تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر مسلمان کو لازم ہے کہ وہ ہر کام میں، خواہ اسے پسند ہو یا نا پسند، سمع و طاعت بجا لائے، بشرطیکہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا گیا ہو اور اگر اسے کسی معصیت کے کام کا حکم دیا گیا ہو تو اس میں سمع و طاعت نہیں۔ “ [بخاری، الفتن، باب السمع والطاعۃ للإمام: ۷۱۴۴]
➋ { فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ …:} اس آیت میں ایک نہایت اہم حکم دیا ہے کہ باہمی نزاع اور جھگڑے کی صورت میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع شرط ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو قرآن کی اطاعت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد آپ کی سنت کی اطاعت ہے اور یہ اطاعتیں اصل اور مستقل ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی اسلامی قانون کا مستقل ماخذ ہے۔ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اس آیت سے مقلدین تقلید کے واجب ہونے پر دلیل لیتے ہیں لیکن یہ دلیل نہیں ہو سکتی، کیونکہ ”اولی الامر “ سے بادشاہ اور حکام مراد ہیں۔ (دیکھیے فوائد موضح) اگر بعض اہل علم کے مطابق اس سے علمائے دین مراد ہیں تو اس میں اول تو کسی عالم کی تخصیص نہیں ہے، دوسرے بہ فرض تسلیم عالم کی تقلید کا حکم ہے تو وہ اسی وقت تک ہے کہ اس کا حکم قرآن و حدیث کے موافق ہو(اگرچہ یہ تقلید نہیں بلکہ قرآن و حدیث پر عمل ہے) پھر خود چاروں اماموں نے اپنی تقلید سے منع فرمایا ہے اور قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ ائمہ کے اتباع میں جھگڑا ہو تو اللہ اور رسول کی طرف رجوع ہونا چاہیے۔“ (ترجمان) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ، تابعین یا ائمہ میں اگر کسی مسئلے پر نزاع ہو تو کسی کا قول بھی حجت نہیں، بلکہ وہاں صرف قرآن و حدیث پر عمل ہو گا۔
➌ { ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا:} اگر دو مسلمان جھگڑتے ہیں اور ایک نے کہا، چل شرع کی طرف رجوع کریں، دوسرے نے کہا، میں شرع کو (کچھ) نہیں سمجھتا یا مجھے شرع سے کام نہیں وہ بے شک کافر ہوا۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ اسلامی نظام میں اصل مطاع صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی کائنات کا خالق و مالک ہے لہٰذا ہر طرح کے قانونی اور سیاسی اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ آج کی زبان میں یوں کہیے کہ قانونی اور سیاسی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ قانون سازی اور حلت و حرمت اور اوامر و نواہی کے اختیارات اسی کے لیے ہیں۔ اس وقت دنیا میں جس قدر نظام ہائے سیاست رائج ہیں ان سب میں مقتدر اعلیٰ یا کوئی انسان ہوتا ہے یا ادارہ۔ جبکہ اسلامی نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ کوئی انسان یا ادارہ نہیں ہو سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور یہی اصل اس نظام سیاست کو دوسرے تمام نظام ہائے سیاست سے ممتاز کرتی ہے۔
2۔ رسول کی اطاعت اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس اللہ کے احکام کی اس کی منشاء کے مطابق بجا آوری کا رسول کی اطاعت کے بغیر کوئی ذریعہ نہیں۔ لہٰذا رسول کی اطاعت بھی حقیقتاً اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اللہ کی اور رسول کی اطاعت ایک ہی اطاعت قرار پاتی ہے۔ علاوہ ازیں رسول کی اطاعت کی ایک مستقل حیثیت بھی ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ جہاں کتاب اللہ خاموش ہو اور رسول ہمیں کوئی حکم دے۔ خواہ یہ حکم قانون سے تعلق رکھتا ہو یعنی حلت و حرمت سے متعلق ہو یا اوامر و نواہی سے تو ایسا حکم ماننا بھی ہم پر ایسے ہی فرض ہے جیسے اللہ کی اطاعت اور چونکہ ایسی اطاعت کا بھی اللہ نے خود ہمیں حکم دیا ہے تو اس لحاظ سے یہ بھی اللہ کی اطاعت کے تحت آجاتی ہے۔
3۔ تیسری اطاعت ان حکام کی ہے جو مسلمان ہوں۔ حکام «اولي الامر» سے مراد وہ ہر قسم کے حکام ہیں جو کسی ذمہ دارانہ منصب پر فائز ہوں۔ یہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا عدلیہ سے یا علماء مجتہدین سے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تو غیر مشروط ہوتی ہے لیکن اولی الامر کی اطاعت صرف اس صورت میں ہو گی جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے خلاف نہ ہو۔ اگر خلاف ہو تو اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
4۔ اور چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اگر کسی حاکم کے اور رعایا کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو جائے، تو ایسا معاملہ (آپ کی زندگی میں) آپ کی طرف اور (آپ کی زندگی کے بعد) کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اور حَکَم کی حیثیت کتاب و سنت کی ہو گی۔ اور آخر میں یہ بتا دیا گیا کہ اگر تم نے ان چار اصولوں میں سے کسی بھی اصول میں کوتاہی کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تمہارا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ اور اگر تمہارا اللہ اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ سچا ہے تو تمہیں بہرحال ان چار اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہو گا اور جب تک تم نے ان چاروں امور کا خیال رکھا اس وقت تک تمہارے اخلاق و کردار درست اور تمہاری حکومت مستحکم رہے گی۔ امیر یا حاکم کی اطاعت کس قدر ضروری ہے اور کن حالات میں ضروری ہے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔
[مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء۔۔ بخاری، کتاب الاحکام۔ باب قولہ اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول۔۔]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر شخص پر امیر کا حکم سننا اور اسے ماننا فرض ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے اور اگر اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر نہ ایسے حکم کو سننا لازم ہے اور نہ اس کی اطاعت“
[بخاری، کتاب الاحکام، باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ]
3۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص امیر کی اطاعت اور جماعت سے الگ ہوا، پھر اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جو شخص کسی اندھے (جھنڈے) کے تحت لڑائی کرے اور تعصب کے لیے جوش دلائے یا تعصب کی طرف بلائے اور تعصب کے لیے مدد کرے پھر مارا جائے تو وہ بھی جاہلیت کی موت مرا۔“
[مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب ملازمۃ المسلمین]
4۔ سیدنا حارثؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔ (امیر کا حکم) سننا اور اطاعت کرنا، جہاد کرنا، ہجرت کرنا اور جماعت (سے چمٹے رہنا) کیونکہ جو شخص بالشت بھر بھی جماعت سے الگ ہوا اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔ الا یہ کہ وہ واپس لوٹ آئے۔“
[ترمذی ابواب الامثال]
5۔
[بخاری، کتاب الاحکام۔ باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔۔ مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عنقریب فتنے فساد ہوں گے تو جو اس امت کے معاملہ میں تفرقہ ڈالے جبکہ وہ متحدہ ہو۔۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جماعت کا کسی ایک شخص پر اتحاد و اتفاق ہو اور وہ شخص تمہاری جمعیت میں پھوٹ ڈالنا چاہے تو اس کی گردن اڑا دو۔ خواہ وہ کوئی ہو۔“
[مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب من فرق امر المومنین و ہو مجتمع]
یہ تو اطاعت امیر سے متعلقہ احکام تھے۔ اب امیر سے تنازعہ کا مسئلہ یوں ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعبؓ کا مکان اس میں رکاوٹ تھی۔ سیدنا عمرؓ نے ابی بن کعبؓ سے کہا بلکہ انہیں مجبور کیا کہ وہ جائز قیمت لے کر مکان دے دیں لیکن ابی بن کعبؓ مکان کو فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ تنازعہ بڑھ گیا تو فریقین نے جن میں مدعی حکومت وقت یا امیر المومنین سیدنا عمرؓ تھے اور مدعا علیہ سیدنا ابی بن کعبؓ سیدنا زید بن ثابتؓ کو اپنا ثالث (یا عدالت) بنانا منظور کر لیا۔ تنقیح طلب معاملہ یہ تھا کہ اسلام انفرادی ملکیت کو کس قدر تحفظ دیتا ہے اور آیا اجتماعی مفاد کی خاطر انفرادی مفادات کو قربان کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ کتاب و سنت کی رو سے سیدنا زید بن ثابتؓ نے اس مقدمہ کا فیصلہ سیدنا عمرؓ کے خلاف دے دیا۔ جب سیدنا ابی بن کعبؓ نے مقدمہ جیت لیا تو انہوں نے یہ مکان بلا قیمت ہی مسجد کی توسیع کے لیے دے دیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنازعہ در اصل مکان کی فروخت کا نہیں بلکہ ضد بازی اور امیر اور اس کی رعیت کے درمیان اپنے اپنے حقوق کی تحقیق سے تعلق رکھتا تھا۔ جب سیدنا عمرؓ نے ابی بن کعبؓ کو مکان فروخت کر دینے پر مجبور کیا تو سیدنا ابی بن کعبؓ جو اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ کسی چیز کا مالک اسے بیچنے یا نہ بیچنے کے مکمل اختیارات رکھتا ہے، تو وہ بھی احقاق حق کے لیے ڈٹ گئے اور ثالث نے فیصلہ بھی انہی کے حق میں دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بخاری و مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا جس کی سرداری ایک انصاری رضی اللہ عنہ کو دی ایک مرتبہ وہ لوگوں پر سخت غصہ ہو گئے اور فرمانے لگے کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری فرمانبرداری کا حکم نہیں دیا؟ سب نے کہا ہاں بیشک دیا ہے، فرمانے لگے اچھا لکڑیاں جمع کرو پھر آگ منگوا کر لکڑیاں جلائیں پھر حکم دیا کہ تم اس آگ میں کود پڑو۔ ایک نوجوان نے کہا لوگو سنو آگ سے بچنے کے لیے ہی تو ہم نے دامن رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پناہ لی ہے تم جلدی نہ کرو جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہ ہو جائے پھر اگر آپ بھی یہی فرمائیں تو بے جھجھک اس آگ میں کود پڑھنا چنانچہ یہ لوگ واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے فرمایا: ”اگر تم اس آگ میں کود پڑھتے تو ہمیشہ آگ ہی میں جلتے رہتے۔ سنو فرمانبرداری صرف معروف میں ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4340]
ابوداؤد میں ہے کہ { مسلمان پر سننا اور ماننا فرض ہے جی چاہے یا طبیعت رو کے لیکن اس وقت تک کہ (اللہ تعالیٰ اور رسول کی) نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، جب نافرمانی کا حکم ملے تو نہ سنے نہ مانے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2955]
بخاری شریف میں ہے { سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام امیر بنایا گیا ہو چاہے کہ اس کا سر کشمکش ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:693]
مسلم کی ہی اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا: ”چاہے تم پر غلام عامل بنایا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق تمہارا ساتھ چاہے تو تم اس کی سنو اور مانو۔“
ایک روایت میں { غلام حبشی اعضاء کٹا کے الفاظ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1838]
ابن جریر میں ہے کہ { میرے بعد والے تم سے ملیں گے نیکوں سے نیک اور بدوں سے بد تم ہر ایک اس امر میں جو مطابق ہو ان کی سنو اور مانو کہ میرے بعد نیک سے نیک اور بد سے بد تم کو ملیں گے تم پر ایک میں نے جو حق پر ہو اس کا سننا اور ماننا تم سے اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہو اگر وہ نیکی کریں گے۔ تو ان کے لیے تفع ہے اور تمہارے لیے بھی اور اگر وہ بدی کریں گے تو تمہارے لیے اچھائی ہے اور ان پر گناہوں کا بوجھ ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9881:ضعیف]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اپنے امیر کا کوئی ناپسندیدہ کام دیکھے اسے صبر کرنا چاہیئے جو شخص جماعت کے بالشت بھر جدا ہو گیا پھر وہ جاہلیت کی موت مرے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7143]
ارشاد ہے { جو شخص اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے حجت و دلیل بغیر ملاقات کرے گا اور جو اس حالت میں مرے کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1851]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں اولیٰ الامر سے مراد سمجھ بوجھ اور دین والے ہیں یعنی علماء ظاہر بات تو یہ معلوم ہوتی ہے آگے حقیقی علم اللہ کو ہے کہ یہ لفظ عام ہیں امراء علماء دونوں اس سے مراد ہیں جیسے کہ پہلے گزرا قرآن فرماتا ہے «لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ» ۱؎ [5-المائدة:63] یعنی ’ ان کے علماء نے انہیں جھوٹ بولنے اور حرام کھانے سے کیوں نہ روکا؟ ‘ اور جگہ ہے «فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [16-النحل:43] ’ حدیث کے جاننے والوں سے پوچھ لیا کرو کہ اگر تمہیں علم نہ ہو۔‘
پس یہ ہیں احکام علماء امراء کی اطاعت کے اس آیت میں ارشاد ہوتا کے کہ اللہ کی اطاعت کرو یعنی اس کی کتاب کی اتباع کرو اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اے اللہ کے رسول! یعنی اس کی سنتوں پر عمل کرو اور حکم والوں کی اطاعت کرو یعنی اس چیز میں جو اللہ کی اطاعت ہو، اللہ کے فرمان کے خلاف اگر ان کا کوئی حکم ہو تو اطاعت نہ کرنی چاہیئے ایسے وقت علماء یا امراء کی ماننا حرام ہے جیسے کہ پہلی حدیث گزر چکی کہ { اطاعت صرف معروف میں ہے یعنی فرمان اللہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرے میں }۔ مسند احمد میں ہے اس سے بھی زیادہ صاف حدیث ہے جس میں ہے { کسی کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے فرمان کے خلاف جائز نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:426/4:،قال الشيخ الألباني:صحیح]
آگے چل کر فرمایا کہ اگر تم میں کسی بارے میں جھگڑ پڑے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف جیسے کہ مجاہد رحمہ اللہ کی تفسیر ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:504/8] پس یہاں صریح اور صاف لفظوں میں اللہ عزوجل کا حکم ہو رہا ہے کہ لوگ جس مسئلہ میں اختلاف کریں خواہ وہ مسئلہ اصول دین سے متعلق ہو خواہ فروغ دین سے متعلق اس کے تصفیہ کی صرف یہی صورت ہے کہ کتاب و سنت کو حاکم مان لیا جائے جو اس میں ہو وہ قبول کیا جائے، جیسے اور آیت قرآنی میں ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ» ۱؎ [42-الشورى:10] یعنی ’ اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے ‘
پس کتاب و سنت جو حکم دے اور جس مسئلہ کی صحت کی شہادت دے وہی حق ہے باقی سب باطل ہے، قرآن فرماتا ہے کہ حق کے بعد جو ہے ضلالت و گمراہی ہے، اسی لیے یہاں بھی اس حکم کے ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو، یعنی اگر تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو تو جس مسئلہ کا تمہیں علم نہ ہو یعنی جس مسئلہ میں اختلاف ہو، جس امر میں جدا جدا آراء ہوں ان سب کا فیصلہ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرو جو ان دونوں میں ہو مان لیا کرو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمر بطاعتِهِ وطاعة رسولِهِ، وذلك بامتثال أمرهما الواجب والمستحبِّ واجتناب نهيهِما، وأمر بطاعة أولي الأمر، وهم الولاة على الناس من الأمراء والحكَّام والمفتين؛ فإنَّه لا يستقيمُ للناس أمرُ دينهم ودُنياهم إلاَّ بطاعِتِهم والانقيادِ لهم. طاعةً لله ورغبةً فيما عنده، ولكن بشرط أن لا يأمروا بمعصية الله؛ فإنْ أمروا بذلك؛ فلا طاعة لمخلوق في معصية الخالق. ولعل هذا هو السرُّ في حذف الفعل عند الأمر بطاعتهم وذِكْرِهِ مع طاعة الرسول؛ فإنَّ الرسول لا يأمر إلا بطاعة الله، ومَنْ يُطِعْهُ؛ فقد أطاع الله، وأما أولو الأمر؛ فشرطُ الأمرِ بطاعتهم أن لا يكونَ معصيةً.
ثم أمَرَ بردِّ كلِّ ما تنازع الناس فيه من أصول الدين وفروعه إلى الله وإلى الرسول ؛ أي: إلى كتاب الله وسنة رسوله؛ فإنَّ فيهما الفصل في جميع المسائل الخلافيَّة: إمَّا بصريحهما أو عمومهما أو إيماءٍ أو تنبيهٍ أو مفهوم أو عموم معنى يُقاسُ عليه ما أشبهه؛ لأنَّ كتاب الله وسنة رسوله عليهما بناءُ الدين، ولا يستقيم الإيمان إلاَّ بهما؛ فالردُّ إليهما شرطٌ في الإيمان؛ فلهذا قال: {إن كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر}: فدلَّ ذلك على أنَّ من لم يردَّ إليهما مسائلَ النزاع؛ فليس بمؤمن حقيقةً، بل مؤمنٌ بالطاغوت؛ كما ذكر في الآية بعدها. {ذلك}؛ أي: الردُّ إلى الله ورسوله، {خيرٌ وأحسنُ تأويلاً}؛ فإنَّ حُكم الله ورسوله أحسنُ الأحكام وأعدلُها وأصلحُها للناس في أمر دينهم ودُنياهم وعاقبتهم.