اس سے خرید لے گا اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوئیں توکستوری کی اچھی خوشبو تو اسے ضرور ہی آئے گی اور جو شخص آگ کی بھٹی جلانے والے کے پاس بیٹھے گا، بھٹی جلانے والا اس کے کپڑے جلائے گا اور اگر کپڑے نہ بھی جلائے تو بھٹی کا ناگوار دھواں تو اسے ضرورہی آئے گا۔ [صحيح البخاري: 5534]
اس مثال سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ جوشخص کسی عالم، نیک اور متقی آدمی کی صحبت میں بیٹھے گا وہ نیکی، خیر، بھلائی اور دین کی باتیں سنے گا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ذکر خیر سنے گا جس سے اس کے اعمال کی اصلاح ہوگی اور دنیا و آخرت میں اسے فائدہ پہنچے گا اور جو شخص کسی، بے دین اور فاسق وفاجرکے پاس بیٹھے گا وہ اس سے جھوٹ، غیبت، دھوکہ، فریب، فحش گوئی، بے حیائی اور اس جیسی دوسری اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ناراض کرنے والی باتیں سنے گا جس سے اس کی سوچ اور اعمال دونوں بگڑیں گے اور دنیا وآخرت میں اس کا نقصان ہوگا۔ اس لئے اہل ایمان کو حکم یہ ہے کہ وہ صرف نیک اور متقی لوگوں سے ہی دوستی کریں۔ ایک حدیث میں ارشاد مبارک ہے: [و لا تصاحب الا مؤمنا ولا یاکل طعامک الا تقی] (یعنی) مومن آدمی کے علاوہ کسی کو اپنا دوست نہ بنا اور تیرا کھانا صرف متقی آدمی ہی کھائے۔ [سنن أبي داود: 4832؛ سنن الترمذي: 2395]
❀ حدیث شریف میں ہے کہ آپ ﷺ کا چچا ابوطالب مرنے لگا تو رسول اکرم ﷺ نے اسے [لا الٰہ الا اللٰہ] کہنے کی ترغیب دلائی لیکن پاس ہی ابوطالب کے دوست ابوجہل بن ہشام، عبداللہ بن ابی امیہ بیٹھے تھے ان دونوں نے ابو طالب کو آباؤ اجداد کے دین پر مرنے کی رغبت دلائی بالآخر ابوطالب اپنے مشرک دوستوں کی باتوں میں آگئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں چلے گئے۔ [صحیح البخاری:1360]
❀ عہد نبوی ﷺ کا ایک اور واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ فتح مکہ کے موقع پر صفوان بن امیہ جان کے خطرے سے بھاگ گیا، سیدنا عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے دوست کے لئے رسول اللہ ﷺ سے امان طلب کی اور جا کر صفوان بن امیہ کو واپس لائے صفوان بن امیہ کی بیوی پہلے ہی مسلمان ہوچکی تھیں، امان ملنے کے چند دن بعد سیدنا صفوان بھی ایمان لے آئے اور اپنے دوست کی مہربانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں چلے گئے، اس آدمی کی خوش بختی اور خوش نصیبی کا کیا کہنا جو اپنے دوست کی وجہ سے جنت میں چلا جائے اور اس آدمی کی بدبختی اور بدنصیبی کا کیا ٹھکانا جو اپنے دوست کی وجہ سے جہنم میں چلاجائے۔ ایک طرف دوستی اور محبت کی یہ اہمیت نگاہ میں رکھئے اور دوسری طرف ایک نظر وطن عزیز مین نوجوان نسل پرڈالئے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت اپنے انجام سے بے خبرسٹیج ڈراموں کے اداکاروں، فلمی ستاروں، ٹی وی میں کام کرنے والوں اور کھلاڑیوں سے اس حد تک محبت کرتی ہے کہ ان کی دیکھا دیکھی دنوں میں فیشن بدل جاتے ہیں۔ فلمی ستاروں اور اداکاروں کا لباس، تراش خراش، چال ڈھال، عادات واطوار حتی کہ ان کا انداز گفتگو تک اپنانے میں لڑکے اور لڑکیاں فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنے اسلاف اور بزرگوں کے ناموں، کارناموں اور قربانیوں سے ناواقف نسل اپنے آئیڈیل فلمی ستاروں کے ناموں، حالات، واقعات سے ہی نہیں بلکہ ان کی ذاتی زندگی تک کے سارے معاملات سے اس حد تک واقف ہوتی ہے کہ ان کے کھانے پینے کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ اشیاء تک جانتی ہے ہمارے ملک کے تمام ذرائع ابلاغ (الا ماشاء اللہ) ریڈیو، ٹی وی، روزنامے، ہفت روزے، ماہنامے، اور دیگر رسائل وجرائد نئی نسل کی ’’راہنمائی‘‘کا یہ فریضہ بڑی محنت اور جانفشانی سے صبح وشام ادا کر رہے ہیں اورجب سے ملک کے سیکولر اور ماڈریٹ اسلام کے علمبردار حکمرانوں نے دوقومی نظریہ کی جگہ ایک ہی نظریہ ایک ہی کلچر، ایک ہی تہذیب کا نیا فلسفہ شروع کیا ہے تب سے مسلم اور غیر مسلم کی تمیز بھی ختم ہوگئی ہے۔ ہندی فلمیں، ہندی فلمی ستارے، ہندی گلوکار، ہندی کہانی نویس اور ہندی موسیقار بھی اب ویسے ہی آئیڈیل ہیں جیسے پاکستانی! کتنے ہی ذہین اور فطین طلباء ایسے ہوتے ہیں جو بری دوستی اور بری صحبت کی وجہ سے اپنا مستقبل برباد کر بیٹھتے ہیں اور عمر بھر اس کی تلافی نہیں کر پاتے اور کتنی ہی دیندار گھرانوں کی سعید فطرت طالبات ایسی ہوتی ہیں جو بری دوستی اور بری سوسائٹی کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھتی ہیں اور پھر ساری عمر ندامت کے آنسو بہاتے گزار دیتی ہیں۔ اس سلسلہ میں والدین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بچپن سے ہی اچھے اور نیک بچوں سے دوستی کی عادت ڈالیں۔ افسوس اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ علم وادب کے میدان میں بھی محبت اور دوستی کے اس اسلامی عقیدے کا خیال رکھنے والے بہت کم لوگ ہیں کسی آدمی کے قول اور فعل کو پسند کرنا اس سے محبت اور عقیدت ہی کی علامت ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال اورمحدثین، فقہاء اور امت کے دیگر علماء وفضلاء کے پندونصائح کو چھوڑ کرچرچل، لنکن، آئن سٹائن، ٹائن بی، فرینکلن اور کارینگی وغیرہ کے اقوال کو ’’اقوال زریں‘‘کہہ کر نصیحت کے طور پر پیش کرنا سراسر اسلامی عقیدہ ’’الولاء و البراء‘‘ کے خلاف ہے۔ سیاست میں بھی لوگوں کی اکثریت بے دین، بے نماز، کبائر کے مرتکب اور شرک و بدعت میں مبتلا سیاستدانوں کو اپنا آئیڈیل بنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتی۔ الیکشن کے موقع پر ووٹ دینے کے لئے نیکی، تقویٰ اور دینداری کو بنیاد بنانے کے بجائے کنبہ، قبیلہ، برادری اور دنیاوی مفادات کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل بھی عقیدہ "الولاء والبراء” کے سراسر خلاف ہے۔
بہت سے والدین اپنی اولاد کو بڑی محنت اور محبت سے دینی تعلیم دلواتے ہیں لیکن ان کے رشتے طے کرتے وقت دنیا کی چمک، دمک کے سامنے ان کے دینی جذبات ماند پڑجاتے ہیں اور وہ اپنے بچوں اور بچیوں کے لئے بے دین یا بدعتی یا مشرک گھرانے پسند کرتے ہیں یہ طرز عمل بھی "عقیدہ الولاء والبراء” کے خلاف ہے۔ دوستی اور محبت خواہ فحاشی اور بے حیائی پھیلانے والے فلمی ستاروں اور ٹی وی ایکٹروں سے ہویا قوم کو گمراہ کرنے والے سیاستدانوں اور دانشوروں سے ہویا بے دین، بدعتی اور مشرک لوگوں سے ہو یا کفار کے لیڈروں سے، دنیا میں بھی خرابی اور بگاڑ کا باعث بنے گی اور آخرت میں بھی حسرت وندامت کا سبب ہوگی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَ یَوۡمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیۡہِ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِی اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِیۡلًا]،[یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا] ترجمہ: اس روز ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گاکاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا ہائے میری کم بختی میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ (سورۃ الفرقان:27-28) نیک، متقی اور صالح لوگوں کی دوستی اس دنیا میں بھی اصلاح اور خیر کا باعث بنے گی اور قیامت کے روز بھی نفع بخش ثابت ہوگی ارشاد باری تعالیٰ ہے: [اَلۡاَخِلَّآءُ یَوۡمَئِذٍۭ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِیۡنَ] ترجمہ:قیامت کے روز سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے متقی لوگوں کے۔ (سورۃ الزخرف:67) پھر ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟ [فَہَلْ مِن مُّدَّکِرْ؟] اہل ایمان کے ساتھ ولاء یعنی دوستی، محبت، نصرت اور حمایت کا ایک اورپہلو بھی ہے جو اسلامی معاشرے کی اصلاح اور بھلائی کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لئے اس کا تذکرہ کرنابھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محبت اور دوستی کا جذبہ ہر انسان کی فطرت میں رکھا ہے کسی میں کم کسی میں زیادہ۔ اسلام اس فطری جذبہ کو بھی معاشرے کی بھلائی اور اصلاح کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ عقیدہ الولاء والبراء کے تحت ہرمسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق حسب موقع دوسرے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیرخواہی اور ہمدردی کرے، ان کی نصرت اور حمایت کرے۔ اس سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کے چند ارشادات پیش خدمت ہیں:

عام مسلمانوں سے محبت کا حکم:

① ارشاد نبوی ﷺ ہے: اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کروجو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ [صحيح البخاري: 13]
② آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کے رہو، کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے ترک تعلق کرے۔ [صحيح البخاري: 6065]
③ تم زمین والوں پر مہربانی کرو، آسمان والا تم پر مہربانی فرمائے گا۔ [سنن أبي داود: 4941]
④ مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پرظلم کرے نہ اسے دشمن کے حوالے کرے۔ [صحيح البخاري: 2442]

یتیموں سے محبت کا حکم:

ارشاد مبارک ہے: میں اور یتیم …رشتہ داریاغیر رشتہ دار…کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ایک ساتھ ہوں گے (آپ ﷺ نے یہ بات ارشادفرماتے ہوئے اپنے ہاتھ مبارک کی دو متصل انگلیاں اوپرکیں) [صحيح مسلم:2983]

پڑوسیوں سے محبت کا حکم:

آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا جو خود تو رات پیٹ بھرکرسویا اور اس کا پڑوسی بھوکا رہا حالانکہ اس معلوم تھا کہ اس کا پڑوسی بھوکاہے۔
[المعجم الكبير للطبراني: 754]

رنجیدہ اور غمزدہ لوگوں سے محبت کا حکم:

آپ ﷺ نے فرمایا: جوشخص کسی مسلمان سے کوئی غم اور دکھ دور کرے گا اللہ اس شخص سے قیامت کے روزکوئی غم اور دکھ دور فرما دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی روز اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ [صحيح مسلم:2699]

حاجت مندوں سے محبت کا حکم:

آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرمائے گا۔
[صحيح البخاري: 2442؛ صحيح مسلم: 2580]

محتاجوں سے محبت کا حکم:

ارشادنبوی ﷺ ہے: جو شخص کسی ننگے مسلمان کوکپڑے پہنائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کا سبز ریشم لباس پہنائے گا جو شخص کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے میوے کھلائے گا اور جو شخص کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں عمدہ شراب پلائے گا۔ [سنن أبي داود: 1682]

مریضوں سے محبت کا حکم:

ارشادنبوی ﷺ ہے: مریض کی عیادت کرنے والا جب تک واپس نہ لوٹے جنت کے باغ میں رہتاہے۔ [صحيح مسلم:2568]

مظلوموں سے محبت کا حکم:

ارشادمبارک ہے: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہویا مظلوم، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مظلوم کی مددکرنا تو واضح ہے ظالم کی مددکرنے سے کیا مرادہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کو ظلم سے روکو۔ [صحيح البخاري: 2444]

بیواؤوں اور مسکینوں سے محبت کا حکم:

فرمایا: بیوہ اور مسکین(کی مدد) کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتاہے۔ [صحيح البخاري: 5353]
اہل ایمان کے ساتھ دوستی اور محبت کے یہ دونوں پہلو ہر مسلمان کو پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ اس میں نہ صرف فرد کے لئے خیر اور بھلائی ہے بلکہ پورے معاشرے کی فلاح اورکامیابی بھی مضمر ہے۔
[اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی] اے اللہ!ہمیں اسی چیز کی توفیق عطا فرماجو تو پسند فرماتاہے اور جس سے تو خوش ہوتاہے۔ آمین!